احترام مذاہب ایک دوسرے کو برداشت  کرنے سے ہوگا: پیر نور الحق قادری 

احترام مذاہب ایک دوسرے کو برداشت  کرنے سے ہوگا: پیر نور الحق قادری 

  

 کراچی (این این آئی)وفاقی وزیر برائے مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ احترام مذاہب اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کوبرداشت کرنے سے ہوگا۔ زبردستی مذہب کی تبدیلی پر پابندی کی حمایت اور18 برس سے قبل مذہب کی تبدیلی پر ممانعت کی مخالفت کرتا ہوں۔حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ مجھے ہندو اور مسیحی برادری کو بٹھانے میں تو مشکل نہیں ہوتی لیکن شیعہ سنی بریلوی اور دیوبندی کو ساتھ بٹھانا مشکل ہے۔اگر ملک میں مذہبی ہم آہنگی ہو توہمیں ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔مغرب خاتم النبیینﷺ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے ان کو اس کا جواب بھی دینا ہو گا۔آزادی اظہار کے نام پر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ توہین رسالتﷺ کے خلاف لائحہ عمل مرتب کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مقامی ہوٹل میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس بعنوان ”باہمی مذہبی احترام۔دور حاضر کی ضرورت“  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام،رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر،مولانا احترام الحق تھانوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔پیر نور الحق قادری نے کہا کہ سندھ کی دھرتی محبتوں اورمروت کی دھرتی ہے۔یہاں سے ہمیشہ امن کاپیغام پھیلا ہے۔ہم بھی یہاں سے اپناعلم بلند کررہے ہیں۔یہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی دھرتی ہے۔ہم نفرتوں کوختم کرنیکی بات کرتے ہیں۔ہم لوگوں کو توڑنے کی بجائے جوڑناچاہتے ہیں۔ایک بھائی مذہبی اوردوسراانسانیت کے رشتے کابھائی ہوتا ہے۔ہم سب میں مستحکم رشتہ پاکستانی ہونے کا ہے۔میں تمام عبادگاہوں میں جاتا ہوں لیکن میرا ایمان کمزور ہونے کے بجائے مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں کھاتے پیتے ہیں تو ایسے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں جو ہم نے بلاوجہ دل میں رکھے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے قلمدان کی بہت ذمہ داری اور حساسیت ہے۔ہم اختلاف رکھنے کے باوجود پاکستانی ہونے کے ناطے اچھا تعلق رکھ سکتے ہیں۔جھے ہندو اور مسیحی برادری کو ساتھ بٹھانے میں مشکل نہیں لیکن شیعہ سنی بریلوی اور دیوبندی کو ساتھ بٹھانا مشکل  ہوتا ہے۔ان اختلافات کی وجہ سے جو قتل و غارت گری ہوئی اس کا احاطہ ممکن نہیں۔سانحہ کرک کا مجھے ایسے ہی دکھ ہوا جیسا کسی مسجد یا مدرسے کا ہوتا۔اس مندر کو جلانے والا اگر ایک مولوی تھا تو اس مسئلے کو حل کرنے والا بھی ایک مولوی ہی تھا۔یہ مندر جلانے کا ایک واقعہ نہیں یہاں تو امام بارگاہیں مدارس و مساجد اور مزارات کو اجاڑنے اور تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ہمیں اس سے نکلنے کے لیئے ایک منظم و مربوط کوشش کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ زبردستی مذہب تبدیل کرنے سے روکنے کے حوالے سے قانون سازی پر مجھ سے اسپیکر نے سوال کیا۔میں نے اس کے حصے کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت کی۔ زبردستی مذہب کی تبدیلی پر پابندی کی حمایت اور18 برس سے قبل مذہب کی تبدیلی پر ممانعت کی مخالفت کرتا ہوں۔زبردستی تبدیلی مذہب سے پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے یہ اقلیتوں کا اعتراض ہے۔ہم نے ان کی بات سنی ہے۔مسیحی برادری خود کو عیسائی کے بجائے مسیحی کہلانا پسند کرتے ہیں تو ہمارے دوست ان کو عیسائی کے بجائے مسیحی ہی لکھا اور پکارا کریں۔پیر نور الحق قادری نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کا جو ماحول ہے اس میں دونوں ممالک کی افواج مورچہ زن ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے ایک مذہبی مقام کو سجایا اور سنوارا ہے اور بغیر پاسپورٹ کے لوگوں کو آنے کی اجازت دی ہے۔اس جدید دنیا میں یورپ اور امریکہ میں بھی اس کی مثال نہیں ملے گی۔یہ صرف عمران خان کا وصف ہے۔مغرب کوخاتم النبیینﷺ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے ان کو اس کا جواب بھی دینا ہو گا۔آزادی اظہار کے نام پر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی جو دل آزاری کی جارہی ہے۔سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ توہین رسالتﷺ کے خلاف کھل کر آواز بلند کرے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی اقوام متحدہ سے خطاب میں مسئلے کو اٹھایا اور اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جہاں اس پر بات ہوسکے۔وفاقی وزیر مذہبی امور ملک کی سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے بارے میں کیا کہیں ان کے انجام پر ہمیں رونا آرہا ہے۔ان کی آپس کی چپقلش اور عداوتیں بڑھتی جارہی ہے۔جو لوگ اربوں روپے لوٹ کر لے گئے ہیں وہ ایسی رپورٹس بنوانے پر خرچہ کر رہے ہیں ایسی رپورٹس کی کوئی اہمیت نہیں۔چیئرمین نیشنل مینارٹی کمیشن چیلا رام نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں  مذہبی آہنگی کے علاوہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔اگر یہ کمی دور ہو گئی تو ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ سب لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی ہے،آج بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز باتیں کی جاتی ہیں۔سانحہ کرک پر ہم نے علما کرام کو بلایا کہ اس وقت ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ہم محرم میں مجالس اور جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں اور رمضان میں افطار کراتے ہیں۔معروف عالم دین مولانا احترام الحق تھانوی نے کہا کہ ہر دور حکومت میں مذہبی ہم آہنگی پر بات تو ہوتی ہے لیکن عمل نہیں  کیا جاتا ہے۔مذہبی ہم آہنگی پر اس دور میں بھی اگر کام نہ ہوا تو پھر نجانے کب ہوگا۔جس کا دل اچھا اور جس کی بات اچھی وہ اچھا انسان ہے باقی کچھ نہیں۔اس وقت وحدت مسلمین کی نہیں وحدت پاکستان کی ضرورت ہے۔کانفرنس کے اختتام پر مختلف قراردادیں پیش کی گئیں جن میں اتفاق کیا گیا کہ ایک دوسرے کے مذہبی قائدین اور عبادت  گاہوں کا احترام کیا جائے۔ایسے بیانات اور تحریروں سے گریز کیا جائے سے کسی دوسرے کی دل آزاری ہو۔مذہبی اکابرین کے لیے تربیتی پروگرام تشکیل دیئے جائیں۔تمام مذہب کے اکابرین ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کے دورے کریں۔اقلیت کی بجائے دوسرے مذاہب کے لیے کوئی موزوں متبادل لفظ اختیار کیا جائے۔کانفرنس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومتیں وفاق کی قومی پالیسی برائے بین المذاہب ہم آہنگی میں شمولیت اختیار کریں۔

مزید :

صفحہ اول -