سندھ، بلوچستان پنجاب میں، بلدیاتی انتخابات کا شیڈول طلب

  سندھ، بلوچستان پنجاب میں، بلدیاتی انتخابات کا شیڈول طلب

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ لگتا ہے جمہوریت اب ترجیح ہی نہیں رہی،بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جارہے، عوام کو جمہوریت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے، کیا چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نے اپنا حلف نہیں دیکھا، کیا چیف الیکشن کمشنر نے آئین نہیں پڑھا، اٹارنی جنرل کدھر ہیں، اٹارنی جنرل اگر وزیر اعظم کے ساتھ ہیں تو انھیں بتائیں آئین زیادہ اہم ہے،آئین پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے والے سنگین غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، لگتا ہے الیکشن کمیشن آئین سے نہیں کہیں اور سے ہدایات لے رہا ہے، آپ الیکشن نہیں کروا سکتے تو مستعفی ہوجائیں جبکہ عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پنجاب،سندھ،بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول طلب کرلیا۔ جمعرات کور سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت کے دور ان عدالت نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کو فوری طلب کرلیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جارہے، عوام کو جمہوریت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے، کیا چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نے اپنا حلف نہیں دیکھا، کیا چیف الیکشن کمشنر نے آئین نہیں پڑھا، اٹارنی جنرل کدھر ہیں، اٹارنی جنرل اگر وزیر اعظم کے ساتھ ہیں تو انھیں بتائیں آئین زیادہ اہم ہے۔کیس کی سماعت میں وقفہ کیا گیا تو اس دوران  اٹارنی جنرل خالد جاوید، چیف الیکشن کمشنر اور ممبرز سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ لگتا ہے جمہوریت اب ترجیح ہی نہیں رہی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جواب دیا کہ جمہوریت ہی اولین ترجیح ہے؟۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو انکا حلف یاد کروانا چاہتے ہیں، عدالت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا حکم دیا تھا، کیا آپ نے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں حکومت کو آگاہ کیا، کیا معاملہ کابینہ کے سامنے لایا گیا، عدالت چاہتی ہے کہ ہر ایک اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھنے کی ضرورت نہیں، میرے مشورے پر ہی حکومت نے میئر اسلام آباد سے متعلق نوٹیفیکیشن واپس لیا تھا۔چیف الیکشن کمشنر نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی تحلیل غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی حکومتوں کو تحلیل کر دیا تھا، پنجاب کی صوبائی حکومت کا اقدام غیرقانونی تھا۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت کیخلاف غیرآئینی اقدام پر کیا کارروائی کی؟۔ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ پنجاب حکومت نے نیا بلدیاتی قانون بنا لیا ہے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ آئین پر عمل نہیں کروا سکتے تو صاف بتا دیں۔ جسٹس فائز عیسیٓ نے خیبرپختونخوا کو کے پی کہنے پر برہمی کا اظہار کرتے کہا کہ آپ آئینی عہدیدار ہیں، صوبے کا نام خیبرپختونخوا کیوں نہیں لیتے؟ صوبے کے عوام میں نفرتیں نہ پھیلائیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن بتائے کب لوکل باڈی الیکشن کرانے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ خیبرپختونخوا میں 8 اپریل کو بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کب کروائیں گے؟ تینوں صوبوں میں انتخابات کی تاریخ دیں، الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کے خلاف لوکل حکومتیں تحلیل کرنے پر کیا ایکشن لیا، کمیشن کے پاس اتنے وسیع اختیارات ہیں، اگر سپریم کورٹ بھی بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کا حکم دے تو الیکشن کمیشن ہمیں بھی انکار کرسکتا ہے۔دوران سماعت جسٹس فائز عیسی نے آرٹیکل 6 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے والے سنگین غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، لگتا ہے الیکشن کمیشن آئین سے نہیں کہیں اور سے ہدایات لے رہا ہے، آپ الیکشن نہیں کروا سکتے تو مستعفی ہوجائیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کورونا کے باوجود ضمنی انتخابات کرائے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضمنی الیکشن کروا کر آپ نے قوم پر احسان نہیں کیا، کیا ضمنی الیکشن کرانے پر قوم آپ کو خراج تحسین پیش کرے؟ الیکشن کمیشن کا وجود ہی انتخابات کروانے کیلئے ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ قوم پر بہت ظلم ہوْچکا، مزید نہیں ہونا چاہیے، اگر آپ زمینی سطح پر عوام کو اختیارات نہیں دیں گے تو کیسے کام چلے گا؟، ملک میں خطرناک صورتحال ہے، قدرت نے آپ کو موقع دیا ہے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ کے پی حکومت نے تاحال رولز نہیں بنائے، خیبرپختونخوا کی بلدیاتی حکومت 25 اگست 2019 میں ختم ہوئی، لیکن نئے بلدیاتی قوانین نہیں بنائے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہر بار الیکشن کیلئے نئے رولز بنائے جائیں گے؟، آپ آئین نہیں کسی اور کے تابع لگتے ہیں، جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے ہی ملک برباد ہوا۔جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ آئینی ادارے کے سربراہ ہیں،دو سال مکمل ہو گئے، آپ دفتر میں کرتے کیا ہیں، الیکشنز کی تاریخ کیوں نہیں بتا دیتے؟ آپ جس کتاب پر حلف اٹھاتے ہیں اس کا کوئی مطلب ہے یا نہیں؟، آخری الیکشنز جنرل الیکشن 2018 ہوئے تھے، تب سے الیکشن کمیشن فارغ بیٹھا ہے، الیکشن کمیشن کا وجود ہی الیکشن کرانے کے لیے ہیسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پنجاب،سندھ،بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیف الیکشن کمشنر ممبران کے ساتھ میٹنگ کریں جس میں الیکشن شیڈول کا معاملہ ڈسکس کیا جائے، میٹنگ منٹس پر پیش رفت رپورٹ آئندہ 4 فروری کو جمع کرائی جائے۔انہوں نے کہا کہچیف الیکشن کمشنر آئین کے تحت کام نہیں کر کررہے تو سارا دن کیا کرتے ہیں،انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے  کہا کہ آپ کی روزانہ کی مصروفیات کیا ہوتی ہیں، آپ ایک آئینی ادارے کے سربراہ ہیں، آپ کا وجود ہی آئینی ذمہ داری پر عمل کرنے میں ہے،ورنہ آپ کی کوئی حیثیت نہیں،آپ ایک خودمختار ادارے کے سربراہ ہیں، این سی او سی کے ماتحت نہیں،الیکشن کمیشن کے اراکین میں ریٹائرڈ جج بھی شامل ہیں کیا اب انھیں بھی آئین پڑھانا پڑے گا،لوکل باڈیز سیاسی نرسریاں ہوتی ہیں یہیں سے سیاسی قیادت پیدا ہوتی ہے،لگتا ہے الیکشن کمشنر آئین کے بجائے کسی اور کے تابع ہیں،اگر آئینی زمہ داری ادا نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیکر پنشن انجوائے کریں،تمام ادارے آپ کے ساتھ تعاون کرنے کے پابند ہیں،غیر مقبول حکومتیں ہی بلدیاتی انتخابات کرانے سے گھبراتی ہیں، آپ عدالت کو نہیں بلکہ اپنے ضمیر کو مطمئن کریں،ضمیر کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہیسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پنجاب،سندھ،بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول طلب کرلیا۔بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی گئی 

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -