یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے '' پشاور یونیورسٹی بچاؤ چندہ کیمپ''کا انعقاد

 یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے '' پشاور یونیورسٹی بچاؤ چندہ کیمپ''کا انعقاد

  

پشاور(سٹی رپورٹر) صوبہ کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے  اسلامی جمعیت طلبہ پشاور یونیورسٹی نے یونیورسٹی کے  مین گیٹ کے سامنے '' پشاور یونیورسٹی بچاؤ چندہ کیمپ''کا انعقاد کیا  چندہ کیمپ پر بینرزاویزاں کیے گئے تھے جس پر مخیر حضرات اپنے عطیات و صدقات وی سی آفس میں جمع کرائیں جانے کے مطالبات درج تھے جبکہ راستے پر چلنے والوں نے چندہ باکس میں چندہ بھی ڈالا کیمپ میں جماعت اسلامی پشاور کے ضلعی امیر عتیق الرحمن، جے آئی یوتھ کے جنرل سیکریٹری حفیظ اللہ خاکسار، ناظم صوبہ شکیل احمد،ناظم کیمپس شفیق الرحمن،ناظم جامعہ عماد نظامی،پیما کے نمائندہ ڈاکٹر بصیر احمد سمیت طلبہ تعداد میں طلبہ وطالبات، والدین اور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء کہا کہنا تھا کہ حکومت نے تعلیم شعبہ کو یکسر نظر انداز کیا ہے اور گذشتہ دو سالوں سے صوبے کے تمام جامعات خصوصا پشاور یونیورسٹی مالی خسارے کا شکار ہے۔مقررین نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور وہ ان جامعات کو دیگر اداروں کی طرح پرائیویٹائز کرنا چاہتی ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ تاریخی مادرِ علمی کے ایک ارب سے زائد خسارے کے خاتمہ کے لئے حکومت فوری طور پر ایک ارب روپے بیل آؤٹ پیکج جاری کرے،جبکہ یونیورسٹی کے ذرائع آمدن بڑھانے کے لئے پشاور یونیورسٹی میں فاصلاتی نظامِ تعلیم پر عائد پابندی ختم کی جائے جبکہ پشاور یونیورسٹی کے سابقہ ذیلی اداروں کے پنشنر ملازمین کو پشاور یونیورسٹی سے لیکر متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جائے اور جامعہ پشاور کی جائیداد اور دیگر اثاثہ جات کو دوسرے تعلیمی اداروں سے واگذار کرا کے یونیورسٹی کے حوالے کیا جائے اور پی ڈی اے حکام جامعہ پشاور کی ضبط کی گئی زمین کا معاوضہ ادا کریں،پشاور یونیورسٹی میں گذشتہ دس سال کی غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بے قاعدگیوں کا شفاف اور غیر جانبدار آڈٹ کیا جائے۔ خسارے کے خاتمہ کے لئے جامعہ پشاور کو پورے صوبے میں تعلیمی اداروں کا الحاق کرنے اور پرائیویٹ امیدواروں کو داخلہ دینے کی اجازت دی جائے.یونیورسٹی کی تمام جائیدادوں کو کمرشلائز کیا جائے اور اس سلسلہ میں صوبائی حکومت یونیورسٹی کو قانونی، انتظامی اور مالی معاونت فراہم کرے۔بی اے اور ایم اے سسٹم کو واپس بحال کیا جائے.اور اسکے داخلوں کا دائرہ اختیار پورے صوبے تک دیا جائے.ریسرچ کے حوالے سے طلباء نے مطالبہ کیا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی گرانٹس کو بڑھایا جائے اور مستقبل میں جامعات میں کسی بھی مالی یا انتظامی بحران کے سدباب کے لئے تعلیمی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کرے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -