حکومت آٹا بحران سے نکل چکی، مافیا نے کام دکھایا، تحقیق کے بعد کون انکشاف اور کارروائی کرے گا؟

حکومت آٹا بحران سے نکل چکی، مافیا نے کام دکھایا، تحقیق کے بعد کون انکشاف اور ...

  



ملتان سے شوکت اشفاق

تحریک انصا ف کی حکومت آٹا بحران سے تقریبا نکل چکی ہے اب یہ بحران کیسے آیا کس نے پیدا کیا یا کرایا اور کون کون اس میں ملوث تھا اس بارے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کے علم میں لانا بھی ضروری ہے کیونکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ گند م کے ذخائر موجود تھے مگر یکد م کمی ہونے کا واویلا کس نے کی اور کچھ دنوں کیلئے ہی سہی مگر آٹا عوام کی پہنچ سے دور کردیا گیا،اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں سیاست دان اور بیوروکریٹس سمیت متعدد وزراء بھی شامل تھے کیونکہ نومبر تک وافر گندم موجود تھی اور زیادہ سے زیادہ قیمت فی40کلو گرام 1550روپے تک تھی مگر یہ ذخائر حیرت انگیز طور پر کاغذوں،ہی میں غائب ہوگئے اور یوں یہ 2000روپے تک جا پہنچی جبکہ مختلف شہروں میں آٹا پیسنے والی ملوں کا کوٹہ بھی غیر ضروری طور پر کم کردیا گیا جس سے مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی میں کمی ہوئی لیکن ڈیمانڈ وہی رہی جس کا فائدہ اٹھا کر فلو ر ملز مالکان نے آٹے کی قیمت میں من مانا اضافہ کردیا جو دراصل ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصولوں کے مطابق ہی تھا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے بحران میں وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی نہ صرف یہ بلکہ وفاقی اور صوبائی سیکرٹریز بھی وضاحت کرنے میں ناکام رہے گو وزیراعظم عمران خان نے اس پر توجہ دی مگر کافی دیر ہوچکی تھی اور ”کھلاڑی“اپنا کھیل،کھیل چکے تھے،اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کردار بھی مثبت نہیں رہا یا شاید وہ ماضی کی طرح سمجھ ہی نہیں سکے کہ یہ کیا ہوگیا۔اب حکومت حکومت اپوزیشن پر بھی اس کا الزام لگانے سے رہی کیونکہ بقول وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اپوزیشن تو ”لیٹ“گئی ہے ایسی صورت میں وہ حکو مت کے لئے اس قسم کی درد سری کیسے پیدا کرسکتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح کہ جیسے پنجاب،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تحریک انصاف کے اپنے ارکان اسمبلی اور وزراء اپنی ہی حکومتوں کے خلاف صف آراء ہیں اور انہی کے بارے میں وزیر اعظم عمران نے بھی بیان کیا ہے کہ جانتا ہوں، سازشیں کون کررہا ہے،مگر یہ کون ہیں خیبر پختونخوا میں تین طاقتور وزراء کی برطرفی کس کی طرف اشارہ کررہی ہے جبکہ پنجاب میں فارورڈ بلاک اپوزیشن یا اتحادیوں نے نہیں بنایا مگر یہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی ہیں اور یہ کوئی ایک آدھ دن میں ترتیب نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ایک سال سے زیادہ عرصہ کی نظر اندازی ہے جو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے روا رکھی ہوئی تھی جو نہ تو کسی رکن اسمبلی کو ملتے تھے اور نہ ہی کام کرتے تھے اور اہم بات یہ ہے کہ ان تمام کا تعلق بھی جنوبی پنجاب کے پس ماندہ شہروں سے تھا جو مطالبہ کررہے تھے کہ انہیں کم ازکم اپنے اپنے علاقوں کیلئے ترقیاتی فنڈز تو مہیا کردئیے جائیں،اب سننے میں آیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس فارورڈ گروپ کے ارکان سے خیرے ملاقات کی۔واضع رہے کہ تمام سے نہیں اور انہیں کچھ یقین دہانیاں کروائی ہیں جس کے بعد ان کی ملاقات وزیر اعظم عمران خان سے ہوئی تو انہیں بھی بتایا جس پر وزیر اعظم نے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر قائم رہنے کا سندیسہ جاری کرایا۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ قدم اٹھانے والے محض یقین دہانیوں پر یقین کرلیں گے یا پھر دوبارہ صف آراء ہوں گے کیونکہ قرائین بتار ہے ہیں کہ سیاسی گڑ بڑ ضرور ہے لیکن اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود حسین قریشی نے حکومت پر کرپشن کے الزام کو رد کردیا اور کہا ہے کہ ہماری حکومت پر کرپشن کا ابھی تک کوئی الزام سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی آئے گا،سابقہ ادوار میں کرپشن نے ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھایا مگر اب عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کو سرا رہے ہیں کیونکہ ہم کرپشن اور کرپٹ عناصر سے کوئی سمجھوتہ نہیں کررہے ہیں اور احتساب بلا امتیاز ہورہا ہے۔اگر وزیر خارجہ کی بات پر یقین کر بھی لیا جائے تو پھر ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے عالمی ادارے ملکی معیشت کی سست روی اور شرح نمو اس سال 1.8سے 2.4تک کیوں بتا رہے ہیں جبکہ اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 6ماہ میں ساڑھے پانچ ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے حاصل کئے ہیں، لیکن وزارت خزانہ اپنے ہی اس ڈویژن کی بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اسے ملکی مفاد میں خلاف اور منفی پروپیگنڈہ قرار دے رہی ہے۔اس سے قبل بھی ماضی کی حکومتیں ملکی مفاد کے اصلاح کو استعمال کرکے اپنی نااہلی چھپاتی رہی ہیں مگر تحریک انصاف کی حکومت اسے نہ صرف اپنی نااہلی چھپانے بلکہ بین الاقوامی عدم تعاؤن اور اتفاق کو چھپانے کیلئے استعمال کررہی ہے۔اب اس پر حکومت کس طرح قابو پاتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر دوسری طرف تحریک انصاف وزیر اعظم سمیت وزراء اعلیٰ اور گورنر ہاؤسسز کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کے اپنے منشور کو تو پورا کرنے میں ناکام ہو ہی چکی ہے لیکن توقع تھی کہ یوں نہ سہی مگر تعلیم کے شعبے میں کوئی نہ کوئی مثبت پیش رفت ضرور دیکھنے میں آئے گی مگر تاحال ایسا نہیں ہے اور پس ماندہ مگر ٹیلنٹ سے لبریز علاقوں میں بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی خصوصا مظفر گڑھ پنجاب کا ایسا ضلع ہے جو رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا علاقہ ہے جس کی آبادی ملتا ن کے بعد جنوبی پنجاب کی سب سے زیادہ ہے، 45لاکھ نفوس سے زیادہ پر مشتمل اس ضلع سے چھ ایم این اے اور بارہ ایم پی اے موجود ہیں جہاں 3900میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جو ملکی ضرورت کا ایک بڑا حصہ پورا کرتی ہے۔کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ا س ضلع کے بڑے رئیس اعظم زمیندار سردار کوڑے خان نے جن کا تعلق جتوئی سے تھا ایک ٹرسٹ بنایا جس کے نام 82754کنال اراضی ہے جو 1894ء میں قائم ہوا اس ٹرسٹ کے تحت تعلیمی،سماجی اور مذہبی کام ہوئے،اب بھی یہ ٹرسٹ قائم ہے جس کو 2018ء میں چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو صدر /چیئرمین جبکہ ڈپٹی کمشنر کو سیکرٹری مقرر کیا تاکہ اس ٹرسٹ کی صیحح دیکھ بھالی ہوسکے۔اب بھی اس ٹرسٹ کے نام سینکڑوں مربع زمین،جس کی آمدنی ٹرسٹ کو جاتی ہے اور کروڑوں روپے نقد اکاؤنٹ میں موجود ہیں،اس وقت حال ہی میں تعینات ڈپٹی کمشنر انجینئر امجد شعیب ترین نے اس پر توجہ دی ہے اور سیشن جج کو خط لکھا ہے کہ جتوئی میں ایک ایجوکیشن سٹی قائم کیا جائے۔تاکہ اس پس ماندہ مگر ٹیلنٹ سے بھرپور علاقے کے عوام اپنی دہلیز پر تعلیمی ضروریات پوری کرسکیں۔مجوزہ ایجوکیشن سٹی کیلئے ایک خطیر رقم پہلے ہی ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں موجود ہے جبکہ حکومت چاہے تو میچنگ گرانٹ دے کر اس علاقے کی ترقی میں ایک تاریخی اور کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے اگر یہ ہوجاتا ہے تو پھر عوام کو مظفر گڑھ سے ہیڈ پنجند قاتل روڈ سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے کیونکہ یہ سڑک بھی اس کی تعمیر کے منصوبے میں شامل ہے۔

مزید : ایڈیشن 1