سیکیورٹی، ڈالر، عدل، انصاف معاشرے کی ضرورت   (ختم شد)

سیکیورٹی، ڈالر، عدل، انصاف معاشرے کی ضرورت   (ختم شد)
سیکیورٹی، ڈالر، عدل، انصاف معاشرے کی ضرورت   (ختم شد)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اس کے علاوہ سٹور انتظامیہ پر ایک ہزار ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک  بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کیا۔اگر24گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کروایا تو کورٹ سٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔فیصلے کے آخری ریمارکس یہ تھے سٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے  کو ادا کرتے ہوئے عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے،تمام حاضرین کے آنسو نکل آئے اور بچہ بھی روتا ہوا جج کو دیکھ رہا تھا۔کفر کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے،اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں،عدل بھی فراہم کرتے ہیں۔پاکستان سزائے موت10 سال بعد بری،عمر قید 15 سال بعد بری،عورت کا قاتل بہت امیر ترین عدالت سے پاگل قرار دینے کی کوشش،منی لانڈرنگ کرنے والی لیڈیز کو پکڑنے والا انسپکٹر قتل،ملزم شاہ رخ جتوئی، عثمان مرزا اتنے طاقتور ہیں،سوچیں گارڈ فادرز کتنے طاقتور ہوں گے،عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے۔میرے ملک کی صورت حال یہ ہے کہ عمران خان کا مقابلہ شاید تاریخ کے سب سے بڑے اور منظم مافیا سے ہے۔ عمران خان غلطیاں بھی کرے گا لیکن اس کا ان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنا بڑا کارنامہ ہے ہم میں سے کوئی ان کے مقابلے میں آئے تو شاید سمجھوتہ کر لے گا جو سسٹم عزیر بلوچ، راؤ انوار  جو نام پہلے لکھے تھے ان کو سزا دینے کی اہلیت و جرأت نہیں رکھتا۔ وہ پی پی پی یا مسلم لیگ(ن) کے قبیلے (لیڈروں) کو سزا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

جب تک انصاف نہیں ہو گا ملک اور اس کے شہری محفوظ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ملک ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔عمران خان کے خلاف تمام اپوزیشن پارلیمینٹ کے اندر یا باہر اور ہمسایہ ممالک سے ہمدردیاں رکھنے والے پورا زور لگا رہے ہیں اور بھرپور سرمایہ خرچ کر رہے ہیں کہ عمران خان سے جان چھڑائی جائے، آخر سب سابق حکمران اکٹھے کیوں ہو گئے یہ سابقہ سیاسی دشمن ہیں، لیکن عمرن خان کا  ملک پر احسان ہے کہ اس نے مکروہ سسٹم کے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول عدلیہ، بیورو کریسی اور میڈیا، خرابی کرنے والے افراد کو عوام کے سامنے کھڑا کر دیا ہے، باقی پاکستانی عوام کی مرضی، عمران خان کی حکومت کو ملک کی تاریخ میں اچھے الفاظ میں لکھا جائے گا۔ مہنگائی، مہنگائی ہے عمران خان کے مخالفین کون سے غریب ہیں کروڑوں اربوں پتی ہیں، لڑائی تو اقتدار کا حصول ہے تین سال سے عمران خان گیا گیا، کہاں گیا وہ حکومت کی مدت پوری کرے گا جو لوگ عمران خان کی حکومت کا نام لے کر پاک فوج پر الزام لگا رہے ہیں وہ ملک کے خیر خواہ نہیں، سابقہ حکومتوں میں اقتدار کے مزے لے چکے ہیں۔ عمران خان عوام کا نمائندہ ہے،بستیاں آبادیاں الّو ویران نہیں کرتے، بستیاں آبادیاں تب ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے،اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو سلامت رکھے یہ مسلمانوں کی بے بہا قربانیوں کے بعد قائم ہوا تھا،لیکن دشمن پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ اس وقت جبکہ ملک کو اتحاد یگانگت کی ضرورت ہے کن لوگوں نے سوشل میڈیا پر آزادی اظہار کے نام پر ملک میں اداروں خصوصاً فوج کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے ذمہ دار لوگوں کو پتہ ہوگا۔

1958ء میں جنرل ایوب خاں نے مارشل لاء لگایا یا لگوایا گیافوج کے چند جرنیلوں نے بھی بہت جائیدادیں بنائی ہیں، زمینیں الاٹ کروائی ہیں ان کے بھی سیاسی لوگوں کی طرح پراپرٹی بنانے کے حقوق ہیں یہ ملک کے شہری ہیں فوج پاکستان کی ہے غیر ملکی نہیں ہے۔ سیاست دانوں کے مشورے سے سیاست دانوں کو قابو کرانے کے لئے ”ایبڈو“ کے نام سے نیا قانون بنا تاکہ سیاست دانوں کو قابو کر کے آرام سے حکومت کی جائے  چند سیاست دانوں نے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ان میں چودھری ظہور الٰہی شہید شامل ہیں، جو مقدمہ لڑ کر سرخرو ہوئے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کے سسر حسین شہید سہروردی بھی تھے 12 ستمبر 1956ء سے اکتوبر 1957ء تک وزیراعظم رہے ان پر بھی الزام لگا کر  سات سال کے لئے نا اہل کر دیا انہوں نے ثبوت پیش کئے کہ انہوں نے لائسنس ایشو نہیں کیا، لیکن نہیں مانا گیا۔ بہرحال سہروردی کی جگہ شیخ مجیب نے عوامی مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور مسلم کا لفظ نکال دیا یہ تاریخ ہے ملک کیوں ٹوٹا۔اب فوج کے خلاف فوج نہیں تھی تو پاکستان بن گیا۔ فوج  تھی قبائل نے لڑ کر کشمیر کو آزاد کرا لیا فوج تھی ملک ٹوٹ گیا،فوج کو اقتدار کے بھوکے لوگوں نے اور ملک دشمن قوتوں نے طاقت کے زور پر مجبور کیا کہ وہ ہتھیار ڈالیں۔ اِدھر اُدھر کا نعرہ لگنے کے بعد فوج تھی تو کارگل بھارت لے گیا یہ سیاسی وزیراعظم کا فیصلہ تھا سیاچین بھی اسی طرح بھارت کے حوالے ہو گیا۔ فوج کے طاقت ور ہونے سے بہت پہلے ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا پاکستان کے وجود کے ساتھ ہی۔ فوج ملکی سرحدوں کی محافظ، ملک میں اندرونی مشکلات کے لئے تیار خدانخواستہ زلزلہ ہو طوفان ہو، مری کی برف باری ہو، تو فوجی جوان کام کرتے ہیں عمران خان سے پہلے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں آئی ایم ایف سے قرضے لیتے تھے اور ان کا حساب ذاتی جائیدادیں۔

اسامہ بن لادن، ریمنڈ ڈیوس، کرنل جوزف، عارفہ صدیقی، لاڈلاانوار کا کراچی میں پختونوں کے خلاف ایکشن 4000 پاکستانیوں، غیر ملکیوں بیرون ملک بھیجنا، اے پی ایس سکول پر دہشت گردوں کے حملے سے بچوں کا شہید ہونا، امریکہ کے ڈرون حملے قبائلی علاقوں میں کرنا۔ ان تمام واقعات کا موجودہ حکومت عمران خان کے ساتھ جوڑنا اور ان کو پاک فوج کے ساتھ جوڑنا ملک دشمنوں کی زبان بولنا ہو سکتا ہے،فوج کے لوگ بھی اسی پاکستانی معاشرہ کے ہوتے ہیں۔ سیاسی لوگ اور سیاسی علماء اپنے لئے ہر چیز ہر طریقہ اختیار کر کے اقتدار حاصل کرنے کو حلال جائز ہے۔میرے خیال میں میری عقل کے مطابق ملک میں مارشل لاء فوجی حکومتیں سیاسی لوگوں کی مرضی سے یا ان کی عوام کے خلاف ملک کے خلاف سنگین اقدامات کی وجہ سے آتی ہیں یہ تو نا ممکن ہے کہ عیش و عشرت سول سیاسی لوگ کریں اور اپنی اولادوں کو بیرونی دنیا میں جائیدادیں بنا کر دیں۔ وہ پاکستان کے شہری بھی نہ ہوں صرف حکومت کرنے کے لئے پاکستان آئیں۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے پر فوجی جوان شہید ہوں، دشمنوں سے مقابلے کر کے شہید ہوں اور ملک  پاکستان کو دِل سے تسلیم نہ کرنے والوں ہمسایہ ممالک سے دوستی جو کہ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کریں پاکستان کا اقتدار ان لوگوں کے حوالے پاک فوج ہونے دے آخر کیوں۔جو ادارہ ملک کی حفاظت کرتا ہے اندرونی، بیرونی خطرات سے نبرد آزما ہے اس کو باقی معاملات میں دخل دینے کا حق ہے پاک فوج زندہ باد ۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -