وفاقی،صوبائی ِمحکموں میں لیگل ایڈوائزر مقرر کرنے پر سپریم کورٹ کانوٹس، رپورٹ طلب

      وفاقی،صوبائی ِمحکموں میں لیگل ایڈوائزر مقرر کرنے پر سپریم کورٹ ...

  



ملتان (خبر نگار خصوصی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں کی جانب سے اپنے لیگل ایڈوائزر مقرر کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب(بقیہ نمبر22صفحہ12پر)

کی ہے کہ وہ تمام لیگل ایڈوائزرز کے تقرر ناموں کی نقول اور شرائط ملازمت کی تفصیل بھی ارسال کریں۔ کیونکہ رولز 2011 کے تحت کسی بھی سرکاری وفاقی و صوبائی محکمہ کو اپنا وکیل مقرر کرنے کی اجازت نہیں ہے حکومت کے مقرر کردہ لاء آگیسرز جن میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل،اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل، ڈسٹرکٹ اٹارنیز، ڈپٹی اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، مقدمات میں سرکاری موقف پیش کرنے کے لیے موجود ہیں حکومت انہیں ماہانہ بھاری رقم ادا کرتی ہے۔تاہم خود مختار ادارے جن میں یونیورسٹیز انشورنس کمپنیز وغیرہ اپنے لیگل ایڈوائزر مقرر کر سکتی ہیں بتایا گیا ہے کہ عدالت عظمی نے محکمہ صحت پنجاب اور نشتر ہسپتال کی جانب سے ایم ایس کے خلاف کیس میں میں پرائیویٹ وکلا کے پیش ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا تمام محکموں نے اپنے وکیل رکھے ہوئے ہیں کیا وہ سرکاری لاء آفیسرز سے استفادہ نہیں کرتے۔ اس طرح قومی سرمائے کا ضیاع ہو رہا ہے۔

طلبض

مزید : ملتان صفحہ آخر