بلدیاتی انتخابات کرائیں!

بلدیاتی انتخابات کرائیں!

  

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے،جو 15ستمبر سے مرحلہ وار کرائے جائیں گے۔ یہ تاریخ قریباً چھ ماہ بعد کی ہے، تاہم اس کا بھی خیر مقدم ہی کیا گیا ہے۔ بلدیاتی نظام کو جہاں جمہوریت کی بنیاد کہا گیا ہے، وہاں اسے عوامی مسائل کا حل بھی قرار دیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی ادارے نہیں ہیں۔ پنجاب کے بلدیاتی ادارے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت  نے نئے نظام کے اعلان  کے بعد ختم کر دیئے تھے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں مدت پوری ہونے کے بعد بھی یہ انتخابات نہیں کرائے گئے۔اس سلسلے میں ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے ریمارکس اور ہدایات بھی موجود ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے، مگر تاحال کسی صوبے میں ایسا نہیں ہوا، اب خیبرپختونخوا حکومت کا فیصلہ بھی ستمبر میں الیکشن کروانے کا ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم بلدیاتی نظام کے بڑے حامی ہیں اور خیبرپختونخوا میں سابقہ ادوار والے نظام کی جگہ تبدیل شدہ انتخابات کے انعقاد کا کریڈٹ بھی لیتے رہے کہ ان اداروں کو عوامی مسائل حل کرنے کے حوالے سے خود مختاری دی گئی، تاہم موجودہ حکومت کے دور میں اس فلسفے پر بھی عمل نہیں کیا گیا تھا۔ماضی شاہد ہے کہ منتخب اراکین اسمبلی(صوبائی+ قومی) ان اداروں کے قیام اور ان کے اختیارات کو اپنے اختیارات کے لئے مناسب نہیں سمجھتے، اسی حوالے سے پنجاب میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے ضلعی نظام کو پسند نہیں کیا گیا۔ چودھری پرویز الٰہی کی وزارتِ علیہ کے دور میں بہت کچھ بدل ڈالا گیا۔مختلف صوبائی حکومتیں مختلف نکتہ طرازیوں کی بنا پر انتخابات سے گریز کر رہی ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے، جلد از جلد بلدیاتی اداروں کا قیام عمل میں آنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -