عمران خان کا بولڈ فیصلہ، عثمان بزدار ناٹ آؤٹ ہیں!

عمران خان کا بولڈ فیصلہ، عثمان بزدار ناٹ آؤٹ ہیں!

  



لاہور سے چودھری خادم حسین

وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت کے اندر ہونے والی ”منفی“ سرگرمیوں کا سخت نوٹس لے لیا اور کرکٹ کے انداز میں فیصلہ کن عمل کر ڈالا۰ اس سے وہ تمام سرگرمیاں ماند پڑ گئیں جو ”تبدیلی“ کے اندر ”تبدیلی“ کے لئے جاری تھیں۔ کپتان گزری اتوار کو لاہور آئے تو انہوں نے اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی سے ایک طویل ملاقات کی۔ اس میں حلیف جماعت مسلم لیگ (ق) کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ منتخب نمائندوں کے اس اجلاس میں عمران خان نے دھماکہ کر دیا اور ان تمام افواہوں خبروں اور سرگرمیوں کو بریک لگا دی جو تین صوبوں پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے کے وزراء اعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے جاری تھیں وزیراعظم نے لاہور کے اجلاس میں بتایا کہ کے پی کے کے تین وزراء کو برطرف کر دیا گیا اور پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ سردار عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ رہیں گے انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیا وزیراعلیٰ لایا گیا تو وہ 20دن بھی نہیں ٹک سکے گا۔ وزیراعظم کا یہ قدم ان کے مضبوط اعصاب کی دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ، یکایک ہی چپ لگ گئی اور سرگرمیوں میں ملوث افراد نے بھی اپنے اقدامات پر غور کیا۔ چنانچہ وزیراعلیٰ پنجاب جوں کے توں موجود ہیں اور اس فیصلے کے خلاف معترض حضرات بھی دم سادھ گئے ہیں، وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ کون سازش کر رہا ہے ایسا کرنے والوں کو کچھ نہیں ملنے والا۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ دبنگ فیصلہ ہے جو حالات کو معمول پر لائے گا تاہم فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے آنا ممکن نہیں کہ شکائت کرنے والے بھی انہی کی پارٹی کے ہیں، تاہم یہ بات معنی خیز ہے کہ اس اجلاس کو تحریک انصاف تک محدود رکھا، حتیٰ کہ مسلم لیگ (ق) کو بھی نہیں بلایا گیا۔ اب اس امرپر نظر رکھنا ہو گی کہ روایت کے مطابق تو مرکزی لیڈر / قیادت کے سامنے کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ ردعمل ضرور ہوتا ہے، چاہے اس میں تاخیر ہو جائے۔

ہفتہ رفتہ میں لاہور سرگرمیوں کا مرکز رہا، وزیراعظم آئے اور انہوں نے وزیراعلیٰ کے حوالے سے ”تبدیلی والوں“ کو مایوس کر دیا، اب ان کو صبر کرنا ہو گا اور اگر پلے کچھ ہے تو پھر تحریک عدم اعتماد والی کوشش اب کرکے دیکھ لیں کہ رانا تنویر حسین اور رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے باغی گروپ کے مسلم لیگ (ق) کے اراکین کے ساتھ رابطے ہیں۔ دوسری طرف اس امر کو معنی خیز سمجھاجا رہا ہے کہ وزیراعظم کے اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کے اراکین کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔

صدر مملکت عارف علوی کی لاہور آمد ہوئی۔ یہاں انہوں نے مصروف دن گزارا بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان میچ دیکھنے کے علاوہ کئی تقریبات میں حصہ لیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی والوں کو شائد بہانہ یا موقع چاہیے ہوتا ہے کہ وہ کوئی سرگرمی دکھائیں چنانچہ حال ہی میں جیالوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی سالگرہ منا ڈالی جو 30برس کی ہو گئی ہیں۔ جیالوں نے کوئی بڑی تقریب تو منعقد نہ کی، تاہم کیک ضرور کاٹے اور سالگرہ کی مبارک باد دی گئی، بلاول بھٹو زرداری بھی متحرک ہونے کو ہیں اور وہ اگلے ماہ سے مرکزی پنجاب کا تفصیلی دورہ کریں گے، یہاں ورکرز کنونشنز اور دیگر تقریبات سے خطاب کریں گے۔ ساہیوال سے شروع ہونے والا ان کا دورہ پاکپتن، اوکاڑہ سے ہوتا ہوا لاہور آئے گا اور وہ گوجرانوالہ شیخوپورہ اور فیصل آباد بھی جائیں گے۔

بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں نے مقبوضہ کشمیر کے علاوہ آزادکشمیر، پاکستان کے دوسرے شہروں اور دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا اور کشمیریوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی بڑی جیل میں منتقل کر رکھا ہے اس سلسلے میں جماعت اسلامی نے بھی ریلی نکالی۔ امیر جماعت سراج الحق نے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کشمیر کمیٹی کو فعال کرنے اور دنیا بھر میں کشمیریوں کے لئے مہم چلانے کا اعلان اور مطالبہ بھی کیا ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ثابت ہوئی جو ملکی افراد کو بے روزگار کر رہی ہے اور مہنگائی پیدا کرتی چلی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا سب جماعتیں ناکام ہو چکیں اب صرف جماعت اسلامی رہ گئی۔ اس بار موسم سرما طویل ہو گیا کہ گزشتہ دنوں دو روز تک دھوپ نکلی تاہم گزشتہ روز سے پھر بوندا باندی، فضا ابرآلود رہی اور موسم سرد ہو گیا۔ محکمہ موسمیات نے ابھی مزید بارش اور سردی کی پیش گوئی کر دی ہے، اس سے عام سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں، اس بار یہ موسم فروری کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی 20سیریز اختتام پذیر ہوئی انتظامیہ کی طرف سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ شہریوں نے برداشت بھی کیا اور میچوں میں دلچسپی بھی۔ پاکستان سیریز کا فاتح ٹھہرا، تاہم ٹریفک کے لئے جو انتظامات کئے گئے وہ ناکافی ٹھہرے اور شہریوں کو آمد و رفت میں پریشانی ہوئی کیونکہ ٹریفک پلان (جو دیا گیا)کے مطابق انتظامات نہ ہو سکے اور کئی سڑکیں بند رکھی گئیں۔

مزید : ایڈیشن 1