بائیڈن انتظامیہ چین کیساتھ اختلافی مسائل اٹھائیگی مگر تعلقات نہیں بگاڑے گی 

  بائیڈن انتظامیہ چین کیساتھ اختلافی مسائل اٹھائیگی مگر تعلقات نہیں بگاڑے ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ)  اگرجو بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار کے پہلے ہفتے کا جائزہ لیا جائے تو اس کی چین کے بارے میں یہ پالیسی سامنے آئی ہے کہ وہ اس کیساتھ اختلافی مسائل ضرور اٹھائے گی لیکن اسے اس حد تک نہیں بڑھائے گی کہ تعلقات بگڑ جائیں،صدر بائیڈن اور انکے چوٹی کے سکیورٹی حکام نے اپنے اتحادیوں کاساتھ دیتے ہوئے متعدد بیانات میں مشرقی و جنوب مشرقی ایشیاء میں چین کے ”توسیع پسندانہ عزائم“ پرستخ وارننگ جاری کی ہیں، نئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ روز عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن میڈیا بریفنگ کا آغاز کیاس میں دیگر معاملات کے علاوہ انہوں نے مستقبل میں امریکہ چین تعلقات کے حوالے سے اختلافات کیساتھ مفاہمتی راستہ اپنانے کا عند یہ دیا۔انہوں نے بتایا چین کے صوبہ سنکیانگ میں اقلیتی ایغور مسلمانوں کی نسل کشی بھی چین کے ان معاملات میں شامل ہے جس پر امریکہ کو شدید تشویش ہے، تاہم امریکہ ماحو لیاتی تبدیلی سمیت متعدد معاملات پر چین کے تعاون کیساتھ آگے بڑھناچاہتا ہے۔ بلا شبہ پوری دنیا میں امریکہ کیلئے چین کیساتھ تعلقات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ان تعلقا ت میں اختلافی امورمیں اضافہ ہو رہاہے۔ بہت سے معاملات میں ہمارا مقابلہ ہورہاہے لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے د رمیان متعدد امور پر پیش رفت بھی جاری ہے ما حو لیاتی تبدیلی کیلئے جوجدو جہد ہو رہی ہے، اس میں دونوں ممالک کا مفاد وابستہ ہے۔ وزیر خارجہ بلنکن نے محکمے کے ارکان سے خطاب میں یقین دلایا امریکہ اپنے اتحادیوں سے تعلقا ت میں بگاڑ دور کرنے کی کوشش کرے گا اور ثابت کرئے گا وہ دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،صدربائیڈن نے جاپانی وزیر اعظم پوشیدے سوگا سے فون پر بات کی اورانہیں یقین دلایا امریکہ جاپان کے دفاع کے عہد پرقائم ہے اوروہ سنگاپورکے جزائر پر انکی ملکیت کوتسلیم کرتا ہے جنہیں چین ڈیایو کے جزائر کہتا ہے اور اس پر اپنا حق جتلاتاہے۔ قبل ازیں نئے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے جاپانی ہم منصب نولو کیشی کوفون پربات چیت میں اس امرکااعادہ کیا تھا چین اورجاپان کے درمیان متنازعہ جزائر کو جاپان کا حصہ سمجھتا ہے،انہوں نے واضع کیا کہ امریکہ بحر مشرقی چین میں صورتحال میں کوئی تبدیلی کرنے کی مخالفت جاری رکھے گا۔

انٹونی بلنکن

مزید :

صفحہ اول -