سانپ گزر گیا اب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے غیر قانونی ٹیکس ری فنڈ سے متعلق کیس میں ریمارکس

سانپ گزر گیا اب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے غیر ...
سانپ گزر گیا اب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے غیر قانونی ٹیکس ری فنڈ سے متعلق کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) غیر قانونی ٹیکس ری فنڈ سے متعلق کیس میں ایف بی آر نے ریفنڈ کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ریکارڈ کے بغیر آپ نے انکوائری کیسے کی؟سانپ گزر گیا اب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کور ٹ میں غیر قانونی ٹیکس ری فنڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی عدالت میں پیش ہوئے،ایف بی آر نے ریفنڈ کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کب یہ انکوائری مکمل ہوگی؟،وکیل ایف بی آر نے کہا کہ ہم نے رپورٹ جمع کرا دی، رپورٹ میں اشفاق دینو کےخلاف کارروائی کی گئی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ حکومت کے874 اعشاریہ7 ملین روپے کی ریکوری کےلئے آپ نے کیا کیا؟آپ یہ رقم کیسے واپس لیں گے۔چیئرمین ایف بی آرشبرزیدی نے کہا کہ ایف بی آر اپنے طور پر ریکوری کر رہی ہے، چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کہ ریکارڈ کے بغیر آپ نے انکوائری کیسے کی؟سانپ گزر گیا اب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ کر کیا رہے ہیں سمجھ نہیں آرہا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اگر ہم نے اپیل مسترد کر دی تو پھر کیا ہوگا؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیامنظوری ایڈیشنل کمشنرنے دی؟،وکیل ایف بی آر نے کہا کہ ایڈیشنل کمشنرنے ریفنڈکی منظوری نہیں دی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ مطلب ایڈیشنل کمشنرکا کوئی کردارنہیں تھا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنربورڈنے انکوائری سے اتفاق کیوں نہیں کیا؟

چیف جسٹس نے کہا کہ دستاویزات کہاں ہیں جس کے ذریعے منظوری ہوئی،وکیل ایف بی آر نے کہا کہ دستاویزات اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایڈیشنل کمشنرنہیں ڈپٹی کمشنرنے منظوری دی،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ شبرزیدی صاحب آپ سیٹ پربیٹھ جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرمجازتھے توایڈیشنل کمشنرکہاں سے آگئے،وکیل ایف بی آر نے کہا کہ ایک ملین سے زائد رقم ہوتوایڈیشنل کمشنرمنظورکرتاہے،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ قواعد کے مطابق اصل مجاز افسرکون ہے؟وکیل ایف بی آر نے کہا کہ افسرانچارج مجازافسرہوتاہے اوریہ اسسٹنٹ کمشنرہوتاہے،وکیل ایف بی آر نے رپورٹ عدالت میں پڑھ کرسنائی ،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ رپورٹ میں توایڈیشنل کمشنرکا ذکرہی نہیں۔

سپریم کورٹ نے غیر قانونی ری فنڈ کیس میں حمید انجم کےخلاف دوبارہ انکوائری کا حکم دیدیا،عدالت نے کہا کہ ایف بی آر 3 ماہ میں ڈپٹی کمشنر سیل ٹیکس حمید انجم کے خلاف انکوائری مکمل کرے،ایف بی آر ایک ہی جرم میں ایک افسرکوبےگنا ہ اور دوسرے کو سزا کیسے دے سکتا ہے؟۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے کوئی سچی بات نہیں کر رہے،ایف بی آر کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی،ہمارے ساتھ نہ کھیلیں ، پتہ ہے آپ یہی پرانی انکوائری دوبارہ پیش کر دیں گے،اگر ایف بی آر کا افسرکوئی گڑ بڑ کرتا ہے تو کیا آپ اسے پکڑ نہیں سکتے؟،عدالت نے ایف بی آر کو دوبارہ 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد