لاہور کے سب سے بڑے قبضہ گروپ کا محل گرتے دیکھا ، جنگلات کے قبضے بھی چھڑائیں گے : عمران خان 

لاہور کے سب سے بڑے قبضہ گروپ کا محل گرتے دیکھا ، جنگلات کے قبضے بھی چھڑائیں گے ...
لاہور کے سب سے بڑے قبضہ گروپ کا محل گرتے دیکھا ، جنگلات کے قبضے بھی چھڑائیں گے : عمران خان 

  

ساہیوال (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور کے سب سے بڑے قبضہ گروپ کا محل گرتا دیکھا ہے ، لاہور کے سب سے بڑے قبضہ مافیا کے پیچھے سابق وزیراعظم کھڑا تھا ،وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹیم کو قبضہ گروپوں کے محل گرانے پر مبارک باد دیتا ہوں،  ڈاکوﺅں پر ہاتھ پڑے گا تو وہ تبدیلی آئے گی ، کبھی کسی ملک نے ترقی نہیں ہوتی جہاں قانون کی بالادستی نہیں ہوئی جو بھی ملک آگے بڑھا اور خوشحال بنا ، اس کی بڑی وجہ قانون کی بالادستی ہے ، کوئی قانون سے اوپر نہیں ہے ، کوئی بڑا ڈاکو یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے این آر او نہیں دو گے تو میں تمہاری حکومت گرا دوں گا ، انصاف خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے ۔

عمران کان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بہت سنجیدہ بند ہ ہے کو ئی تقریریں نہیں کرتا، شہبازشریف کی طرح اربوں روپے اشتہاروں پر خرچ نہیں کرتا ، بڑے قافلے کے ساتھ نہیں پھرتا ۔ ہم نے یہ کامیاب نوجوان پروگرام شروع کیاہے اس پر وزیراعلیٰ اور ہم نے مشاورت کی کہ ہم ڈویژن سے ڈویژن میں جائیں گے ، جو علاقے پیچھے رہ گئے انہیں اٹھانا ہے، آج ہم اپنے ساتھ پورا پیکج لے کر آئے ہیں ، عام آدمی کیلئے اہم چیز یہ ہے کہ اس کے گھر میں بیماری ہو اور اس کے پاس پیسہ نہ ہو تو علاج نہیں کروا سکتا ۔فیصلہ یہ ہواہے کہ ساہیوال میں سارے لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دی جائے گی ساڑھے سات لاکھ روپے کی ، اس کا مطلب ہے کہ غریب مزدور کے گھر میں بیماری ہوتی ہے تو وہ سوچتاہے کہ کھانا کھلاﺅں یا پھر علاج کرواﺅں ، جب یہ مسئلہ آتاہے تو وہ گھر اپنے سب سے مشکل وقت سے گزرتاہے ، جو گھرانے غربت کی لکیر سے اوپر ہوتے ہیں وہ بیماری کی وجہ سے غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں ، شوکت خانم بنانے کی وجہ بھی یہی ہے ، میں صاحب حیثیت تھا تو مجھے اپنی والدہ کا علاج کروانے میں اتنی مشکل ہوئی تو غریب لوگوں کا کیابنتا ہوگا۔

ان کا کہناتھا کہ ڈی جی خان پنجاب کا سب سے غریب علاقہ ہے وہاں سے پروگرام شروع کیا تاکہ انہیں سب سے پہلے ہیلتھ انشورنس ملے اور دسمبر تک سارے پنجاب کے لوگوں کے پاس ہیلتھ انشورنس آجائے گی ۔امیر ملکوں میں بھی یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں ہوتی ، ہمارا ملک اسلامی فلاحی ریاست کے ویژن سے بنا تھا اور اب اس ویژن کی طرف بڑھ رہاہے ،ہم نے تعلیم پر پورا زور لگانا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب صاحب ہم نے اس پر پوری توجہ دینی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو کس طرح آگے بڑھانا ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ ایک تعلیمی نصاب لانا ہے ،ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ہی ملک میں تین نصاب چل رہے ہیں ،اس سے سب سے زیادہ غریب گھرانوں کے بچوں کو فائدہ ہو گا اور وہ اوپر آئیں گے ۔احساس پروگرام کا مطلب ہی نچلے طبقے کا تحفظ ہے ، میں ٹی وی پروگرام دیکھ رہا تھا کہ لبنان میں لوگ سڑکوں پر ہیں توڑ پھوڑ ہو رہی ہے ، آنسو گیس کی شیلنگ ہو رہی ہیے ، ان کا مطالبہ تھا کہ جب وہاں کورونا روکنے کیلئے لاک ڈاﺅن لگایا گیا تو حکومت نے جو پیسے بانٹے وہ درست نہیں بانٹے گئے بلکہ سیاسی بنیادوں پر دیئے گئے ، لوگ احتجاج کر رہے ہیں منصفانہ انداز میں پیسہ نہیں بانٹا گیا ، ہم نے تھوڑے سے وقت میں احساس پروگرام کے ذریعے 180 ارب روپے بانٹے ہیں ، ایک آدمی نے بھی سارے پاکستان میں نہیں کہا کہ سیاسی بنیاد پر پیسے بانٹے گئے ہیں ، ہمارے مخالفین نے بھی تسلیم کیا ۔ کامیاب نوجوان پروگرام میں جتنا میرٹ ہو گا اتنا زیادہ یہ پروگرام کامیاب ہوگا، اس میں کوئی سیاسی پسندیگی نہیں ہو گی اور یہی وجہ اس پروگرام کی کامیابی ہو گی ۔

تحریک انصاف بالکل نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم لارہی ہے ، جتنی لوگوں کو سہولتیں گھروں اور دیہاتوں کی سطح پر مل سکتی ہیں اتنا ہی بہتر نظام ہو تاہے ، نئے بلدیاتی سسٹم سے لوگوں کے زیادہ مسائل ان کے گھروں میں ہی حل ہوں گے ۔پاکستان میں ہم نے کبھی ان چیزوں پر توجہ نہیں دی ، ماحولیات کی کسی نے کوئی پرواہ نہیں کی، آہستہ آہستہ سارے جنگل ختم ہو گئے ، ٹمبر مافیا نے سب ختم کر دیا ، ہم کوشش کر رہے ہیں پھر سے پاکستان میں جنگلات اگا رہے ہیں ، دس بلین ٹری سونامی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جارہاہے ، اب جنگلات کے بھی سارے قبضے چھڑائیں گے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -