بیورو کریسی، ڈریس کوڈ بدل گیا مزاج کب بدلے گا؟

بیورو کریسی، ڈریس کوڈ بدل گیا مزاج کب بدلے گا؟
بیورو کریسی، ڈریس کوڈ بدل گیا مزاج کب بدلے گا؟

  

لاہور کے ڈپٹی کمشنر مدثر ریاض ملک کی وجہ سے بیورو کریسی کا ڈریس کوڈ تو جاری کر دیا گیا ہے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیشی کے وقت ڈی سی نے ایسا لباس زیب تن کر رکھا تھا جو شادی بیاہ کی تقریبات میں تو جچتا ہے مگر ایک سرکاری افسر کے شایان شان نہیں سمجھا جاتا۔ رنگین لباس اور اس پر سرخ کوٹ کے ساتھ جب موصوف ہیلمٹ کیس میں پیش ہوئے تو جسٹس منظور ملک نے ان سے پوچھا کہ یہ آپ کیسا لباس پہن کر عدالت میں آ گئے ہیں بجائے معذرت کے ڈی سی نے کہا کہ میرا لباس تو یہی ہے اس پر عدالت نے ان کی سرزنش کر کے باہر جانے کا حکم دیا عدالت کے ریمارکس تھے کہ ایسے شخص کو ڈی سی شپ کے لئے نا اہل قرار دینا چاہئے، جسے یہ تک علم نہیں کہ سرکاری منصب کے تقاضے کیا ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ پنجاب حکومت افسروں کے لئے ڈریس کوڈ جاری کرے تاکہ آئندہ کوئی افسر اپنا من پسند لباس پہن کر عدالت میں پیش نہ ہو۔

اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے ایک حکمنامہ جاری کر دیا ہے جس میں صوبے بھر کے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت میں پیشہ ہوتے وقت ڈریس کوڈ کے مطابق لباس پہنیں اور اپنے ماتحتوں کو بھی اس کا پابند کریں۔ مدثر ریاض ملک وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی گڈ بکس میں ہیں وہ ملتان میں بھی ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں کچھ معاملات کی وجہ سے انہیں ملتان سے ہٹایا گیا تو  بزدار حکومت نے انہیں ڈیرہ غازی خان  بھیج دیا۔ وہاں بھی بات نہ بنی تو لاہور میں پہلے محکمہ ریونیو اور بعد میں ڈپٹی کمشنر لاہور بنایا گیا، جو صوبے کی ایک اہم ترین پوسٹ سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ ڈپٹی کمشنر لاہور در حقیقت دارالحکومت کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے۔ شاید اسی بادشاہت کے خمار میں ڈپٹی کمشنر ہر ضابطہ بھول بیٹھے اور بڑی عدالت میں بھی بادشاہ کی طرح پیش ہوئے، جانے عدالت میں گئے وہ کس طمطراق سے ہوں گے مگر جو ویڈیو ان کی عدالت سے باہر آتے ہوئے سوشل میڈیا پر موجود ہے اس میں وہ بے چارگی اور مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

میں سوچ رہا ہوں کہ 73 سال گزر جانے کے باوجود ہماری بیورو کریسی ابھی تک کاٹھے انگریزوں جیسے رویئے میں ڈوبی ہے، وہ خود کو اس ملک کا بادشاہ  سمجھتی ہے ہر قانون، ضابطہ، ادارہ اس کے لئے موم کی ناک ہے، جسے جب چاہے جس طرف موڑ دے، اب انہی ڈی سی صاحب کو دیکھ لیجئے، ملتان میں بھی اسی قسم کا کھلنڈرانہ لباس پہنتے تھے اور لاہور آکر بھی انہوں نے اپنا چلن نہیں بدلا۔ اگر وہ جسٹس صاحب کی نظروں میں نہ آتے تو شاید ساری زندگی اسی طرح گزارتے، اب شاید وہ رنگین لباس کے قریب نہیں جائیں گے۔ عدالت نے بالکل درست کہا ہے کہ لباس کو اگر افسروں کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے توکل کلاں وہ بنیان پہن کر آ جائیں گے جس انگریز بیورو کریسی کی یہ لوگ پیروی کرتے ہیں اس کا اپنا ایک رکھ رکھاؤ تھا ایک خاص لباس تھا۔ لاہور کے ڈی سی نے تو نیپا کا بھرم بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔ کیا وہاں یہ بات نہیں سکھائی جاتی، کیا اس میں مادر پدر آزادی کا درس دیا جاتا ہے۔ ایک بار جو سی ایس ایس کر لیتا ہے، کیا اسے یہ لائسنس مل جاتا ہے کہ وہ اس قوم اور عوام کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا یہ سوچ ہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا اس میں کسی کو شک ہے کہ پاکستان میں بیورو کریسی قوم کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی کیا ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت کی بیورو کریسی بھی ایسا ہی ناز نخرہ رکھتی ہے جیسا پاکستان کی بیورو کریسی کا ہے عوام سے نفرت اور فاصلہ کیوں اس بیورو کریسی کی پہچان بن گیا ہے، خلقِ خدا اگر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں سرکاری دفتروں کے دھکے کھاتی ہے تو اس میں قصور کس کا ہے کیا ان سرکاری دفاتر میں رشوت کا بازار گرم نہیں ہے، کیا کوئی ایک بھی کام ایسا ہے جو سرکاری دفاتر میں رشوت یا سفارش کے بغیر ہوتا ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ عدالت نے افسروں کا ڈریس کوڈ تو نافذ کروا دیا ہے، یہ کوڈ کب نافذ ہوگا کہ افسران عوام کے خادم بن کر رہیں ان کے مسائل بروقت حل کریں۔ اس بیورو کریسی کی نا اہلی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کھلی کچہریاں لگانے کا ڈرامہ رچاتی ہے کیا افسران بادشاہ سلامت ہیں کہ عام حالات اور ان کے دفاتر میں لوگوں کے معاملات حل نہیں ہو سکتے اور یہ کھلی کچہریاں لگا کر انہیں شرف دیدار کے ساتھ ساتھ انصاف بھی فراہم کرتے ہیں میرے نزدیک جو افسر کھلی کچہری کا ڈرامہ رچاتا ہے، وہ سب سے بڑا ڈرامے باز ہے وہ اس حقیقت کو خود تسلیم کر لیتا ہے کہ معمول کے طریقے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ آخر کس لئے وہ اتنا بڑا دفتر اور عملہ سنبھالے بیٹھا ہوتا ہے اگر عوام کو ریلیف ہی فراہم نہیں کر سکتا۔ کوئی عدالت تو ایسی بھی ہو جو ان افسران کے لئے عوامی خدمت کا کوڈ بھی جاری کرے۔ انہیں باور کرائے کہ جن لوگوں کو تم غلام سمجھتے ہو وہی تمہارے لئے اپنے ٹیکسوں سے یہ کروفر مہیا کرتے ہیں۔ انہی کا کھاتے ہو اور انہی پر اپنے اختیارات کا نزلہ گراتے ہو۔ کیوں ان معصوموں کو بغاوت پر اکسا رہے ہو کہ یہ ایک دن پھٹ پڑیں اور اس جعلی، بدبودار، استحصالی اور غلامانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

 ریاست کے اندر ریاست کا کوئی عملی تصور دیکھنا ہو تو اپنی بیوورو کریسی کو دیکھیں۔ کسی سی ایس پی افسر کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہو سکتی، زیادہ سے زیادہ تبادلہ ہو سکتا ہے۔ ڈریس کوڈ تو عدالت نے نافذ کروا دیا، اب کوئی انتظامی کوڈ بھی جاری کیا جائے۔ کوئی اخلاقی ضابطہ بھی بروئے کار لا کر عوام کی داد رسی کی جائے۔ یہ دربانوں، چوکیداروں اور چوب داروں کے سلسلے جو کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور سی پی او کے دفاتر کی پہچان بنے ہوئے ہیں اور جن کی آڑ میں غریب عوام پر ظلم ڈھایا جاتا ہے، کب ختم ہوں گے جس نظام میں افسروں سے ملنا بھی نا ممکن ہو اس نظام سے فلاح کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟

مزید :

رائے -کالم -