آئی جی کے تبادلے کے حوالے سے دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے:سعید غنی

  آئی جی کے تبادلے کے حوالے سے دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے:سعید غنی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)و سندھ کے وزیر اطلا عا ت و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ سو تیلاصو بہ ہے اور یہا ں پی ٹی آئی کی حکو مت مو جو د نہیں ہے اس لئے ہما ر ے ساتھ ایسا رویہ اپنا یا جا رہا ہے آئی جی کے تبا دلے کے حوالے سے دوہرا معیا ر اپنا یا جا رہا ہے اگر یہ قا نو نی طریقہ ہے تو پنجاب اور کے پی کے صو بو ں سے ہٹا ئے گئے آئی جیز غیر قا نو نی کہلائیں گے۔ان خیا لا ت کا اظہا ر انہو ں نے اپنے کیمپ آفس میں ایم کیوایم کے کارکنان کی پی پی پی میں شمولیت کے موقع پر پریس کا نفرنس سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔ شمولیت حاصل کرنے والوں میں اے پی ایم ایس او، اے این پی،پی ایس پی کے کارکنان، ڈسٹرکٹ ایسٹ سے مجیب الرحمان، وسیم الرحمان،عبدالقدوس،انجم خان ودیگر شامل تھے اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ یہ لوگ کافی عرصے سے رابطے میں تھے لیکن وقت کی کمی کے باعث کچھ تاخیر ہوئی تاہم اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا ہے جلد شہر کی اہم شخصیات بھی پارٹی میں شامل ہونگی امید ہے کہ شامل ہونیوالے شہرسے تقسیم کی سیاست کے خاتمے کیلئے اپنا کرداراداکریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اورموت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے کراچی میں رہنے والے خوف سے بالاترہیں انہو ں نے مزید کہا کہ مو جو دہ آئی جی کی پریس کا نفرنس کسی بھی طو ر کسی سر کا ری آفیسر کی پریس کانفرنس نہیں تھی وہ کسی سیا سی پا ر ٹی کے رہنما کی پریس کا نفرنس ظا ہر ہو رہی تھی۔ہمیں اب سمجھ میں آرہی ہے کہ آئی جی کے تبا دلے کے حوالے سے پی ٹی آئی کو پریشا نی کیو ں ہے۔آئی جی کے متعلق خدشات سچ ثابت ہورہے ہیں کسی آئی جی نے اس طرح نہیں کیاصرف سندھ میں تبادلے پر کئی لوگوں کی پریشانیاں ان کے چہروں پر عیاں ہیں اس کا مطلب کہ تانے بانے کہیں اور ملتے ہیں کہیں ایسا تونہیں کہ تبادلے سے فردوس اورحلیم کی روزی روٹی بند ہوجانی ہے یہ آگ دونوں طرف لگی ہوئی ہے آئی جی نے اعتماد سے کہا ہے کہ اگر وہ چلا بھی گیا تو کسی بڑے عہدے پر ہونگاانہوں نے کہا کہ تبادلے کے حوالے سے کابینہ نے کئی وجوہات بتائی ہیں یہ صوبہ سندھ ہے لیکن شاید ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں پنجاب اور کے پی کے،کے آئی جی خود بخود تبدیل ہوتے ہیں جب کہ سندھ میں تبدیلی کے لئے کابینہ میں معاملہ بھیج دیا گیا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پنجاب کے پی اوردیگرصوبوں کے آئی جی کے تبادلے غیر قانونی ہیں کیونکہ ان کی منظوری تو کابینہ سے نہیں لی گئی تھی ہم سوتیلے ہیں اور ہمارے ساتھ دوہرا معیار روا رکھا گیا ہے۔ صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں سیاست مشکل ضرور ہے مگر ڈرنے والے سیاست نہیں کرسکتے کراچی کی نمائندگی کے نام پر لوگ مسلط کیئے جاتے رہے ہیں اور اصل لوگوں کو آنے نہیں دیا جاتاآئی جی کے معاملے پر ہماری سوچ کو تقویت مل رہی ہے وہ تو سیاست اور تقریر کررہے ہیں پنجاب میں پانچ آئی جی ہٹائے گئے کے پی کے کے معاملے میں بھی ایسا ہوتا ہے یہاں آئی جی کے معاملے میں تکلیف صرف اپوزیشن کو سندھ میں ہے کلیم امام ان کا نہ بھائی ہے نہ رشتہ دار ہے جو ان کی روز ی روٹی ان سے چل رہی تھی انہوں نے کہا کہ فردوس شمیم یا دوسرے آخر کیوں پریشان ہے پریشانی تو سندھ حکومت کا مسئلہ ہے لیکن آئی جی نے آج جو خطاب کیا ہے اس سے لگتا ہے وہ آئی جی نہیں پی ٹی آئی کے ممبر بن گئے ہیں آج کلیم امام نے جو کہا ہے جہاں جاں گا بڑا عہدہ ملے گا اس سے ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں ان کے ہٹنے کا عمل ذرا لمبا ہوگیا ہے کیوں کہ یہ سندھ صوبہ ہے اور سوتیلا ہے پنجاب، کے پی اور بلوچستان کے آئی جی کی تبدیلی وزیر اعظم کرتے ہیں مگر سندھ کا کابینہ کرے گی ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ظاہر کرنا اچھی بات ہے عذیر بلوچ اور نثار مورائی کی رپورٹ تو سب نے پڑھی ہی ہے وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کل وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے ملاقات دسمبر کی ملاقات کا تسلسل تھی ملاقات خوشگوار رہی اور اتفاق ہوا کہ ہم ملکر عوام کے لئے کام کریں وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے پولیو، ٹڈی دل، کرونا وائرس، گندم بحران کے علاوہ وفاقی فنڈنگ کی تاخیر سے ملنے پر بات کی۔ڈاکٹر رضوان کے الزامات پر ان کو نہیں چھوڑیں گے، اور انہیں گھر تک پہنچائیں گے آئی جی کی تبدیلی اگر جی ڈی اے کی مشاورت سے ہو گی تو ہم سے نام لینے کی کیا ضرورت نہیں لیکن میری اطلاعات کے مطابق ایسی کوئی بات نہیں ہے۔وفاقی حکومت نے آئی جی کے تبادلے کو تماشہ بنایا ہوا ہے اور وفاقی حکومت نااہل آئی جی اور دیگر افسران کے ذریعے سندھ میں امن وامان اور ترقی کی رفتارکو روکنا چاہتی ہے

مزید : صفحہ اول