گورنر عمران اسماعیل کے بعد وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی وزیر اعظم سے بھی ملاقات!

گورنر عمران اسماعیل کے بعد وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی وزیر اعظم سے بھی ...

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

وفاق اور سندھ کی لڑائی میں پیروں تلے کچلے جانے والے سندھ اور بالخصوص کراچی کے عوام کے لیے یہ خبر خوشی کا باعث ہوسکتی ہے کہ اب صلح صفائی کا دور شروع ہونے والا ہے۔ اور کراچی کے مسائل پر مل جل کر بات ہوگی اور اس پر عملدرآمد بھی ہوگا۔ گرین لائن منصوبے کے راستے میں بسنے والے لوگ اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں اور ہر روز کئی ٹن مٹی نگلتے ہیں، کیونکہ گرین لائن منصوبے پر کام نہ ہونے کی وجہ سے کئی مہنیوں سے دھول اڑ رہی ہے۔ میڈیا خبریں چلا چلا کر بھی تھک گیا ہے، لیکن منصوبہ ابھی تک جوں کا توں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کراچی آمد سے پہلے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ملاقات ہوئی، جسے بہت خوشگوار اس لیے قرار دیا گیا کہ وزیراعلیٰ، وزیراعظم کا استقبال کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان جب بھی کراچی تشریف لاتے چند تلخ یادیں ساتھ لے کر جاتے تھے، اس مرتبہ ان کا استقبال کیا گیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ کراچی کے ادھورے اور بھولے بسرے منصوبے بھی اپنی تکمیل کی جانب بڑھنے کا عمل شروع کرسکیں۔

وزیراعظم کی ملاقات کراچی کی اہم کاروباری شخصیات سے بھی ہوئی، ایک وقت تھا جب کراچی کی بزنس کمیونٹی وفاق اور سیکورٹی اداروں سے امن کی بحالی کا مطالبہ کرتی تھی، آج یہی تاجر برادری وفاق سے رحم کا مطالبہ کرتی دکھائی دیتی ہے، امن قائم ہونے کے بعد نیب اور ایف بی آر سے وہ نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ وفاق ا بھی تک اپنے ووٹر اور تاجر برادری کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، کراچی کا ووٹر عجب کشمکش میں مبتلا ہے، پیپلز پارٹی کا کراچی میں ووٹ بینک نہ ہونے کی وجہ سے سندھ حکومت کو اس سے غرض نہیں کہ کراچی کے عوام کس قدر تکلیف میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ 40 کروڑ گیلن گندہ پانی سمندر برد ہورہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت اس کے ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے پریشان نہیں، مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت تنہا یہ سب نہیں کرسکتی حالانکہ محکمہ ماحولیات صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ گذشتہ 12 برس سے سندھ حکومت اس سلسلے میں پیشرفت نہیں کرسکی، صاف پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں اپنی جگہ لیکن گندے پانی کا سمندری حیات کو تباہ کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وسائل کا صحیح استعمال نہ کرنا بھی گورننس کے مسائل میں آتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ بھی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا جائزہ لیے بغیر وفاقی حکومت کے خلاف بیان داغ دیا تھا، اب اس ادارے کی وضاحت کے بعد لگتا ہے کسی اپوزیشن رہنما کو شرمندگی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی اپنے الفاظ واپس لینے کی بات کرے گا۔

سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے تعلقات میں جو اصل رخنہ نظر آتا ہے اس کے پیچھے محکمہ پولیس میں بھرتیاں اہم موضوع ہے، سابق آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان بھی رسہ کشی اس وقت بام عروج پر تھی، سپریم کورٹ اور مقتدر حلقوں کی سپورٹ سابق آئی جی سندھ کو اس لیے میسر رہی کہ وہ نئی بھرتیوں میں سیاسی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر میرٹ پر کام کررہے تھے۔ ایسا ہی ہوا کہ اے ڈی خواجہ نے سفارش سے بالا تر ہو کر ہزاروں افراد کو سندھ پولیس میں شامل کیا، سیاسی افراد کے توسط سے ماضی میں جو بھرتیاں ہوئیں، اس کے کئی ایک نقصانات ہوئے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے کئی منظور نظر افراد پولیس میں شامل ہوئے جن کا چال چلن سرٹیفیکٹ ان کے کردار سے متضاد ثابت ہوا۔ ہزاروں ملازمین کے خلاف مقدمات بھی بنے، لیکن پولیس کا محکمہ اپنا قبلہ درست نہیں کرپایا۔

موجودہ آئی جی سندھ کلیم امام اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ دونوں خاندانِ سادات ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف نبروآزما ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی سفارش سے آئی جی سندھ کلیم امام کو تبدیل کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ محکمہ پولیس سندھ میں اس وقت پھر بھرتیوں کا عمل شروع ہے۔وفاق کو اس پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور بھرتیاں میرٹ پر کرنے کا آئی جی سندھ کو وقت ملنا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم سے ملاقات کو ضروری نہیں سمجھا، کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے، اسی موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی پریس کلب میں اپنے گذشتہ ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کو کراچی میں ایک ماہ گذارنے کا مشورہ دیا تاکہ مسائل حل ہوجائیں۔ وزیراعظم نے اپنے دوسرے اتحادی جی ڈی اے سے ملاقات کی، پیرپگارو کو دیہی سندھ کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ دیہی سندھ، شہری سندھ سے بھی زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ جس کی طرف کسی وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا سوئٹزرلینڈ، ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب اورسائیڈ لائن ملاقاتیں خوش آئند تھیں، ممکن ہے کہ آ ئندہ کسی معاہدہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوں، لیکن پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج پر خوشگوار اثر ظاہر نہیں ہوا، البتہ روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بھی گررہی ہیں، اگر اس کا فائدہ پاکستانی صارف کو بھی دیا گیا تو مہنگائی کے طوفان میں کچھ کمی آسکتی ہے، کیونکہ پاکستانی صارفین مہنگائی کے ساتھ ساتھ آٹے اور چینی کے نایاب ہونے کے مسائل سے بھی دوچار ہیں، یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے بھی ریلیف ملتا دکھائی نہیں دے رہا، منڈی کا نظام پہلے ہی دلالوں کے ہاتھ میں ہے اور عوام ہیں کہ دربدر!

مزید : ایڈیشن 1