سیاسی نظام کی تلاش

سیاسی نظام کی تلاش
سیاسی نظام کی تلاش

  

1947ء کے آغاز ہی سے پاکستان میں بھانت بھانت کے سیاسی نظام رائج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم اب تک کل ملا کر سات سیاسی نظاموں کا تجربہ کر چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سات کے سات سیاسی نظام ہمارے ملک میں عارضی ثابت ہوئے اور کسی ایک نظام میں بھی انتخابات نے کلیدی کردار ادا نہیں کیا۔ ستم ظریفی یہ رہی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ابتدائی سات برسوں، یعنی 1947ء سے 1956ء تک ملک میں عام انتخابات کا انعقادکرائے بغیر پارلیمانی نظام چلایا گیا۔یوں کہئے کہ ایک جادوئی انداز میں صوبائی اسمبلیوں میں سے بالواسطہ طور پر دو قومی پارلیمانوں کا قیام عمل میں لے آیا گیا۔ پہلے صوبائی انتخابات 1946ء میں برطانوی راج میں محدود حق رائے دہی کے تحت منعقد ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں پنجاب اور این ڈبلیو ایف پی (اب خیبر پختونخوا) کی صوبائی اسمبلیوں، 1953ء میں سندھ صوبائی اسمبلی اور 1954ء میں ایسٹ بنگال کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروائے گئے۔ یوں قومی سطح پر قانون ساز ادارے وجود میں آ گئے۔

پاکستان کی تخلیق سے قبل ہونے والے صوبائی انتخابات کی بنا پر پاکستان کی آئین ساز اسمبلی وجود میں آچکی تھی جو ایک پارلیمان کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔ قیام پاکستان کے ابتدائی سات برسوں میں یہ پارلیمان مختلف ثقافتی بیک گراؤنڈ رکھنے والی قوموں کے مابین ایک متفقہ آئین بنانے کی اندھے پن سے ٹٹول کرتی رہی۔ دوسرے معنوں میں انتخابات کروانے کے لئے ان ابتدائی برسوں میں پاکستان کے پاس کوئی آئینی اور قانونی فریم ورک موجود نہ تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ باہمی غلط فہمیوں اور بداعتمادی کو ہوا ملتی رہی اور یوں آئین سازی کا عمل مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔پاکستان میں جمہوریت کے جڑ نہ پکڑنے کی ایک واحد وجہ یہی تھی کہ جس طرح کوئی بچہ پیدائش کے بعد پولیو کا شکار ہوکر اپنے پاؤں پر جم کر کھڑا ہونے کی سکت کھو بیٹھتا ہے اسی طرح ہم بھی بحیثیت ایک قوم ایک ایسی ہی ساختیاتی معذوری کا شکار ہیں۔ 

پاکستان کی بے ڈھنگی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10سے 14اگست 1947ء کے درمیان کراچی میں بلایا گیا جس میں پہلے دن کی عارضی چیئرمینی کے لئے جگندر ناتھ منڈل کو اتفاق رائے سے چنا گیا۔ ایک اکلوتے امیدوار ہونے کے ناتے 11اگست کو قائداعظم کو آئین ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا۔ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کل ملا کر 75اراکین پر مشتمل تھی جن میں سے اکثریت اکثر و بیشتر غیر حاضر رہتی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اسمبلی اپنے سکوپ کے مطابق کماحقہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی۔ کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ اگلے سات برسوں میں اس اسمبلی نے اوسطاً 16دن فی سال کے حساب سے آئین تشکیل دینے کے عمل پر بحث مباحثہ کیاجبکہ اس کے متوازی قانون سازی کے عمل کیلئے اوسطاً 33دن فی سال کے حساب سے کام کیا۔ اس کے علاوہ یہ اسمبلی طرح طرح کی تفریق کے سبب اس اتفاق رائے کی اہلیت سے عاری تھی جو ایک قابل قبول آئین بنانے کے لئے شرط اولیں ہوتی ہے۔ تاہم 1954ء میں انتہائی طاقتور گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے اس اسمبلی کو پیک کئے جانے سے قبل یہ اسمبلی کسی حد تک ایک آئین کے ڈرافٹ پر قیاس کی رو سے کچھ پیش رفت کر چکی تھی۔

مارچ 1949ء میں اس اسمبلی نے قرارداد مقاصد پاس کی جس میں ایک جمہوری سیاسی نظام، پارلیمانی اور وفاقی ہیئت کے ساتھ سفارش کیا گیا جہاں ہر ایک نفر کو  بشمول اقلیتوں کے لئے بنیادی حقوق کی یقین دہانی کروائی گئی۔ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو قرارداد مقاصد کا مرکزی نقطہ جبکہ اقتدار اعلیٰ کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو قرار دیا گیا۔ یوں ہمارا آئین نظریاتی طور پر ہمارے ثقافتی پس منظروں پر حاوی ہوگیا اور ایک اعتبار سے ہمارا سیاسی نظام دو طرح کی جذباتی کیفیات کا شکار ہو گیا۔ جو بڑے بڑے زمیندار اور جاگیردار ان اسمبلیوں کے رکن بنے وہ ہر طرح کے نظریاتی اور قانونی قاعدے سے لا تعلق تھے جبکہ عام پاکستانیوں اور ہجرت کرنے والے بے یارومددگار خاندانوں کی نظریاتی اساس ایک ایسا اسلامی معاشرہ تھا جہاں ذات پات کی ہندووانہ ذہنیت سے چھٹکارا مل سکے۔ قائد کی تقاریرسے بھی پارلیمانی جمہوریت کا ویسٹ منسٹر ماڈل ہی ابھر کر سامنے آتا تھا جیسا کہ انہوں نے 1946ء میں دہلی میں رائٹرز نیوز ایجنسی کے نمائندے ڈون کیمپبل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جہاں اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہوگا اور اس کے باسیوں کو ان کے مذہب، ذات اور نسل سے بالاتر شہریت کا مساوی حق حاصل ہوگا۔

دیگرآئین ساز اسمبلیوں کی طرح ہماری آئین ساز اسمبلی نے بھی آئین کی تشکیل کیلئے مختلف کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کو تشکیل دیا تھا جن میں سب سے اہم بنیادی اصولوں کی کمیٹی تھی جو 12مارچ 1949ء کو تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کے 24اراکین تھے جبکہ اس کمیٹی کو صرف دس اراکین لینے کا اختیار تھا جن کے لئے ضروری نہیں تھا کہ وہ آئین ساز اسمبلی کے بھی رکن ہوں۔ اس کمیٹی کے تحت تین سب کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں جن میں سے ایک حق رائے دہی کی کمیٹی تھی جبکہ دیگر دو کمیٹیاں مرکز اور صوبوں میں اختیارات کی تقسیم اور عدالتی نظا م پر مشتمل تھیں۔

ان ابتدائی سالوں میں انتخابی سیاست پر حد سے زیادہ مرکزیت اور انتظامی عمل دخل کا غلبہ رہا جن کے تحت ابتدائی چار صوبائی انتخابات ہوئے اور ہر طرف مسلم لیگ کا دوردورہ ہو گیا، جبکہ مخالفین کو انتظامیہ کی مدد سے ہر طرح سے دبایا گیا البتہ ایسٹ بنگال میں ریاستی مشینری اس طرح پنجے نہ گاڑ سکی اور جگتو فرنٹ نے 1954ء کے انتخابات میں جھاڑو پھیردیا۔ یہاں مغربی پاکستان میں مسلم لیگ نے ریاستی مشینری کے ساتھ مل کر کامیابی تو حاصل کرلی لیکن آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک ناگزیر رجحان کو فروغ دے دیا جس سے ہم آج تک چھٹکارا نہیں پا سکے ہیں اور ایک طرح کے یا دوسری طرح کے انتظامی چنگل کا شکار ہیں۔   

مزید :

رائے -کالم -