ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں، فارن فنڈنگ میں فضل الرحمن کو جوابدہ ہونا پڑیگا، (ن)لیگ، قبضہ مافیاایک ہیں: عمران خان 

      ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں، فارن فنڈنگ میں فضل ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں،فارن فنڈنگ کیس میں فضل الرحمن کوجوابدہ ہو نا پڑیگا، فارن فنڈنگ کاالزام لگانے والے خود فارن فنڈنگ میں ملوث نکلے،انہوں نے ہمارے خلاف کیس کیامگرخودپھنس گئے، چاہتے ہیں سینیٹ انتخابات شفاف ہوں،جسٹس عظمت ہی براڈ شیٹ کے سربراہ ہوں گے،سیاست اور جمہوریت کی آڑمیں ذاتی مال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،مسلم لیگ (ن) اور قبضہ مافیا ایک ہی ہیں،قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن پر پنجاب حکومت کی کارکردگی لائق تحسین ہے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں، اوپن بیلٹ کیلئے آئینی ترمیم لائیں گے، سیاست عبادت ہے، ظا لمو ں چوروں کیساتھ کھڑنے ہونے کا نام سیاست نہیں۔ان خیالات کا اظہار جمعرات کو اپنی زیرصدارت حکومتی وزرا ء کے اجلاس سے خطاب میں کیا، اجلاس میں وزرا اورحکومتی تر جما ن شریک ہوئے، اجلاس میں ملکی معاشی اورسیاسی صورتحال پرغور کیا گیا اور حکومتی بیانیہ سے متعلق مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل،براڈشیٹ،قبضہ مافیاسمیت اہم معاملات پر بریفنگ دی گئی اور فیصلہ کیا گیا ملک بھرمیں قبضہ مافیاسے سرکاری زمینیں خالی کرائی جائیں گی، وزیراعظم کا کہنا تھا سیاست و جمہوریت کی آڑمیں ذاتی مال بنانے کی اجا ز ت نہیں دیں گے۔ مشیرداخلہ شہزاداکبر نے سرکاری املاک پرقبضہ کرنیوالوں سے متعلق اور کھوکھر برادران، جاوید لطیف، دانیال عزیزکے سرکاری اراضی قبضہ کیسز پربریفنگ دی اور بتایا اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگزارکرا لی گئی ہے، جو اب مفادعامہ میں استعمال ہو گی۔اجلاس میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کرانے کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پرترجمانوں کو بریفنگ دی گئی، وزیراعظم نے رپورٹ کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاجب یہ اردوترجمہ کرائیں گے توانہیں پتہ چل جائیگا۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا (ن) لیگ کی قیادت لاہور کے قبضہ مافیا کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ہے۔ملک بھر میں اوقاف کی زمینوں پر قابض افراد کیخلاف آپریشن شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا قبضہ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔بعدازاں وزیر اعظم نے اپنی زیر صدارت خیبر پختونخوا اور پنجاب کی جامعات کے انتظامی امور، تدریسی عمل کے معیار، مالی امور میں شفافیت، میرٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے ا مور پر اجلاس خطاب کرتے ہوئے کہا ملک کی جامعات سے ہمارے ملک کا مستقبل وابستہ ہے،جامعات میں معیاری تدریسی عمل کا تسلسل اور طلبہ کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں شرکاء کو صوبوں کی جامعات میں کے تنظیمی امور، مالی مسائل،طلبہ کے تدریسی عمل میں معیار برقرار رکھنے، سیاسی مداخلت ختم، خلاف ضابطہ بھرتیوں سے پیش آنیو ا لے مسائل، میرٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے، جامعات میں تجربہ کار سربراہوں کی تعیناتی کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔وزیر اعظم نے جامعات میں انتظامی عہدوں پر ماہر اور تجربہ کار عہدیداروں کی تعیناتی کیساتھ ساتھ جامعات کے سربراہوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری کے حوالے سے ایک متوازن اور موثر حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ہدا یت کی۔قبل ازیں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کریمنل اقتدار میں آئیں گے تو پھر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ کسی فیکٹری میں چور کو بٹھا دیں گے تو وہ تباہ ہو جائیگی۔ ملکی نظام ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ بھارت کسی بھی شعبے میں ہم سے آگے نہیں، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا،احساس کمتری سے نکلنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار وسائل سے نوازا ہے۔ مشرف دور میں روشن خیالی کا لفظ پہلی بار سنا، یہ لفظ دوسروں کو خوش کرنے کیلئے تھا۔ پاکستان کا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہم نے دوسروں کی جنگ میں شرکت کرکے غلطی کی، اب ہم نے خوددار پاکستان کی طرف جانا ہے۔ ہمارے دور میں ملکی قرضوں میں 11 ہزار ارب کا اضافہ ہوا، جس میں سے سا بقہ حکومتو ں کیلئے قرضوں پر سود کی مد میں 6 ہزار ارب روپے ادا کئے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قرضوں میں 3 ہزار ارب کا اضافی بوجھ پڑا۔ کورونا کی وجہ سے ٹیکس ریونیو کم ہوا جبکہ ڈالر اوپر جانے سے روپے کی قدر کم ہوئی۔ پانی پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پچاس سال بعد پاکستان میں دو بڑے ڈیمز بن رہے ہیں، توانائی معاہدوں میں کرپشن اور اگلے الیکشن کی سو چ شامل تھی، سابقہ حکومتوں نے بجلی کے ایسے مہنگے معاہدے کیے کہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں کیپسٹی پیمنٹ کرنا تھی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -