راجن پورمیں آٹابحران برقرار،سیل پوائنٹس پراب بھی لائنیں

    راجن پورمیں آٹابحران برقرار،سیل پوائنٹس پراب بھی لائنیں

  



ڈیرہ غازی خان (نمائندہ خصوصی) صوبہ پنجاب میں آ ٹے کا بحران تقریبا دم توڑ چکا لیکن راجن پور میں اسکے آثار ابھی تک نمایاں ہیں جبکہ دوسرے ضلع میں آٹا وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن خریدار نہ ہیں جبکہ راجن پور میں اب بھی سیل پوائنٹس پرقطاریں نظر آ رہی ہیں جسکی سب سے بڑ ی وجہ حکومت کی جانب سے سپلائی اور ڈیمانڈ میں واضح فرق ہے 2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع راجن پور کی آبادی (بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

تقریبابیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اسکے آ ٹے کا کوٹہ 820 بوری یومیہ ہے جس سے 50400 کلو آٹا روزانہ بنتا ہے یعنی 39.7 آدمیوں کیلئے ایک کلو آٹا روزانہ دستیاب ہے جبکہ دوسری طرف لیہ کی آبادی 2017 کی مطابق 18 لاکھ تھی اور اسکا یومیہ کوٹہ 2880 بوری ہے جس سے یومیہ 172800 کلو آٹا بنتا ہے یعنی 10.4 آدمیوں کیلئے ایک آٹا جبکہ ڈیرہ غازی خان میں روزانہ 11 آدمیوں کو ایک کلو آٹا دستیاب ہے دوسری طرف ہمارے ہمسایہ ضلع رحیم یار خان میں روزانہ 10.00000 کلو آٹا دستیاب ہے یعنی 14.8 آدمیوں کیلئے ایک کلو آٹا روزانہ اگر یہی صورتحال رہی تو راجن پور سے آٹے کا بحران ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا NFC ایوارڈ کی تقسیم کے وقت بھی سب سے زیادہ اہمیت آبادی کو دی جاتی تھی اور اسی کے مطابق وسائل تقسیم ہوتے ہیں اس بحران کا حل یہ ہے کہ یا تو روزانہ کی بنیاد پر کوٹہ بڑھایا جائے یا ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان سے آٹا منگوایا جا? 2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع راجن پور وہ واحد ضلع ہے پنجاب کا جسکا poverty level 50فیصد سے زائد ہے یعنی پنجاب کا سب سے پسماندہ اور ضلع ہے ضلع کے اندر بھی آٹے کی تقسیم میں عدم توازن ہے اس کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

آٹا

مزید : ملتان صفحہ آخر