نااہل اور ظالم حکمرانوں نےعوام کو بدحال اور ملک کو تماشا بنا دیا ، سراج الحق نے وہ باتیں کہہ دیں کہ وزیراعظم بھی پریشان ہو جائیں

نااہل اور ظالم حکمرانوں نےعوام کو بدحال اور ملک کو تماشا بنا دیا ، سراج الحق ...
 نااہل اور ظالم حکمرانوں نےعوام کو بدحال اور ملک کو تماشا بنا دیا ، سراج الحق نے وہ باتیں کہہ دیں کہ وزیراعظم بھی پریشان ہو جائیں

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ نااہل اور ظالم حکمرانوں نے عوام کو بدحال اور ملک کو تماشا بنا دیا،تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے ڈھائی سالوں میں کرپشن، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، ادارے متنازعہ ہوئے، احتساب کا مذاق بنایا گیا، مافیاز نے اربوں کمائے اور زراعت اور صنعت کا بیڑہ غرق ہوا،سینیٹ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو کروڑوں کے فنڈز دے کر وزیراعظم نے ثابت کر دیا کہ اپنے دعوؤں سے مکرنے اور یوٹرنز میں ان کا کوئی ثانی نہیں،ملک میں جمہوریت کو تماشا بنا دیا گیا، پاکستان کو صالح اور ایماندار قیادت کی ضرورت ہے۔

 جماعت اسلامی کے رہنما حافظ سلمان بٹ کی نماز جنازہ کے اجتماع میں شرکت کے بعد میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ براڈشیٹ سکینڈل اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس سے ثابت ہو گیا ہے کہ کرپشن کا کلچر ملک میں سالہاسال سے فروغ پا رہا ہے، پی ٹی آئی کے دورحکومت میں اس کو مزید تقویت ملی,کرپشن نے سوسائٹی کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے،حکمران طبقہ کی بدعنوانی کی وجہ سے ہر سال پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہوتی ہے جب کہ صاحب اقتدار طبقہ کو رتی برابر شرم محسوس نہیں ہوتی۔

انہوں نےکہاکہ دہائیوں سےپاکستان کےریسورسز پر قابض اشرافیہ نےاداروں کو مضبوط کرنےاور پائیدار نظام کی تشکیل کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا، لوٹ مار کا بازار گرم اور اس بہتی گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہاہےجبکہ دوسری جانب وہ اکثریت ہے جنھیں زندگی کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں،ملک میں کروڑوں افراد کو پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں،لاکھوں بچے سکولوں سے باہر، فیکٹریوں اور ہوٹلوں اور چائے کے ڈھابوں پر مزدوریاں کر رہے ہیں ،فیکٹری مزدور، کسان، تنخواہ دار طبقہ سب پریشان ہیں،لاکھوں نوجوان ڈگریاں اٹھائے بے روزگار پھر رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں ملک کو پٹڑی پر ڈالنے کے لیے نہ ہی کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی پلاننگ کی، ایک کنفیوژن کی پالیسی برقرار ہے، لنگرخانے تعمیر ہو رہے ہیں اور لوگوں کو مرغیاں پالنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں، اداروں کی دھڑا دھڑ پرائیویٹائزیشن کا عمل جاری ہے اور اربوں ڈالر قرضہ لیا جا رہا ہے۔

مزید :

قومی -