سندھ ڈی ورمنگ انیشی ایٹوکی پہلی سالانہ مہم کا آغاز

سندھ ڈی ورمنگ انیشی ایٹوکی پہلی سالانہ مہم کا آغاز

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے چھ اضلاع میں 146 صحت کی سہولیات کیساتھ ساتھ سیکریٹری صحت سندھ زاہد علی عباسی نے سندھ ڈی ورمنگ انیشی ایٹو کی پہلی اجتماعی ڈی ورمنگ مہم شروع کردی گئی۔ اسکولوں کی بنیاد پر شروع کئے جانے والے والے ڈی ورمنگ پروگرام کا مقصد500,000سے زائد بچوں کا 600 2منتخب سرکاری اور نجی اسکولوں اور 145صحت کے مراکز میں مفت علاج کی فراہمی ہے۔یہ سہولت پہلی سے دسویں جماعت تک کے 5سے14سال کی عمر کے اسکولوں جانے اور نہ جانے والے بچوں کو فراہم کی جائے گی۔افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی زاہد علی عباسی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”سالانہ بڑے پیمانے پر ڈی ورمنگ مہم ہمارے بچوں کی جسمانی اور علمی نشوونما کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے ان کے جسم میں انفیکشن کے خلاف مزاحمت پیدا ہوگی جو ان کی اسکول کی کارکردگی کو بہتر بنائے گی۔ بڑے پیمانے پر ڈی ورمنگ کے پائیدار ترقیاتی اہداف پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت پاکستان کی صحت کی اوّلین ترجیحات میں غذائیت اور خون کی کمی کی خاتمہ شامل ہے جس کیلئے ڈی ورمنگ ایک تیز‘ آسان اور محفوظ ترین اقدام ہے۔“ایڈیشنل کمشنر II کراچی ڈاکٹر وقاص‘ سیکریٹری صحت زاہد علی عباسی‘ ڈائریکٹر اسکولز سندھ ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے اس موقع پروالدین اور سرپرتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے قریبی سرکاری‘ نجی اسکول یا صحت کے مراکز میں لے کر آئیں جن پر بینر آویزاں ہوتا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا تخمینہ ہے کہ دنیا بھر میں 1.5 بلین سے زیادہ افراد‘ یا عالمی سطح پر 4 میں سے ایک فرد آنتوں کے کیڑے کے مرض میں مبتلا ہے جنہیں مٹی کے کینچوے بھی کہا جاتا ہے۔اس وقت 835 ملین سے زائد بچوں کو اس مرض کے علاج کی ضرورت ہے۔ یہ انفیکشن عدم صفائی اور حفظان صحت کے خراب حالات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جن کا رجحان اسکول کی عمر کے بچوں میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ سال 2016 ء میں پاکستان بھر کے اسکول جانے والے بچوں میں آنتوں کے کیڑے کے انفیکشن کی حیثیت کا جائزہ لینے کے لئے کئے جانے والے ایک وسیع قومی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ سندھ بھر میں تقریبا ً17 4.6 ملین بچوں سمیت پورے پاکستان میں اسکولوں کی عمر کے 17 ملین بچوں کو باقاعدگی سے ڈی ورمنگ کی ضرورت ہے۔زاہد علی عباسی نے مزید کہا کہ ”یہ محکمہ صحت حکومت سندھ کا مینڈیٹ ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی صحت کو برقرار رکھنے اور ان کی بہتری کے لئے مدد کریں اور اپنی آبادی کو خطے میں صحت مندوں میں شامل کریں چونکہ بچے پاکستان کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں لہٰذا ہم پاکستان اور سندھ میں اسکول پر مبنی ڈی ورمنگ پروگرام کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ہمارے بچوں کی صحت بہتر ہوگی بلکہ ہمارے معاشرے کو بھی فائدہ ہوگا۔“ڈائریکٹر اسکولز ایجوکیشن کراچی‘ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حمید کریم نے کہا، ”ڈی ورمنگ پروگرام میں اسکول جانے والے اور نہ جانے والے دونوں بچوں کو ہدف بنایا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ کوئی بھی بچہ اس سہولت سے محروم نہ رہ جائے۔“انہوں نے مزید کہا، ”اسکول میں ڈی ورمنگ کے حوالے سے کئے جانے والے تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈی ورمنگ مہم چلانے سے بچوں کی صحت اور تعلیمی کارکردگی دونوں میں بہتری آتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر