بحریہ یونیورسٹی میں بحری معیشت پر سیمینار کا انعقاد 

  بحریہ یونیورسٹی میں بحری معیشت پر سیمینار کا انعقاد 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (نیما)، بحریہ یونیورسٹی میں بحری معیشت اور ملکی سلامتی کیلئے اسکی افادیت پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔  پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے آئل، ایل این جی اور کوئلہ بذریعہ بحری گزر گاہ درآمد کرتا ہے اسکے علاوہ  91فیصد کارگوزبذریعہ بحری آمدورفت ترسیل کیے جاتے ہیں۔ اوسطاََ 2.5کارگو جہاز روزانہ توانائی سے متعلق سامان لے کر پاکستان آتے ہیں جو کسی بھی حوالے سے ہماری قومی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم ڈویژن عمر ایوب نے سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بحری معیشت کی ترقی پر زور دیا کیونکہ ملک کی تجارت اور ملکی سلامتی اس سے بہت زیادہ وابستہ ہے۔ انھوں نے اس شعبے کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو سمجھنے اور دور کرنے کیلئے اس شعبے سے وابستہ ماہرین، پالیسی سازوں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کو ایک جگہ اکٹھا کرنے پر نیما کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔  ان کے علاوہ سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر گل فراز احمد، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)  اشفاق ندیم احمد ہلال امتیاز(ملٹری)، وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) افتخاراحمد راؤ ہلال امتیاز (ملٹری) اور ڈاکٹر خرم اقبال ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بین الاقوامی تعلقات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی نے بھی سیمینار میں شرکت کی اور اپنی آراء کا اظہار کیا۔ وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) عبدالعلیم ہلال امتیاز (ملٹری) ڈائریکٹر جنرل نیما نے اپنے افتتاحی خطاب میں معزز مہمانوں کی سیمینار میں شرکت پر اظہار تشکر کیا اور بحری معیشت کے فروغ اور ملکی سلامتی کیلئے اسکی افادیت پر روشنی ڈالی۔  انھوں نے کہا کہ بحری راستوں کی حفاظت بہت ضروری ہے کیونکہ دنیا کی 90فیصد تجارت بحری گزر گاہوں سے ہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر گل فراز احمد نے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے بحری گزرگاہوں کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)  اشفاق ندیم احمد نے مجموعی طور پر ملکی سلامتی اور توانائی کے شعبے کے استحکام کی افادیت پر اظہار خیال کیا۔  وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) افتخار احمد راؤ نے بحری تجارت کے قومی توانائی تحفظ میں اہم کردار کو اجاگر کیا اور ڈاکٹر خرم اقبال نے بحری معیشت کے قومی سلامتی پر اثرات پر روشنی ڈالی۔ سیمینار میں تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد، متعلقہ شعبے سے وابستہ ماہرین، حکومتی نمائندگان اور میڈیا سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزید :

صفحہ آخر -