آئین و قانون کی حدود کے اندر رہیں!

آئین و قانون کی حدود کے اندر رہیں!
آئین و قانون کی حدود کے اندر رہیں!

  

منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے پھر دہرایا ”مَیں کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ ایسا احساس ہونے لگا ہے کہ تبدیلی کے بعد یہ ان کا تکیہ کلام ہی ہو گیا ہے کہ وہ بار بار دہراتے اور حزبِ اختلاف کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ  وہ وزیراعظم ہیں، شاید یہ اس وجہ سے ہے کہ حزبِ اختلاف والے ان کو سلیکٹڈ کہہ کر نہ ماننے کی بات کرتے ہیں،حالانکہ عملی طور پر تو وہ نہ صرف مانتے ہیں، بلکہ ان کا جو بنیادی مطالبہ ہے وہ بھی وزیراعظم ہی سے ہے اور وزیراعظم عمران خان ہیں۔ علاوہ ازیں حزبِ اختلاف  والے2018ء کے انتخابات پر انگلی اٹھاتے ہیں، اس کے باوجود جب وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آتے ہیں تو یہاں بھی عملی طور پر نہ صرف موجودہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کو تسلیم کیا ہوتا ہے، بلکہ الزام تراشی کرتے وقت بھی یہ تسلیم شدہ حقیقت ہی ہوتی ہے،

باقی سب باتیں ہیں جیسے کپتان ”مَیں نہیں چھوڑوں گا“ کہتے رہتے ہیں،حالانکہ عملی طور پر وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ گلی محلے کی لڑائی نہیں کہ ایسی بھڑک لگائی جائے۔ یہاں تو کوئی مانے نہ مانے عملی طور پر آئین و قانون ہی کی پیروی ہے، کہ ذرا باہر نکلیں تو عدلیہ موجود ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ”مقدمہ“ یہ ہے کہ ان کے مخالف سب ”چور اور ڈاکو ہیں“ اور انہوں نے ملک لوٹا ہوا ہے، وہ مبینہ طورپر لوٹی ہوئی رقوم بھی واپس لانا چاہتے ہیں اور حزبِ اختلاف والوں ہی نہیں،ان کی جماعتوں کو بھی ختم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ آئین کے ہوتے ہوئے تو ممکن نہیں اس لئے یہ سب دھیان بٹانے ہی کے لئے  ہے۔

کابینہ کے اسی اجلاس میں براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ بھی کر لیا گیا اور کابینہ نے کمیشن کی جو منظوری دی اور وزیراعظم نے خود کمیشن کے جس دائرہ کار کا ذکر کیا اس سے تو یہی تاثر پیدا ہوا ہے کہ وہ نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں سے مطمئن نہیں اور اب انہوں نے براڈ شیٹ کے حوالے سے کارروائی کا ارادہ کر لیا ہے اور خبروں کے مطابق کمیشن کو جو اختیار دیا گیا، وہ نیب جیسا ہے کہ اس کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ حدیبیہ پیپرز اور سرے محل کی تحقیقات بھی کرے گا، حالانکہ جو تنازعہ پیدا ہوا وہ تو براڈ شیٹ کو رقم کی ادائیگی کا ہے،جو کوئی خاطر خواہ کام کئے بغیر ہی عدالت کے ذریعے  حاصل کر لی گئی، اس سے قبل نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے شعبے اور محکمے بھی بہت تیز ہیں اور یہ سب کرپشن کے پچھے پڑے ہوئے ہیں اور ان سب کا خیال ہے کہ کرپشن میں آصف علی زرداری اور نواز شریف فیملی ”گوڈے، گوڈے“ لتھڑی ہوئی ہے، اِس لئے ایسا کوئی خانہ خالی نہ رہے،

جہاں سے کچھ مل سکے اور یہ ”چور اور ڈاکو“ انجام کو نہ پہنچ جائیں اسی لئے شاید اب سرے محل اور حدیبیہ پیپرز کا معاملہ بھی اس کمیشن کے سپرد کر دیا گیا اور اس کے قانونی پہلوؤں پر بھی غور نہیں کیا گیا،جن کے مطابق اعتراض تو براڈ شیٹ کی کارکردگی اور اس کمپنی کو ادائیگی پر ہے کہ ادائیگی کیسے کی گئی اور اس میں کس کا قصور ہے،لیکن کمیشن کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اس حوالے سے وزارتِ قانون اور وزیر قانون سے رائے طلب کی گئی ہوگی، تبھی تو دائرہ کار میں توسیع کی گئی، لیکن آئینی اور قانونی ماہرین کے نزدیک اب ایسی بیان بازیوں سے کام نہیں چلے گا اس کے لئے بہت غور کرنے کی ضرورت تھی، کیونکہ اب تک تو یہی ہوتا آ رہا ہے کہ جس کے گلے میں بھی رسہ آتا ہے وہ کچھ کہنے سنے بغیر ہی بھگتنا شروع ہو جاتا ہے۔

جہاں تک زبان خلق کا تعلق ہے تو اس کے مطابق کپتان نے ابھی تک کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا، کرپشن کے نام پر کردار کشی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے کیا وہ بھی اور جس نے نہیں کیا وہ بھی زیر تنقید ہیں،حالانکہ جس آئین اور قواعد و قوانین کے تحت یہ ایکشن ہوتے ہیں وہ بھی قابل مواخذہ ہی ہوتے ہیں، پارلیمینٹ میں موجود جماعتوں نے جس آئین اور قانون کے تحت یہ فتح حاصل کی ہے وہ پارلیمانی جمہوری  نظام ہے اور اس کے تحت پارلیمینٹ ہی بہترین فورم ہے اور اسی میں تمام معاملات طے ہونا چاہئیں، لیکن اگر کوئی کام نہیں  کر رہا اور یہاں کام نہیں ہو رہا تو ان اداروں کا تو قصور نہیں؟ لہٰذا پارلیمینٹ کی فعالیت لازم ہے، کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے،جہاں عوامی مسائل پر بحث ہو کر ان کا حل ہو،لیکن یہاں تو پارلیمینٹ عضو معطل ہو کر رہ گئی ہے،

اِس لئے ضرورت ہے کہ سب ادارے اپنی اپنی جگہ کام کریں اور کرتے رہیں،لیکن جو کام پارلیمینٹ کا ہے وہ اسے کرنے دیں، اب اگر کابینہ نے تحقیق کا حکم دیا ہے تو پھر یہ بھی محاذ آرائی میں اضافے کا سبب بنے گا کہ بالآخر تکنیکی طور پر اسے آنا تو پارلیمینٹ ہی میں ہے، جب یہاں آ گیا تو جو ہو گا اس کا تصور ابھی سے کیا جا سکتا ہے، اسی لئے تو گذارش ہے کہ جس کا جو کام ہے،اُسے کرنے دیا جائے،ادارے کس لئے ہیں۔ کمشن کو اس مسئلہ کے دائرہ کار تک ہی رہنے دیں؟اور اگر کپتان صاحب کو زیادہ ہی جلدی اور پسند کی آئینی ترامیم اور قانون سازی کی ضرورت ہے، تو پہلے کوئی شریف الدین پیرزادہ جیسا قانون دان ڈھونڈ لیں۔

مزید :

رائے -کالم -