مغرب افراتفری نہ پھیلائے، یوکرین روس تنازعہ پر یوکرینی صدر  بھی پھٹ پڑے

مغرب افراتفری نہ پھیلائے، یوکرین روس تنازعہ پر یوکرینی صدر  بھی پھٹ پڑے
مغرب افراتفری نہ پھیلائے، یوکرین روس تنازعہ پر یوکرینی صدر  بھی پھٹ پڑے
سورس: Twitter/@ZelenskyyUa

  

کیف (ویب ڈیسک) یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ اس کے تنازع کے بارے میں مغرب افراتفری نہ پھیلائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق یوکرین کے صدر ولاد میر زیلینسکی نے میڈیا سے گفتگومیں کہا کہ حملے کی خبروں نے یوکرین کی معیشت کوخطرے میں ڈال دیا ہے،  کچھ ممالک کے معزز رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ کل جنگ ہوجائے گی،یہ افراتفری اورگھبراہٹ پھیلانے والے بیانات  ہمارے ملک کومہنگی پڑیں گی، ملک میں عدم استحکام یوکرین کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

سفارت کاروں کوواپس بلانے کے اعلان پرتنقید کرتے ہوئے یوکرینی صدرولادمیرزیلینسکی کا کہنا تھا کہ کچھ ملک اپنے سفارتکاروں کوواپس بلا رہے ہیں۔سفارت کارکپتان کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ڈوبتے ہوئے جہازسے سب سے آخر میں نکلنا چاہئیے۔ یوکرین ٹائٹینک نہیں ہے اس لئے سفارتکاروں کوواپس بلانا غیرضروری اقدام ہے۔

چند روز قبل امریکا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اپنے سفارت خانے سے غیر ضروری سفارتی عملے اور اہل خانہ کو وطن واپس آنے کا حکم دیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتی عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ روس کی جانب سے یوکرین پر مسلسل حملے کی دھمکیوں کے بعد کیاگیا۔

مزید :

بین الاقوامی -