سینیٹ انتخاب میں ”اوپن ووٹنگ“

سینیٹ انتخاب میں ”اوپن ووٹنگ“

  

وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات میں اوپن ووٹنگ کے لئے آئینی ترمیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر قانونی ٹیم نے بل کی تیاری کا کام شروع کر دیا ہے…… اوپن ووٹنگ پر سپریم کورٹ کی رائے لینے کے لئے حکومت نے ایک صدارتی ریفرنس بھی دائر کر رکھا ہے جو  زیر سماعت ہے اور فاضل عدالت کی ہدایت پر صوبائی حکومتوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور بعض سیاسی جماعتوں نے اس بارے میں اپنی رائے تحریری شکل میں جمع کرا دی ہے، تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور اس کا انتظار کئے بغیر حکومت نے آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے ریفرنس پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی رائے سامنے آنے سے پہلے ہی اگر آئینی ترمیم کی تیاری کر لی ہے تو لگتا ہے وہ اس معاملے میں غیر معمولی طور پر جلدی میں ہے۔ بہتر تو یہ تھا کہ حکومت آئینی ترمیم کا بِل تیار کرنے سے پہلے پارلیمینٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں سے رابطہ کرتی، اُن کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرتی، انہیں آئینی ترمیم کی ضرورت و اہمیت اور اس کے فوائد سے آگاہ کرتی اور پھر اُن سے تعاون کا وعدہ لے کر بل تیار کر کے پارلیمینٹ کے ایوانِ زیریں یا ایوانِ بالا میں سے کسی ایک ایوان میں پیش کر دیتی۔اس معاملے پر ماہرین قانون کی رائے تو اس وقت ہی سامنے آ گئی تھی جب اوپن ووٹ کی بات چلی تھی، آئینی ترمیم کی تیاری کا وہی بہترین وقت تھا، لیکن حکومت نے اس کے لئے زمین ہموار کی اور نہ ہی بظاہر اس قانونی رائے سے اتفاق کیا کہ اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخاب کرانے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن سے وقتاً فوقتاً وابستہ رہنے والے افسر ٹی وی چینلوں پر یا اخبارات میں مضامین کے ذریعے یہ رائے دے رہے تھے کہ آئینی ترمیم کے بغیر اوپن ووٹنگ نہیں ہو سکتی،لیکن اٹارنی جنرل نے اس سلسلے میں ایک نادر تصور پیش کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات تو آئین کے تحت نہیں، عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے تحت ہوتے ہیں بس اس قانون میں ترمیم کر لی جائے تو کام بن جائے گا اور آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہو گی،اس رائے کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے صدارتی ریفرنس دائر کر دیا۔

فاضل عدالت کی ہدایت پر تین صوبائی حکومتوں (پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان) نے جو جواب جمع کرائے ان میں کہا گیا تھا کہ سینیٹ کا انتخاب اوپن بیلٹنگ کے ذریعے ہونا چاہئے۔ سندھ حکومت نے البتہ یہ موقف اختیار کیا کہ آئینی ترمیم کے بغیر اوپن بیلٹنگ نہیں ہو سکتی۔اپنے جواب میں سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے یہ استدعا بھی کی کہ وہ اس معاملے پر کوئی رائے نہ دے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں یہ واضح موقف اپنایا کہ آئینی ترمیم کے بغیر اوپن بیلٹنگ نہیں ہو سکتی، اپنے جواب میں اُن تمام آئینی دفعات کا حوالہ بھی دیا، جن کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا، الیکشن کمیشن ہی وہ ادارہ ہے جو سینیٹ سمیت ہر طرح کے انتخابات کراتا ہے،اِس لئے الیکشن کمیشن نے اپنا جواب پوری وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا، جس کے بعد تھوڑا بہت اندازہ ہو گیا تھا کہ سپریم کورٹ کیا رائے دے سکتی ہے۔ غالباً حکومت نے بھی محسوس کر لیا ہو گا، اِس لئے اس نے رائے کا انتظار کیے بغیر ہی آئینی ترمیم کے مسودے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سینیٹ کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان فروری کے پہلے دو ہفتوں میں ہو جانا چاہئے،اِس لئے شیڈول کے اعلان تک آئینی ترمیم تو نہیں ہو سکتی، حکومت کے پاس نہ تو دو تہائی اکثریت ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے ساتھ ایسی ورکنگ ریلیشن شپ ہے جس کو بروئے کار لا کر آئینی ترمیم جلدی جلدی منظور کرائی جا سکے تو پھر حیرت ہے حکومت نے کیا سوچ کر آئینی ترمیم کے بل کی تیاری شروع کر دی ہے۔ کیا وہ کسی کرشمے کے ذریعے یا الٰہ دین کا کوئی جن بُلا کر یہ ترمیم کرنا چاہتی ہے، جو چشم زدن میں اس کے لئے یہ خدمت انجام دے گا؟

حکومت کے اضطراری اور اضطرابی اقدام سے یوں لگتا ہے کہ اسے کوئی ایسی پریشانی ضرور لاحق ہے،جس کی وجہ سے وہ کبھی تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور پھر وہاں جمع کرائے جانے والے جوابات سے خود ہی یہ نتیجہ اخذ کر لیتی ہے کہ شاید سپریم کورٹ کی رائے اس کی حسب ِ منشا نہ ہو۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کی صفوں میں کوئی نہ کوئی ایسی ہلچل ضرور ہے، جس کی وجہ سے وہ خفیہ ووٹنگ سے خوفزدہ ہے۔بظاہر اس کا نقصان نہ صرف نشستوں کی صورت میں ہو گا، بلکہ یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی پر پارٹی کا کنٹرول نہیں ہے۔ اگرچہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے تاہم اپوزیشن کو ایسی کسی ترمیم کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ اس کی صفوں میں بھی دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ اوپن ووٹنگ کے ذریعے اگر سینیٹ انتخابات ممکن ہو سکے تو اسے صحیح سمت میں صحیح اقدام ہی قرار دیا جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -