سارے جہاں کو چور کہنے والے شیخ رشید کے محکمے کو عدالت نے کرپٹ قرار دیدیا، چانڈیو

  سارے جہاں کو چور کہنے والے شیخ رشید کے محکمے کو عدالت نے کرپٹ قرار دیدیا، ...

  



لاہور(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ سارے جہاں کو چور کہنے والے شیخ رشید کے محکمے کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کرپٹ قرار دیدیا ہے،ہم غیر قانونی طریقے سے حکومت کی تبدیلی کیخلاف ہیں مگر جمہوری طریقے کے حق میں ہیں، موجودہ حکومت ٹک ٹاک اور ٹیکوں پر چل رہی ہے،عمران خان کو ٹیکے لگانے کا وقت گزر گیا اب خیر منائیں،ہم چاہتے ہیں عمران خان جیسے آئے ویسے ہی باعزت واپس جائیں اورانہیں مزید ٹیکوں کی ضرورت نہ پڑے،آئی جی سندھ کو لگانے اورہٹانے کا اختیار صوبے کا ہے،پنجاب نے کئی آئی جیز کو ہٹا دیا،یہی کام سندھ میں ہوتو وفاق کا استحقاق متاثر ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کے ہمراہ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مولابخش چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی سطح کی جمہوری سیاست کرتی ہے، سینیٹ کی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی پیپلز پارٹی ہی اصل اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے،سینیٹ اوراسمبلیوں میں (ن) لیگ بھی اپوزیشن نشستوں پر بیٹھی ہے اور وہ بھی اپنا کردار ادا کرے،پیپلز پارٹی ہمیشہ سے سودے بازی کے خلاف مگرپاکستان کے تحفظ اور مفاد کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، بھٹوشہید اور بی بی شہید پر تنقید ہوتی رہی اور آج بھی آصف زرداری پر تنقید ہورہی ہے، بلاول بھٹو اپنے نانا کے قدموں پر چلتے ہوئے وقت سے پہلے بات کرتے ہیں، ذوالقفار بھٹواور بے نظیر بھٹو کی طرح بلاول بھی اپنی سیاسی چھاپ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارے جہاں کو چور چور کہنے والے شیخ رشید کے محکمے کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کرپٹ قرار دیدیا ہے،بین القوامی ادارے نے کہہ دیا موجود حکومت کرپٹ ہے،موجود حکومت کی پہچان صرف بحران ہیں،عمران خان کا ہر دن پاکستان کیلئے مشکل ترین ثابت ہورہا ہے،دوسروں کو چور چور کہنے والے اپنی کارکردگی کے بارے کو عوام کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم غیر قانونی طریقے سے حکومت کی تبدیلی کیخلاف ہیں مگر جمہوری طریقے کے حق میں ہیں، یہ حکومت ٹک ٹاک اور ٹیکوں پر چل رہی ہے،عمران خان کو ٹیکے لگانے کا وقت گزر گیا اب خیر منائیں،ہم چاہتے ہیں عمران خان جیسے آئے ویسے ہی باعزت واپس جائیں اورانہیں مزید ٹیکوں کی ضرورت نہ پڑے۔

چانڈیو

مزید : صفحہ آخر