اسلامی مملکت میں  شہریوں کا بنیادی حق جان کا تحفظ

اسلامی مملکت میں  شہریوں کا بنیادی حق جان کا تحفظ

  

مولانا فضل الرحیم اشرفی

مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔“(بخاری شریف)

احادیث نبویہ اور آیات قرآنیہ میں ہر شہری کو جان کے تحفظ کا حق عطا کیا گیا ہے۔

اللہ رب العزت نے سورہئ مائدہ کی ۳۲ ویں آیت میں جان کے تحفظ کے بارے میں ارشاد فرمایا اس میں خطاب تو بنی اسرائیل کو ہے لیکن جو ہدایت ارشاد فرمائی وہ پوری انسانیت کے لیے ہے اور فرمایا کہ کوئی شخص کسی کو دوسرے کے قتل کے بدلہ کے علاوہ یا زمین میں فساد پھیلانے والے کے علاوہ کسی کو قتل کر دے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی کی جان کو بچائے تو گویااس نے تمام لوگوں کو بچا لیا۔ اسلام نے شہریوں کے حقوق کو مکمل تحفظ دیا ہے۔ شہری سے مراد کسی ملک یا ریاست میں رہنے والا ہر وہ شخص ہے جسے اس ملک میں رہائش کے حقوق قانونی طور پر حاصل ہوں۔ اگرچہ شہری کا لفظی مطلب شہر کا رہنے والا ہے لیکن اصطلاح میں شہری کسی ملک میں رہنے والے ہر شخص کو کہا جاتا ہے۔ چاہے وہ شہر میں رہتا ہو یا قصبے اور دیہات میں، یا خانہ بدوش ہو، یہ تمام شہری کہلاتے ہیں اس میں نہ رنگ اور نسل کا فرق ہے نہ مذہب اور عقیدہ کا، بلکہ ہر وہ شخص جو ایک ملک یا ریاست کی حدود میں رہتا ہو اور حکومت کے قوانین کو تسلیم کرتا ہو وہ اس ملک کا شہری ہے اگر وہ حکومت کی اجازت سے عارضی طور پر کسی دوسرے ملک میں چلا جائے تب بھی وہ اپنے ملک کا شہری ہے۔ یہ وضاحت اس لیے کرنا پڑی کہ جب یہ کہا جائے کہ اسلام نے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ تو کہیں ذہن میں نہ آجائے کہ پھر دیہاتی لوگوں کے حقوق کا تذکرہ کیوں نہ ہوا۔ لہٰذا لفظ شہری کا مفہوم خوب واضح کر دیا گیا۔

اسلام نے ہر شہری کے ہر طرح کے حق کا تحفظ کیا ہے۔ شہریوں کے حقوق کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:  (۱) مذہبی حقوق، (۲) سیاسی حقوق، (۳) معاشی حقوق، (۴) معاشرتی حقوق۔

جس حق کے بارے میں ہم یہاں بات کر رہے ہیں یعنی کسی شہری کی جان کے تحفظ کا حق تو اس حق کا تعلق معاشرتی حقوق ہے‘ بلکہ معاشرتی حقوق میں سب سے اہم حق ہے۔ ایک اسلامی ریاست، ایک اسلامی ملک اپنے ہر شہری کی جان کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اور جان کی حفاظت ہر شہری کا حق ہے اسلام نے جان کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قوانین بنانے کے لیے سخت سزائیں مقرر فرمائی۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ محض قوانین اور محض سزائیں مقرر کرنا اس سے جان کی حفاظت نہیں ہوتی بلکہ ان قوانین کو نافذ کرنے اور ان سزاؤں پر عمل کرنے سے جان کا تحفظ ملے گا۔ دوسری طرف اسلام نے شہریوں پر بھی کچھ فرائض عائد کیے ہیں کہ وہ خود بھی اپنی جان کی حفاظت کریں اور دوسرے کی جان اور اس کی زندگی کا بھی تحفظ کریں اگر کوئی شہری خود اپنی زندگی کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق سخت گنہگار ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے فرمایا، جس شخص نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر مار ڈالا اس کو دوزخ میں بھی گرایا جاتا رہے گا اور جس شخص نے زہر کھا کر اپنی جان ختم کر لی تو پھر دوزخ کے اندر زہر کا پیالہ اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ اسے پیتا رہے گا اور فرمایا کہ جو شخص کسی ہتھیار سے اپنے آپ کو مار ڈالے اس کا ہتھیار دوزخ کے اندر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ خود کشی کرنے والے پر اللہ تعالیٰ جنت حرام کر دیتے ہیں۔ لہٰذا ہر شہری پر خود اپنی جان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ اب مثال کے طور پر دیکھئے سڑکوں پر ٹریفک کے اشارے موجود ہیں یہ تمام ٹریفک کے قوانین شہریوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں تیز رفتاری پر پابندی بھی جان کے تحفظ کے لیے ہے اب ایک شہری ٹریفک  اشارے کی خلاف ورزی کرے تو یہ خود کشی کے مترادف ہے یہ شخص خود اپنی زندگی کی حفاظت نہیں کر رہا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی یہ مجرم ہے۔ اس طرح تمام ملکی قوانین اور احکامات جو شہریوں کی جان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں ان پر خود شہریوں کو عمل کرنا لازمی ہے۔

اسی طرح اسلام نے ہر شہری کیلئے دوسرے شہری کی جان کی بھی حفاظت ضروری قرار دی اور کسی جان کو معمولی نقصان پہنچانے سے بھی منع فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن مغفلؓ کی روایت میں ارشاد نبوی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں اور چھوٹے چھوٹے پتھر مارنے سے بھی منع فرمایا۔

اللہ رب العزت نے جان کی حفاظت کے لیے قانون ارشاد فرمایا:نی جو شخص جان بوجھ کر کسی ایمان والے کو قتل کرے تو اس پر لعنت ہو گی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے اور دنیا میں قاتل کے لیے قصاص کا قانون عطا فرمایا کہ جان کے بدلے جان لی جائے۔ اگر قاتل کے ورثاء مالی معاوضہ لینا چاہیں تو دیت کا قانون رکھا اور یہ بھی اجازت دی کہ اگر ورثاء قاتل کو دنیوی سزا معاف کر دیں تو یہ بھی ان کا حق ہے وہ معاف کر سکتے ہیں لیکن جان کے تحفظ کے سلسلے میں اسلام نے جتنے بھی قوانین عطا کیے ہیں ان قوانین کو ہر آدمی نافذ نہیں کر سکتا اور کوئی شخص جوش انتقام اور غصہ میں کسی بھی شخص کو سزا دینے کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ بلکہ ان سزاؤں کا نفاذ صرف اور صرف حکومت اور عدلیہ کر سکتی ہے یا ان کی طرف سے مقرر کردہ ادارے سزا دے سکتے ہیں۔ البتہ اپنی جان کے تحفظ کے لیے اسلام نے ہر شخص کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کی جان بچانے کے لیے مقابلہ کرے اگر وہ مارا جائے تو اسے شہید قرار دیا گیا۔

لہٰذا اسلام نے جہاں حکومت کے ذمہ شہریوں کی جان کی حفاظت کرنا لازم کیا وہاں خود شہریوں پر بھی ایک دوسرے کی جان کی حفاظت کا فرض عائد کیا۔ جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسلام نے زندگی کے تحفظ کے لیے جو قوانین مقرر فرمائے اور خود حکومت جان کے تحفظ کے لیے جو اصول و ضوابط مقرر کرتی ہے ان پر بلا امتیاز عمل کیا جائے خصوصاً اسلامی حدود اور سزاؤں میں سفارش کا خاتمہ کر دیا جائے اور سختی سے مقررہ سزاؤں پر عمل درآمد ہو تو پھر ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب قرآنی فلسفہ بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ اے اہل عقل قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -