دنیا کی خطرناک ترین قاتل خواتین کی ناقابل یقین کہانیاں

دنیا کی خطرناک ترین قاتل خواتین کی ناقابل یقین کہانیاں
دنیا کی خطرناک ترین قاتل خواتین کی ناقابل یقین کہانیاں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں کچھ ایسی خطرناک خواتین بھی ہو گزری ہیں جنہوں نے براہ راست یا بالواسطہ سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں۔ ایسی ہی چند خواتین کی تفصیل ذیل میں بیان کی جا رہی ہے۔

کم ہیون ہوئی(Kim Hyon-hui)

شمالی کورین لڑکی کم ہیون ہوئی کو 1981ءمیں براہ راست یونیورسٹی آف پیانگ یانگ سے بطور جاسوس بھرتی کیا گیا تھا۔ 6سال تک مارشل آرٹس اور فنٹس سمیت دیگر لازمی تربیت دینے کے بعد اسے جنوبی کورین ایئرلائنز کی ایک پرواز میں بم نصب کرنے کا مشن دیا گیا۔ 1987ءمیں جنوبی کوریا میں اولمپکس مقابلے ہونے جارہے تھے جنہیں شمالی کوریا ہر صورت روکنا چاہتا تھا چنانچہ اس کی طرف سے کورین ایئر کی پرواز858ءمیں بم نصب کرنے کی مصنوبہ بندی کی گئی۔ کم ہیون نے جہاز میں بم نصب کیا اور سٹاپ اوور پر خود اتر گئی۔ یہ بم پھٹنے سے جہاز میں سوار 115لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ کم ہیون کو گرفتار کرکے 1989ءمیں سزائے موت سنائی گئی تاہم بعد ازاں اسے معاف کر دیا گیا کیونکہ اس کی برین واشنگ کرکے اس سے یہ واردات کروائی گئی تھی۔

ماتا ہری

ماتا ہری کا اصل نام مارگریٹا مک لیوڈ تھا۔ وہ ناکام شادی اور ایک بیٹے کی موت کے بعد 1905ءمیں برہنہ ڈانس کے پیشے سے وابستہ ہو گئی۔ فحش ڈانسر بننے کے بعد وہ پورے یورپ میں مشہور ہو گئی اور اس کے کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز مردوں کے ساتھ معاشقے شروع ہو گئے۔ جرمن خفیہ ایجنسی نے اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے ماتا ہری کو بطور جاسوس بھرتی کر لیا تاکہ ان طاقتور مردوں سے اس کے ذریعے راز اگلوا سکے۔ ماتا ہری کے اگلوائے گئے رازوں کی بنیاد پر دوسری جنگ عظیم میں 50ہزار فرانسیسی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ 1917ءمیں اسے گرفتار کر لیا گیا اور فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے فائر سکواڈ کے لوگ گولیاں مارنے لگے تو اس نے اپنا کوٹ سامنے سے کھول کر اپنا برہنہ جسم ان کے سامنے نمایاں کر دیا تھا تاکہ ان کی توجہ گولیاں چلانے سے ہٹ جائے اور اس کی جان بچ جائے تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ 

ایڈویا لوپیز ریانو

ایڈویا لوپیز کو ’شیرنی‘ (The Tigress)کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ وہ 1980ءکی دہائی میں سپین سے باسک کی آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجو گروپ ’ای ٹی اے‘ کی سرکردہ کمانڈو تھی۔ اس نے 1984ءمیں 18سال کی عمر میں اس گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ اس نے سفاکانہ طریقے سے کم از کم 23لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ 1986ءمیں میڈرڈ میں پولیس آفیسرز کا جو قتل عام ہوا اس میں بھی لوپیز نے حصہ لیا تھا۔ اسے 1994ءمیں فرانس میں گرفتار کیا گیا اور واپس سپین کے حوالے کر دیا گیا جہاں اسے 23سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا۔ اب اس کی عمر 56سال ہے اور قید کاٹنے کے بعد وہ سپین کے شہر بارسیلونا میں رہتی ہے اور ’ریڈ کراس‘ کے لیے کام کرتی ہے۔

بریجیٹ موہن ہاپٹ 

بریجیٹ کو جرمنی کی خطرناک ترین عورت بھی کہا جاتا ہے جس نے 1970ءکی دہائی میں مغربی جرمنی کی 9معروف ترین شخصیات کے قتل میں حصہ لیا۔ وہ شدت پسند گروپ ریڈ آرمی فیکشن کی سرکردہ رکن تھی۔ 1982ءمیں اسے گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا اور اسے 5بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم 2007ءمیں اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس کی ضمانت پر رہائی ایک متنازعہ معاملہ ہے جسے آج بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے جرائم پر معمولی پچھتاوے کا اظہار بھی نہیں کیا تھا، اس کے باوجود اسے رہا کر دیا گیا۔

شارلٹ کورڈے

شارلٹ کا تعلق 17ویں صدی کے فرانس کے اشرافیہ طبقے سے تھا۔ اس نے انقلاب فرانس میں حصہ لیا تھا تاہم وہ اعتدال پسند انقلابی تھی اور انقلاب کو پرتشدد بننے سے روکنا چاہتی تھی۔ بنیاد پرست صحافی جین پاﺅل میرٹ لوگوں کو پرتشدد انقلاب کی طرف راغب کر رہا تھا چنانچہ شارلٹ نے سوچا کہ وہ جین پاﺅل کو قتل کرکے انقلاب کو پرتشدد ہونے سے روک سکتی ہے چنانچہ اس نے جین پاﺅل سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اس کے پاس انتہائی اہم معلومات ہیں۔ جین پاﺅل اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا جہاں شارلٹ نے چھری کے وار کرکے جین پاﺅل کو قتل کر ڈالا۔ اسے صحافی کے قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ اپنے دفاع میں شارلٹ نے موقف اختیار کیا کہ اس نے ایک شخص کو قتل کرکے سینکڑوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں تاہم اسے سزائے موت سنا دی گئی اور گرفتاری کے محض چار دن بعد اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ موت کے وقت اس کی عمر محض 24سال تھی۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -