کورونا‘ ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں تیز ہورہی ہیں،ٹیلی نار 

کورونا‘ ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں تیز ہورہی ہیں،ٹیلی نار 

  

 لاہور (پ ر)ٹیلی نار ریسرچ کی پیشنگوئی ہے کہ کووڈ 19 کے تناظر میں معاشرے کے ہر حصے میں ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں تیز ہو جائیں گی۔ تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی ٹیکنالوجی سے لے کر فاصلاتی تعلیم تک اور بڑھتے ہوئے سیکورٹی خدشات کی بناء پر پاس ورڈ پینک ایسے رجحانات ہیں جو 2021ء کو بدل دیں گے۔ ٹیلی نار پاکستان ہیڈ کوارٹرز 345 میں ایک انٹریکٹو سیشن کے دوران ”ٹیک ٹرینڈز 2021“ کا انکشاف ہوا جس پر بجورن تالے سینڈ برگ، ہیڈ آف ٹیلی نار ریسرچ نے اظہار خیال کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات سید امین الحق سمیت سرکاری افسران، صنعتی ماہرین، میڈیا کے ارکان اور ٹیلی نار پاکستان کی انتظامیہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ورچوئل گفتگو کرتے ہوئے بجورن تالے سینڈ برگ، ہیڈ آف ٹیلی نار ریسرچ،نے کہا   '' وباء نے ہمیں اور دنیا کی تقریباً ہر صنعت کو متحرک کر دیا ہے جو کبھی ناممکن لگتا تھا۔ گزشتہ سال نے ثابت کیا ہے کہ 2021ء میں ڈیجیٹلائزیشن کو بڑے معاشرتی مسائل سے نمٹے اور نئے طرز زندگی اپنانے میں کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔ ''سال 2020ء نہ صرف اس صدی کا مشکل ترین سال رہا ہے بلکہ یہ سب سے زیادہ تغیر پذیر ہونے والے سالوں میں سے بھی ایک ہے۔ کووڈ 19 نے دنیا  کو ایک نئی ڈیجیٹل طرز زندگی اختیار کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ سید امین الحق، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات، نے اس موقع پر کہا  ''  ڈیجیٹلائزیشن کو اپنانے والی اور ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی حیثیت سے پاکستان کے پاس ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے منفرد صلاحیت موجود ہے۔ ٹیلی نار تکنیکی رجحانات ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ سے متصل متعدد صنعتوں کو نمو اور ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ میں معیشت میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلی کا حصہ بننے پر خوش ہوں۔ حکومت کے ”ڈیجیٹل پاکستان“ کے عزم کو لوگوں کی زندگی میں آتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی اور مستقبل کی بدلتی ہوئی تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ڈیجیٹل اور صحت مند ماحول فراہم کرنا وزارت کا عزم ہے۔

 اس عزم کو مضبوط بناتے ہوئے، ہم نے حال ہی میں ٹیلی کام سیکٹر کے لئے ''رائٹ آف وے''  پالیسی کی منظوری کے ساتھ ایک اور سنگ میل حاصل کرلیا ہے تاکہ وہ پاکستان کے شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو۔ نئی پالیسی درست سمت میں ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والوں کو اپنے سامان کی تنصیب،دیکھ بھال اور ملک بھر میں نیٹ ورک کی توسیع میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔  ''ٹیلی نار ریسرچ کی پیشنگوئی ہے کہ 2021ء میں ہم ای ہیلتھ کے ماہرین کو ذہنی صحت کے بارے میں نئے ٹولز اور خدمات تیار اور جاری کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ رجحانات اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح حکومتیں 2020ء میں موسمیاتی قوانین اور موسمیاتی تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنانے کے بعد 2021ء میں گرین ریکوری کیلئے راہ ہموار کریں گی۔ 2021ء میں بہت سے سائبر سیکورٹی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی وجہ سے 2021ء میں صارف دوست سیکورٹی سلوشنز پر عمل درآمد کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔2021ء کے تکنیکی رجحانات کے مطابق کمپنیاں مستقبل میں کام کے طریقہ کار کے لئے ضروری مسابقت کو یقینی بنایں گی اورمنیجرز اپنے ایمپلائز کی سائبر سیکورٹی، ڈیجیٹل ہائی جین اور ڈیجیٹل ٹولز اور ٹیکنالوجیز کے استعمال کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔ 2021ء میں ٹیلی نار ریسرچ کو توقع ہے کہ ورچوئل لرننگ کے دائرہ کار کو تیزی سے بہتر بناتے ہوئے ڈیجیٹل لرننگ کے نئے اور تخلیقی طریقوں میں اضافہ ہوگا۔ تاہم آئندہ سالوں میں تعلیمی فرق کو مناسب طریقے سے دور کرنے کی فوری ضرورت ہے جبکہ تعلیمی شعبہ اور آئی سی ٹی اداروں کو مل کر سب کے لئے ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر عرفان وہاب خان،چیف ایگزیکٹو آفیسر، ٹیلی نار پاکستان، نے کہا  '' اپنے آغاز سے لے کر ٹیلی نار پاکستان معاشروں کو بااختیار بنانے اور مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں اپنے عزم پر قائم ہے۔ جدید تکنیکی رجحانات اور ریسرچ سے متعلق سالانہ نتائج اور معاشرے میں تبدیلی کے حوالے سے ہم مسلسل جدت آمیزی اور عالمی علوم کے اطلاق کے ذریعے اپنے صارفین کو قدر فراہم کر رہے ہیں اور مالیاتی شمولیت کے فروغ کے لئے بھی بہترین طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں،جدید زرعی اقدامات کو فروغ اور IoT اور AI جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں تاکہ بہترین اور جامع تجربہ فراہم کیا جا سکے۔  ''مسلسل چھ سالوں سے سینڈ برگ اور ٹیلی نار کی ریسرچ ٹیم نے گزشتہ سال کے بارے میں تجزیہ اور عکاسی کی ہے۔ 2021ء کے لئے پانچ تکنیکی رجحانات کے بارے میں تفصیلات کے لئے       https://www.telenor.com/innovation/research/tech-trends-2021 ملاحظہ کیجئے۔

مزید :

کامرس -