شارٹ سرکٹ، تیزگام ٹرین حادثے کی وجہ، نئی انکوائری رپورٹ میں انکشاف

    شارٹ سرکٹ، تیزگام ٹرین حادثے کی وجہ، نئی انکوائری رپورٹ میں انکشاف

  



ملتان(نمائندہ خصوصی)تیزگام ٹرین حادثہ شارٹ سرکٹ کے باعث ہوا، انکوائری رپورٹ نے ریلوے حکام کی ابتدائی تحقیقات کو غلط قرار دے دیا، تیز گام ٹرین حادثے کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے سے نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ سے ہوا۔ سابق فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کی جانب سے مرتب شدہ انکوائری رپورٹ کی سیکرٹری ریلوے حبیب الرحمٰن گیلانی نے (بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

منظوری دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 30 اکتوبر کو ہونے والے تیز گام ٹرین حادثے کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی جس کے مطابق آتشزدگی کی وجہ سلنڈر دھماکہ نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ تھا۔ رپورٹ کے مطابق آگ کچن میں الیکٹریکل کیٹل کی وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، تار میں ناقص جوڑ اور ہیٹ اپ ہونے سے شارٹ سرکٹ ہوا۔ انکوائری میں کہا گیا ہے کہ بوگی نمبر12میں بجلی بوگی نمبر11 سیغیرقانونی طور پرلی گئی تھی، آگ نے بوگی نمبر12 کی تمام وائرنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ لگنے سے پوری بوگی میں دھواں بھر گیا۔ رپورٹ کے مطابق آگ دروازے کے پاس پڑے مسافروں کے سامان میں بھی لگی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرین میں آگ بجھانے والے آلات کی کمی تھی جس سے آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ رپورٹ میں کراچی کے ڈپٹی ڈی ایس، ڈویژنل کمرشل آفیسر، حیدر آباد کے ریزرویشن کلرک، انسپکٹر، ایس ایچ او، ڈائننگ کار کے ٹھیکیدار، ویٹرز، ایس ایچ او خانپور امداد علی سمیت دیگر افسران و اہلکاروں کو حادثے کا ذمے دار قرار دیا گیا۔ واضح رہے کہ رپورٹ میں درج تمام ذمہ داروں کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ 30 اکتوبر 2019 ء کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے علاقے لیاقت پور کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی کے باعث 75 افراد جاں بحق اور متعدد مسافر زخمی ہوگئے تھے۔ تیزگام ایکسپریس کو حادثہ صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا تھا۔ ریلوے کی ابتدائی تحقیقات میں سانحہ تیزگام میں آگ کی وجہ سلنڈر دھماکا قرار دیا گیا تھا، اس وقت پاکستان ریلوے کی ٹیم نے ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا تھا کہ تیزگام ٹرین سانحے کی بنیادی وجہ 2 سلنڈروں سے گیس لیک ہونے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے ہیں جبکہ کسی شارٹ سرکٹ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

انکشاف

مزید : ملتان صفحہ آخر