مواخذے کی کارروائی،ٹرمپ کے وکلا کی جو بائیڈن پر کڑی تنقید

  مواخذے کی کارروائی،ٹرمپ کے وکلا کی جو بائیڈن پر کڑی تنقید

  



واشنگٹن(این این آئی)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سینیٹ میں جاری مواخذے کی کارروائی کے دوران اْن کی قانونی ٹیم نے سابق نائب صدر جو بائیڈن کو ہدف تنقید بنایا اور صدر ٹرمپ کے دفاع میں دلائل دئیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل پام بونڈی اور ایرک ہرشمین نے اپنے دلائل کے آغاز پر صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا بھرپور دفاع کیا جس میں انہوں نے یوکرین کے صدر ولایمیر زیلنسکی کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ جو بائیڈن اور ان کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کریں۔بونڈی نے اپنے دلائل میں کہا کہ برسما کمپنی کرپشن الزامات کی اصل ہدف تھی جب کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر تحفظات رکھنے پر حق بجانب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے پراسیکیوٹر جانتے ہیں اور وہ برسما اور بائیڈن کے گرد موجود حقائق کو چھپا رہے ہیں۔

ہم سب کہہ رہے ہیں کہ اس پر بات ہونی چاہیے۔صدر ٹرمپ کی ٹیم میں شامل وکیل ہرشمین نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہنٹر بائیڈن کے پاس برسما گیس کمپنی میں کام کرنے سے قبل نیچرل گیس انڈسٹری میں کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اْن کے بقول، "ہنٹر بائیڈن کو نہ ہی یوکرین کے قوانین کا علم تھا اور نہ ہی وہ کارپوریٹ گورننس کی مہارت رکھتے تھے۔

مزید : عالمی منظر