میرا کمیشن کتنا ہوگا؟   

میرا کمیشن کتنا ہوگا؟   
میرا کمیشن کتنا ہوگا؟   

  

چلیں یہ تو ہوا کہ پورا پاکستان یہ جان چکا ہے کرپشن میں کون کون ملوث ہے، آج ہم کسی بھی شہری علاقے میں جائیں یا پھر دور دراز کے دیہات میں، لوگ کھل کر بتانے ہیں کہ طاقت کا ناجائز استعمال اور کرپشن کون کر رہا ہے، پی ڈی ایم جیسی سیاسی تحریک نے اپنے ٹارگٹ بھلے حاصل نہ کیے ہوں، اتنا ضرور کیا ہے کہ واویلا کر کے معزز بنے بیٹھے مخالفوں کو بدنامی کی دلدل میں گھسیٹ لیا ہے، سو اب ایسی بہت ساری باتیں جو مین سٹریم میڈیا پر نہیں کہی جاسکتیں، گلی محلوں میں کھل کر ہو رہی ہیں، براڈ شیٹ سکینڈل نے نہ صرف موجودہ  بلکہ پچھلے ادوار میں کی جانے والی کرپشن اور نااہلی کو بھی بے نقاب کردیا ہے، اپنے“جد امجد“جنرل ایوب کی پیروی کرتے ہوئے جنرل مشرف نے سیاسی انجینئر نگ کے لیے نیب بنایا تو سید امجد نامی جنرل کو اس کا سربراہ مقرر کیا، خوب ڈھول پیٹا گیا کہ موصوف انتہائی دیانتدار اور بااصول افسر ہیں،آج دو دہائیوں کے بعد حقیقت سامنے آئی تو تراشا گیا بت دھڑام سے گر گیا، لندن ہائیکورٹ اور برطانیہ میں مقیم ایرانی نوسربازکا، گندگی سے لتھڑے اس کھیل کو پوری دنیا کے سامنے لے آئے، پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا پتہ چلانے کے لیے ایسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا جو صرف دو سو پونڈز کے ساتھ قائم کی گئی تھی،

جس کی تمام شرائط نوسرباز مالکان کے حق میں رکھی گئیں، مشرف حکومت نے نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کرنے کے بعد 2003ء میں براڈ شیٹ سے معاہدہ ختم کر دیا، بعد میں پتہ چلا یہ پاکستان نہیں برطانیہ ہے، ایک موقع پر نیب ہی کے ایک پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم نے 2010 ء میں لندن ہائیکورٹ کے روبرو دئیے گئے اپنے ہی بیان پر یو ٹرن لے لیا 2015 ء میں اسی عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے بیرون ملک موجود ایک ارب ڈالر موجود ہونے کی بات محض قیاس آرائی تھی۔یہ سلسلہ چلتا رہا پاکستانی قوم کے ساڑھے چھ ارب روپے غیر ملکی زرمبادلہ کی صورت میں اس کمپنی کو ادا کرنے پڑ گئے جس نے پھوٹی کوڑی بھی وصول نہیں کرائی،ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس کمپنی کا سارا فراڈ سامنے آ جانے کے باوجود شہزاد اکبر اور ایک مبینہ جنرل نے کاوے موسوی سے لندن جاکر ملاقات کی اور حکومت پاکستان سے نئی ڈیل کرانے کے لیے اپنا کمیشن مانگا،موسوی کو رقم کی ادائیگی کے لیے حکومت نے زبردست پھرتی دکھائی اور اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی سے منظوری لے کر فنڈز ہنگامی بنیادوں پر باہر بھجوا دئیے گئے، یہاں صرف دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی،جب معاملہ بین الاقوامی میڈیا کی زینت بننے لگا اور اپوزیشن نے خوب چور مچایا تو حکومت نے مٹی ڈالنے کے لیے  ایک ریٹائرڈ جج عظمت سعید شیخ کو نہ صرف تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا بلکہ دیگر ارکان منتخب کرنے کا اختیار بھی دے ڈالا،

تاکہ وہ اپنے جیسے نگینوں کے ساتھ مل کر گیم کو الٹا گھما سکے،منصوبہ سازوں نے بعد میں جسٹس عظمت سعید کو ٹارزن ثابت کرنے کے لیے یک رکنی تحقیقاتی کمیشن کا اعلان کردیا، مشہور زمانہ پانامہ بنچ کا فرنٹ لائن سولجر رہنے والے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ نیب پنجاب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں۔اگرچہ اپوزیشن نے ان کے تقرر کو مسترد کردیا ہے مگر یہاں سنتا ہی کون ہے؟  زیادہ دن نہیں گزرے جب ایک پیزا سکینڈل کا انکشاف ہوا تھا،ایجنسیوں نے کسی کو اپنے ریٹائرڈ ساتھی کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا،حال میں جب ایک ٹی وی شو میں کسی نے پیزا چین کا ذکر کیا تو وہاں موجود منظور شدہ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب نے کہا آپ کو زیادہ مسئلہ ہے تو یہ کیس سپریم کورٹ میں لے جائیں، بالکل ویسے ہی جیسے عمران خان،

نواز شریف کا پانامہ کیس لے کر گئے تھے، حالانکہ سب جانتے ہیں دھرنے کس نے دلوائے، پانامہ کون لایا، جے آئی ٹی کس نے بنوائی اور پھر نااہلی کیسے ہوئی، امجد شعیب یہ کہہ کر ایک طرح کا کھلا چیلنج دے رہے تھے کہ کرلو جو کرنا ہے، اسی طرح ایک اور منظور شدہ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) اعجازاعوان نے سب کے سامنے کہہ دیا تھا کہ پیزا سکینڈل کے کردار کو  منی ٹریل پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں، اپوزیشن گلاپھاڑ کر چلاتی رہی مگر انصاف اور احتساب کے اداروں نے آ نکھیں بند کرلیں اور لب سی لیے، براڈ شیٹ کی شرمناک کہانی یہ بتاتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اپنے لیے ایک بوٹی حاصل کرنے کی خاطر کیسے پوری گائے ذبح کردیتے ہیں اور کررہے ہیں،

نصابی اور روزمرہ کے ”مطالعہ پاکستان“ میں قوم کو بتایا جاتا ہے کہ ہم ہر کام میں نمبر ون ہیں،شاید ہونگے بھی لیکن صرف اپنے ہی ملک کے اندر،عالمی سطح پر سفارتی اور قانونی حالت ہی دیکھ لیں،ریکوڈک کیس میں ہمیں چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا ہے جو بطور ریاست ہماری بساط سے باہر ہے، لندن کی عدالت کے حکم پر ملائشیا میں ہمارا مسافر طیارہ پکڑا گیا،جو اب جزوی ادائیگی کر کے چھڑوایا گیا، باقی رقم ادا کرنے کے لئے عدالت سے باہر معاملات طے کر کے وقت لیا گیا۔ ترکی  کی کمپنی کارکے کے مقدمے میں ہمیں 900 ملین ڈالر کا جرمانہ ہوا،یہ تھے چند بین الاقومی معاہدے،ہمارے ساتھ تو یہاں تک ہوا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے کیس میں بھی بلاجواز عالمی عدالت انصاف کا حکم ماننا پڑا، ایم کیو ایم کے لگ بھگ تیس برس سے جلاوطن قائد کے خلاف مقدمے پر کروڑوں روپے خرچ ہو چکے،جو بے کار جارہے ہیں، مزید رقم لگائی تو وہ بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے، آج حالت یہ ہے کہ بین الاقوامی جرمانوں سے بچنے کے لیے حکومت پاکستان اپنے بیرون ملک سفارتخانوں کو کم سے کم نقد رقوم اور جائیدادیں رکھنے کی ہدایت کر رہی ہے،نجانے کس مقدمے میں کیا ضبط ہو جائے، یہ تعین کرنا مشکل ہے ہماری جانب سے کرپشن زیادہ ہو یا نالائقی کا مظاہرہ، اوپر تلے پیش آنے والے واقعات سے لگ رہا ہے جیسے قوم کے خون پسینے کی کمائی بیرون ملک لٹا کر ہر کیس میں اپنا حصہ یہ کہہ کر طلب کیا جارہا کہ“ میرا کمیشن کتنا ہوگا؟ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اگر ملک کے اندر واقعی احتساب اور انصاف کا کوئی نظام موجود ہو توصرف براڈ شیٹ کیس میں نیب کے تین چیئرمین جیل جانے سے کسی طور بچ نہیں سکتے، لیکن کیا کریں کہ اسٹیبلشمنٹ کو تحفظ اور کور دینے کے لیے نیب کی ڈیوٹی ہی مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف پراپیگنڈا کرنا اور ان کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -