سینیٹ الیکشن کیلئے 3ترامیم ہونگی، ن لیگ قبضہ مافیا، 500ارب ریکور کر چکے: وفاقی وزراء

  سینیٹ الیکشن کیلئے 3ترامیم ہونگی، ن لیگ قبضہ مافیا، 500ارب ریکور کر چکے: ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے اندر 500 ارب روپیہ ان سے واپس لیا جاچکا ہے جس سے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں، بیرون ملک سے بھی پیسہ واپس لائیں گے،اب ایک الگ کمیشن لایا جارہا ہے جن سے ان کی چیخیں اور زیادہ نکلیں گی، ہمارا مقصد کمیشن کے ذریعے بیرون ملک موجود پیسہ پاکستان میں واپس لانا۔ جمعرات کومشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ روز مریم نواز کھوکھر برادران کے گھر گئیں اور اپنی سیاسی حمایت کا یقین دلایا، (ن) لیگ والے شرمندہ ہونے کے بجائے قبضہ گروپ کی پشت پر کھڑے ہوگئے،ن لیگ ایک بہت بڑا مافیا تھا جو پنجاب پر حکمرانی کرتا رہا۔ ماضی میں لوگوں کے لیے کرپشن کوئی بڑی بات ہی نہیں تھی، قبضہ گروپوں اور شریف خاندان میں باہمی اشتراک چل رہا تھا اور جاتی امرا کی سیکڑوں ایکڑ کی جائیداد ان ہی قبضہ گروپوں کی وجہ سے جمع ہوئی۔ آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ پیسے سمیت ہمیں معاف کردیں، ہم معاف کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن پیسہ لوگوں کا ہے وہ واپس کریں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور کے ایک بڑے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جس کی شرافت کی گواہی پورا لاہور دیتا ہے اس کارروائی کی تعریف کرنے کے بجائے ملبے پر کھڑے ہوکر گمراہ کن باتیں کی گئیں۔ پنجاب میں قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی میں 200 ارب سے زائد کی سرکاری زمین واگزار کرائی جاچکی ہے، جن پر مختلف بااثر لوگوں کا ناجائز قبضہ تھا، ہم ان بااثر لوگوں کے نام سامنے لانا نہیں چاہتے تھے تاہم مریم نواز نے خود جاکر ہمیں دعوت دی کہ ہم اصل حقیقت سامنے لائیں اور بتائیں کہ قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی میں کون سے مالی فوائد تھے جن سے شریف خاندان کو مسئلہ ہوا۔کھوکھر برادران کے پاس 47 کنال میں سے 45 کنال سرکاری رقبہ تھا، ان سے جو زمین بازیاب کرائی گئی وہ 1500 کروڑ کی تھی، جو رقبہ واگزار کرایا گیا اس پر کوئی حکم امتناع نہیں اور وہ سرکار کے پاس ہے۔ ان ہی لوگوں سے ایک ہزار 52 کنال سرکاری زمین قصور میں واگزار کرائی گئی، لاہور کے نواح میں 80 کنال اور 4 مرلہ سرکاری زمین تھی جو کمرشل استعمال ہو رہی تھی وہ واگزار کرائی گئی، 2 سال قبل سپریم کورٹ نے اس ہی گروہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔گوجرانوالہ کے وسط میں خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر کا 2 کنال 11 مرلے پر ایک پمپ اور سی این جی اسٹیشن گرایا گیا، دانیال عزیز کے والد کے نام 2400 کنال زمین تھی جو سرگودھا میں واگزار کرائی گئی، چوہدری تنویر سے راولپنڈی میں 5000 کنال کی بینامی زمین سرکار نے واپس لی۔جاوید لطیف سے 8 کنال دو مرلے، ایک سرکاری جگہ پر ویگن اڈا، ایک اور مقام سے 30 کنال 16 مرلے سرکاری زمین اور شیخوپورہ سے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے سروس اسٹیشن اور 5 دکانیں وگزار کرائی گئیں، خواجہ آصف کی اہلیہ اور بیٹے کے نام سوسائٹی میں سرکاری رقبہ غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا تھا جو واگزار کرایا گیا۔

فواد چوہدری 

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹنگ سے کرانے اوردوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کوبھی الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کیلئے 1973کے آئین میں 3ترامیم کا آئینی پیکیج آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان کر دیا، ماضی میں سینٹ الیکشن میں ضمیر فروخت اور ووٹیں خریدی جاتی تھیں‘میثاق جمہوریت کے آرٹیکل 23میں سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ کرانے کا مطالبہ ہے‘ سینٹ الیکشن کے لئے ووٹیں خریدنے والوں نے چھوٹے صوبوں کے بعد پنجاب کے لئے بھی ریٹس نکال دیئے ہیں، سینٹ الیکشن میں اکثریت کے بعد مزید آئینی ترامیم بھی کی جائیں گی۔ جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فرازنے معاون خصوصی پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ سینٹ الیکشن مکمل آزاد اور شفاف ہوں  اپوزیشن جماعتوں کے لئے بھی یہ موقع ہے کہ اس مقصد کو کامیاب بنائیں‘ میثاق جمہوریت کی کوئی حیثیت ہے تو پوائنٹ نمبر23میں بھی یہ ہی مطالبہ تھا، اب اس پر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ کچھ اطلاعات ہیں کہ سینٹ الیکشن کے لئے ریٹس مقرر ہو چکے ہیں‘پاکستان کی تاریخ میں ہاؤس آف فیڈریشن کو متنازعہ بنانے کے لئے ضمیر خریدے اور ووٹ بیچے گئے۔یہ بل آئندہ ہفتے کے آغاز میں پارلیمنٹ میں لیکر جارہے ہیں۔پہلا حصہ آئین کے آرٹیکل 59ٹو میں ایک ترمیم لارہے ہیں‘جہاں سنگل ٹرانسفرایبل ووٹ کا لفظ استعمال ہے اس لفظ کی بجائے اوپن ووٹ شامل کیا گیا ہے اس سے ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن کی روک تھام ہوسکے گی‘پی ٹی آئی حکومت نے اسے قومی ایجنڈا بنا دیا ہے۔ دوسرا حصہ‘آئین کے آرٹیکل 63 جس میں نااہلیت کا ذکر ہے اس کے پیرگراف ون کے ذیلی پیرا سی میں ترمیم لارہے ہیں‘وہ وعدہ ہے جو تارکین وطن کے ساتھ کیا تھا‘آج تک ان کے لئے کچھ نہیں کیا گیا‘عمران خان کی ذاتی کوششوں سے روڈ میپ سامنے رکھ رہے ہیں‘پاکستان کے اندر بیرون ملک مقیم پاکستانی دوہری شہریت کے باوجود الیکشن لڑسکتے ہیں۔ منتخب ہونے کے بعد حلف لینے سے قبل حتمی ثبوت شہریت ترک کرے گا‘ الیکشن ہار جاتا ہے تو یہ شرط لاگو نہیں ہوگی۔تیسری ترمیم آرٹیکل 226میں ہے‘وزیراعظم اور مختلف عہدوں کا الیکشن اوپن ہوگا‘ اس لائن میں سینٹ کا لفظ شامل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ ریفرنس لے کر گئے تو بہت سے لوگوں نے مخالفت کی‘ وہ کہتے تھے کہ پارلیمنٹ فیصلہ کرے‘ اب ہم پارلیمنٹ آچکے ہیں اب دیکھیں گے کہ کون ساتھ اور کون مخالفت کر رہا ہے۔

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -