خیبرپختون خوا، تبدیلی آ گئی، تین وزیر برطرف، خٹک فاتح!

خیبرپختون خوا، تبدیلی آ گئی، تین وزیر برطرف، خٹک فاتح!

  



خیبرپختونخوا آج کل تبادلوں اور تبدیلیوں کی زد میں ہے، اعلیٰ افسروں کے تبادلے اور وزراء کی تبدیلیاں ہر سطح پر موضوع بحث ہیں، ملک کے طول و عرض میں کے پی کے کا یہ منظر نامہ ٹاک آف دی ٹاؤن ہے۔ چند ماہ قبل تک کہا جا رہا تھا کہ تبدیلی آ رہی ہے لیکن اب خیبرپختونخوا کی حد تک تو تبدیلی آ چکی ہے، چھ سال قبل وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے لئے شروع ہونے والی دوڑ کا دو روز قبل ڈراپ سین ہو گیا، پرویز خٹک اور عاطف خان کے درمیان 2013ء کے انتخابات کے بعد جاری سرد جنگ 2018ء کے الیکشن کے بعد محمود خان اور عاطف خان میں تبدیل ہو گئی، وفاق میں جانے کے بعد پرویز خٹک اس جنگ کا اہم کردار بنے رہے جبکہ محمود خان کی حیثیت محض ایک ”سلیپنگ پارٹنر“ جیسی تھی۔ اس بات سے قطع نظر کہ سینئر صوبائی وزیر عاطف خان، وزیر صحت شہرام تراکئی اور وزیر مال و ریونیو شکیل احمد کو بیک جنبش قلم وزارتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، اس کا نقصان ہوتا ہے یا فائدہ، لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ ایک بولڈ سٹیپ ہے اور وزیر اعلیٰ محمود خان کو اس اقدام سے تقویت ملے گی جبکہ پی ٹی آئی بھی کے پی کے کی حد تک زیادہ مستحکم ہو جائے گی۔وزارت اعلیٰ کے حصول کے لئے لگی ہوئی اس دوڑ کے پس منظر کو جانے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہو گا کہ محمود خان اور عاطف خان میں وجہ تنازعہ کیا ہے، در اصل کرسی کی یہ جنگ محمود خان اور عاطف خان کے درمیان نہیں بلکہ اصل فریق پرویز خٹک اور عاطف خان ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ

کابینہ سے فراغت کے ماسٹر مائینڈ وفاقی وزیر دفاع، سابق وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک ہیں، جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مذکورہ وزراء کی صوبائی حکومت کے خلاف مبینہ سازش سے آگاہ کیا اور اس بات پر قائل کیا کہ انہیں فارغ نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریشہ دوانیوں میں اضافہ ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد جہاں پرویز خٹک نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا وہاں وزیراعلیٰ محمود خان کو بڑا سہارا فراہم کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے، اس کے پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2013ء کے الیکشن کے بعدصوبائی وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے حوالے سے پرویز خٹک اور اسد قیصر بنی گالہ میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے ساتھ بیٹھے تھے تو دونوں نے اپنے آپ کو وزارت اعلیٰ کا مضبوط امیدوار ظاہر کیا اور دونوں عہدہ لینے پر اصرار بھی کرتے رہے، عمران خان یہ کہہ کر وہاں سے چلے گئے کہ میں ایک ضروری کام جا رہا ہوں آپ دونوں آپس میں معاملات طے کرلیں اور میری واپسی پر مجھے فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔ اس حوالے سے پرویز خٹک کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر اسد قیصر کو منانے میں کامیاب ہوگئے پھر ایک نیا معاملہ سامنے آ گیا جب عاطف خان نے پرویز خٹک کو سی ایم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں زیادہ مضبوط امیدوار ہوں اس پر پارٹی کے اندر ووٹنگ بھی کروائی جاسکتی ہے۔ پارٹی قائد نے فیصلہ کیا کہ پہلے ڈھائی سال پرویز خٹک وزیراعلیٰ ہونگے اور اگلے ڈھائی سال عاطف خان کو وزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا۔ معاملہ حل ہوگیا لیکن ڈھائی سال گزرنے کے بعد پرویز خٹک اپنا مضبوط گروپ بنانے میں کامیاب ہوگئے اور وزارت اعلیٰ چھوڑنے سے انکار کردیا جس کے بعد عاطف خان اور پرویز خٹک میں پوری حکومت کے دوران مسلسل سرد جنگ جاری رہی۔ 2018ء کے انتخابات میں پرویز خٹک نوشہرہ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، وہ اس مرتبہ بھی وزارت اعلیٰ کے خواہشمند تھے لیکن قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نشستیں محدود ہونے کے باعث عمران خان نے انہیں صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جس کے بعد عاطف خان نے اپنے آپ کو وزارت کے طاقتور امیدوار کے طور پر پیش کیا لیکن پرویز خٹک نے ناصرف محمود خان کا نام پیش کردیا بلکہ عمران خان کو اس نام پر راضی بھی کرلیا۔ محمود خان صوبائی سیاست میں زیادہ طاقتور نہیں تھے اور ان کی رسائی محض پرویز خٹک تک تھی لیکن عاطف خان جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی جیسے پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں سے اچھے مراسم بھی رکھتے تھے، انہوں نے اپنے لئے بھرپور لابنگ کی۔ معاملہ عمران خان تک پہنچا تو انہوں نے پھر محمود خان اور عاطف خان میں ڈھائی ڈھائی سال کا فیصلہ کروا دیا۔

اس سارے معاملے میں پرویز خٹک نئے دور حکومت میں بھی خاصے سرگرم رہے، ایک طرف جہاں وہ وفاق میں حکومت مخالف تحریکوں یا سرگرمیوں کو ختم کروانے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرتے رہے تو دوسری جانب خیبرپختونخوا کے حکومتی و سیاسی امور میں بھرپور مصروف دکھائی دیئے۔ جب عاطف خان اور ان کے اقربا کے قلم دان تبدیل کئے گئے تب بھی محمود خان کو پرویز خٹک کی رہنمائی حاصل تھی، اس سے قبل چیف سکریٹری، سیکرٹری اطلاعات اور آئی جی پولیس کے تبادلوں میں بھی وہ خاصے متحرک تھے، معاملہ یہیں تک نہیں رکا بلکہ نوبت عاطف خان، شہرام تراکئی اور شکیل احمد سے وزارت کا قلم دان واپس لینے تک جا پہنچی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ کے پی کے میں کئے جانے والے تمام اہم فیصلوں کو وزیر اعظم عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہے لیکن کپتان کو رضا مند کرنے کی ذمہ داری بھی پرویز خٹک نے ہی انجام دی۔ چونکہ گزشتہ دور حکومت سے پاکستان تحریک انصاف کے پی کے کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کے اعلانات کرتی آئی ہے اس لئے ملک بھر کے عوام کی نظریں بھی خیبر پر ہی مرکوز ہیں اور یہاں کئے جانے والے فیصلے دوسرے صوبوں کے لئے بھی اہمیت کے حامل ہیں، ویسے تو پنجاب میں بھی تبدیلی کی افواہیں ایک سال سے گردش میں ہیں اور عمران خان ہر مرتبہ دورہ لاہور کے دوران ان افواہوں پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ اب خیبر میں مضبوط سمجھے جانے والے عاطف خان گروپ کو وزارتوں سے فارغ کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان ہی رہیں گے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اصل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک ہی ہیں اور وفاقی وزیر دفاع ہونے کے باوجود صوبے میں بھی انہیں کا سکہ چلتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1