رازداری  شرط ہے

رازداری  شرط ہے
رازداری  شرط ہے

  

آپ مانیں یا نہ مانیں ،  لیکن یہ بات درست ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو صرف کوئی راز نہ رکھ  سکنے کی بنا پر مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہہ  کا قول ہے  کہ انسان  جب اپنا راز کسی کے سامنے بھی اگل دیتا ہے تو پھر وہ اسکا غلام بن جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ راز انسان کا غلام ہوتا ہے ۔  

آج ہمارا موضوع اسی راز داری کے بارے میں ہے ۔ ویسے تو بہت سی باتیں ایسی ہیں  جو بعض اوقات اپنے قریبی دوستوں اور احباب سے بھی چھپانی چاہیں  تاہم اگر بہت ہی ناگزیر ہو جائے  تو پورے قصے میں سے کچھ منہا کر دینا ہی عقل مندی ہوتی ہے ۔ بہرحال ہم نے بہت  تلاش و بسیار کے بعد  ایسے کاموں کی فہرست بنائی ہے جن کے بارے میں آپ کو بہت ہی محتاط ہونا چاہیے  تاکہ آپ کی زندگی پرسکون انداز میں بسر ہو سکے ۔ 

لوگ کہتے ہیں  کہ دوسروں سے دکھ دردکہنا اچھا ہوتا ہے لیکن ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر گھر میں نمک ضرور ہوتا ہے  اور وہ کسی کے دکھ و الم پر چھڑکنا کون پسند نہیں کرتا ۔ اسلئے ان باتوں کو بتانے سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے ۔ 

آپ کہیں بھی نوکری کرتے ہوں تو آپ کو جو بھی تنخواہ ملتی ہے  نہ تو وہ اپنے کولیگز سے ڈسکس کرنی چاہیے نہ ہی دوستوں سے ۔ دوستوں کو بتانے سے مسابقت کا رحجان پیدا ہو سکتا ہے جبکہ کولیگز کے مابین پیشہ وارانہ رقابت جنم لے سکتی ہے بلکہ اس دن فیس بک پر لکھا ایک  لطیفہ نظر سے گذرا کہ سیلری کے بارے میں اگر رشتہ داروں کو بتا دیں  تو پھر عزت نہیں رہتی کہ اتنا کم کما رہے ہو اور اگر بالکل درست بتا دیں تو قرضہ دینے کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ لہذا میرے خیال میں تمام رشتوں کو قرضوں کی لعنت سے دور رکھنے کی ہی ضرورت ہوتی ہے ۔ اپنا بینک بیلنس اور تنخواہ کسی سے بھی شئیر ضروری نہیں ۔  

اسی طرح کسی کے بارے میں بھی اب چاہے وہ شخص آپ سے متعلق ہو یا نہ ہو  کوئی بھی گھٹیا بات نہ ہی کریں تومناسب ہے ۔ ایک تو یہ غیبت کے زمرے میں آتی ہے  جو گناہ کبیرہ ہے  او ردوسری طرف جس سے آپ کسی تیسرے بندے کی بات کر رہے ہوتے ہیں اسکی نظر میں بھی آپ کا قد چھوٹا ہو جاتا ہے کہ اگر  یہ کسی کے بارے میں مجھے بتا سکتا ہے تو کل کو یہ میری بات کسی اور کے سامنے بھی رکھ سکتا ہے ۔ اس طرح لوگ آپ کو کبھی بھی قابل اعتماد نہیں سمجھیں گے جو عام زندگی میں بھی آپ کے اچھے امیج کو خراب کر دے گی ۔ 

کسی کو بھی اپنی بری عادات کے بارے میں پہلے سے اطلاعات مت دیں  کیونکہ  لوگ پہلے سے ہی آُپ کے بارے میں  آگاہ ہو جائیں گے ، نہ ہی آپ کے حلقہ احباب میں اضافہ ہو گا نہ ہی لوگ آپ کو قبول کریں گے ۔ یہ الگ بات ہے کہ خوبیاں اور خامیاں ہر کسی میں ہوتی ہیں  ، وقت کے ساتھ ساتھ ہر کوئی ایک دوسرے کو اسکی خوبیوں اور کوتاہیوں سمیت قبول کر لیتا ہے  لیکن خودسے اپنا اشتہار لگا لینا کسی طور بھی جائز اور فائدہ مند نہیں ہوتا ۔ 

جہاں انسان کو  اپنی ذاتی زندگی میں محتاط رویہ اپنانا چاہیے  تو وہیں مستقبل کے پلان اور منصوبہ جات کو بھی مخفی رکھنا چاہیے ۔ اس لئے کہ  ایک تو اس طرح آپ کے لئے ان پلانز پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور آپ سے پہلے وہ دس مختلف لوگوں کے سامنے پہنچ چکا ہوتا ہے اور پھر آپ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں جبکہ لوگ اس پلان کو مکمل کر کے ہی  دم لیتے  ہیں ، سو محنت آپ کی  اور پھل کسی او رکا  ۔ یہ تو آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا ۔ 

آخر میں رہ گئی سب سے آخری لیکن سب سے اہم بات اور وہ یہ ہے کہ اپنے گھریلو حالات خواہ آپ کتنے بھی پریشان کیوں نہ ہو  صرف اور صرف بہت قریبی دوست یا رشتہ دار سے شئیر کریں کیونکہ دوسرے افراد کے لئے آپ کے گھر  کے حالات محض ایک مصالحے کا کام دیتے ہیں اور چٹخارا کس کو برا لگتا ہے ۔ آپ کے درمیان میاں بیوی کی ناچاقی ہو ،  بچے فرماں بردار نہ ہوں ، بہنیں  طلاق یافتہ ہوں  ،آپ غربت کا شکار ہوں  ، بے روزگار ہوں  یہ سب چیزیں  دوسرے افرادکے لئے باعث تفریح ہوتی ہیں ۔ اس لئے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ  خود پر اس لحاظ سے توجہ دے کہ اسکی زندگی دوسروں کے لئے قابل تقلید ہو نہ کہ لائق تماشا ۔  

۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -