آڈیٹر جنرل پاکستان کے مالی  معاملات کا آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے: پی اے سی 

  آڈیٹر جنرل پاکستان کے مالی  معاملات کا آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے: پی اے ...

  

 اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اکاؤنٹس کا آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے تاکہ اس شعبہ میں مبینہ کر پشن کو روکا جا سکے۔وزیر اعظم عمران خان کو ایک بریفنگ میں بتایا گیا تھا اے جی آفس میں مبینہ 180 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے اور قوم کی دولت لوٹنے والے افسران حکو مت اور افسران کو بلیک میل کر کے مال بٹورتے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اے جی آفس میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن اور دگرگوں معاملات کے بارے میں اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے جس کی کاپی حاصل کر لی گئی ہے یہ کمیٹی شاہدہ اختر علی اور سردار ایاز صادق، نور عالم پر مشتمل تھی جس کو ٹاسک دیا گیا تھا وہ اے جی آفس کی کارکردگی اور اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے کیلئے تجاویز دے۔ رپورٹ کے مطابق اے جی آفس کا ایکسٹرنل آڈٹ انتہائی ضرور ی ہے اور یہ آڈٹ کسی تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے۔ اس کی ذمہ داری وزارت خزانہ کو سونپی گئی ہے جو کسی تھرڈ پارٹی آڈٹ فرم کو ذمہ داری سونپے۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تعیناتی کا میکنزم بنایا جائے اور میرٹ پر اہل افراد کو تعینات کیا جائے۔ کمیٹی کے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادارہ کی بہتری کیلئے ڈاکٹر عشرت حسین کو سفارشات فراہم کرے۔

اے پی سی 

مزید :

صفحہ آخر -