لال قلعے پرکسانوں کا جھنڈا

لال قلعے پرکسانوں کا جھنڈا
لال قلعے پرکسانوں کا جھنڈا

  

بھارت میں یوم جمہوریہ کے موقع پر پریڈ میں مختلف فوجی دستے مارچ کرتے ہیں اور ملک کی مختلف ریاستوں کی ثقافت کی جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس پریڈ میں جنگی ساز و سامان کی نمائش کے ذریعے ملک کی جنگی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔اس دن کی مناسبت سے بھارتی دارالحکومت اور اس کے اطراف میں ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ بھارت کے 72ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں اس مرتبہ کسان ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی کو ٹریکٹر پریڈ کا نام دیا گیا ہے۔پنجاب ہریانہ، مغربی اتر پردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے ہزاروں کسان اپنے ٹریکٹر لے کر دلی کے نواح میں پہنچے،پھر وہ مختلف اطراف سے دارالحکومت میں داخل ہوئے۔نئی دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پرموجود ٹریکٹروں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی تھی، جبکہ اس ریلی کو ”کسانوں کی طاقت“ کا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ٹریکٹر ریلی کے بارے میں کاشتکاروں میں کافی جوش وخروش نظر آرہا تھا۔ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ حکومت پر ان کی نفسیاتی جیت کا نتیجہ ہے۔

پنجاب کے کسان ترنجیت سنگھ نے بتایا: ’ہم یہ ٹریکٹر ریلی اس لئے نکال رہے ہیں کہ حکومت کے سامنے پُر امن طریقے سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت لاکھ کوشش کر لے، توپیں لگا دے، رکاوٹیں کھڑی کر دے، لیکن اب وہ ہمیں نہیں روک پائے گی‘۔مدھیہ پردیش کی ایک خاتون کسان رہنما پوتر کور کا کہنا تھا کہ ٹریکٹر ریلی سے یوم جمہوریت کے جشن میں کسانوں کی بھی شمولیت ہو گی۔بھارتی پنجاب کے کسان مودی سرکار کی متنازع زرعی پالیسی کے خلاف تین ماہ سے نئی دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج تھے اور بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر جب نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی نافذ تھی اور اہم تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا، کسان مظاہرین کی ٹریکٹر ریلی تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے دارالحکومت کے اندر داخل ہو گئی اور مظاہرین نے لال قلعہ پر دھاوا بول کر عمارت پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا۔

شروع سے ہی نظر آرہا تھا کہ کسان مظاہرین کی منزل لال قلعہ عمارت تھی، جس تک پہنچنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس نے شہر بھر میں رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور بڑی تعداد میں نفری تعینات  تھی، تاہم یہ تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں اور کسانوں کی ٹریکٹر ریلی لال قلعہ تک پہنچ گئی۔ مظاہرین شدید نعرے بازی کرتے ہوئے لال قلعہ کے گنبد پر چڑھ گئے اور خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا۔ کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کو روکنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، لیکن کسانوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ مشتعل کسانوں نے ظالمانہ زرعی پالیسی پر مودی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک کسان جاں بحق اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔مظاہرین کو قابو کرنے کے لئے نام نہاد سیکولر اسٹیٹ اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں بے دریغ ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا اور کسانوں کے حق میں سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کردیا گیا۔

کسانوں کی تنظیم ”متحدہ کسان مورچہ“ کا کہنا تھا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود کچھ دیگر تنظیمیں اور کچھ غیر سماجی عناصر، اب تک پُر امن رہنے والی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔انہوں نے ہمارے راستے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے قابل مذمت اقدامات کئے ہیں۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ امن ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسی حرکتوں سے تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔عام آدمی پارٹی نے بھی دلی میں کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات کو اس حد تک متاثر ہونے دیا۔

مودی سرکار نے گزشتہ برس ستمبر میں تین نئے زرعی قوانین منظور کئے تھے، جن کے تحت اناج کی سرکاری منڈیوں تک نجی تاجروں کو رسائی دے دی گئی، اناج کی مقررہ سرکاری قیمت کی ضمانت کے نظام کو ختم اور کنٹریکٹ کھیتی کا نظام شروع کیا گیا تھا۔ کسان ریلی میں شمولیت کے لئے بھارت بھر سے مظاہرین نئی دہلی میں جمع ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد بھارتی پنجاب کے کسانوں کی ہے، جن کا تعلق اقلیتی برادری سکھ سے ہے اور اس اہم مسئلے پر بھی مودی سرکار نے ہندو جنونیوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرکے حالات خراب کر دیئے تھے۔

بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسانوں کی تنظیم ”متحدہ کسان مورچہ“ نے دلی میں ’ٹریکٹر پریڈ‘ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔کسان یونین نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے تینوں زرعی قوانین واپس نہ لئے تو وہ یکم فروری کو بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کسانوں کی سنیں اور ملک کے مفاد میں زراعت کے خلاف قانون کو واپس لے لیں۔ہریانہ کے کسان اجیت شرما حکومت پر کافی برہم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آزادی کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسان اس طرح بے بس ہوئے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، یہ حکومت سرمایہ داروں کے ہاتھوں کھیل رہی ہے۔

نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لئے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انہیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لئے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -