وہ گاﺅں جہاں والدین ہی اپنی کمسن بچیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں

وہ گاﺅں جہاں والدین ہی اپنی کمسن بچیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں
وہ گاﺅں جہاں والدین ہی اپنی کمسن بچیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں

  



ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ایسا گاوں بھی ہے جہاںوالدین اپنی کمسن بچیوں کو پیسے کے لیے جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں ۔ان بچیوں میں سے بعض کی عمریں دس سال یا اس سے بھی کم ہیں۔ہندو برادری کی نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی بچیوں کو ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ دلت مردوں کو نوکریاں اور دیگر مواقع میسر نہیں اس لیے وہ لڑکیوں سے جسم فروشی کروا کر اپنا گھر چلاتے ہیں ۔

پیسوں کے لیے جسم فروشی پر مجبور ایک خاتون نے بتا یا کہ میں محض پندرہ برس کی تھی جب میری ماں نے مجھے اس کام کے لیے مجبور کیااب میری اپنی دوسال کی بیٹی ہے۔مجھے ایسا لگتا ہے میں غلط جگہ پیدا ہوگئی ہوں اور یہ سب غلط ہے لیکن میں کچھ کرنہیں سکتی کیونکہ یہ ہماری روایت ہے۔ کم عمر لڑکیوں کی زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے اور آنے والے مرد انکا زیادہ پیسہ دیتے ہیں۔محض دس برس کی بچی کے 2500 روپے تک دئیے جاتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی