ڈرون: مستقبل کا خطرناک ترین ہتھیار

      ڈرون: مستقبل کا خطرناک ترین ہتھیار
      ڈرون: مستقبل کا خطرناک ترین ہتھیار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  کچھ زیادہ برس نہیں گزرے جب ہم ٹیلی فون کو عصرِ حاضر کی ایجادات میں ایک عجوبہ شمار کیا کرتے تھے۔ میلوں دور بیٹھاانسان آپ سے یوں گفتگو کرتا تھا جیسے وہ آپ کے سامنے موجود ہو۔ مختلف شہروں میں ٹیلی فون کرنے کے ’دفاتر‘کھلے ہوتے تھے۔ آپ وہاں جاتے تھے اور ایک نمبر دے کر کہا کرتے تھے کہ فلاں شہر میں فلاں آدمی سے میری بات کروا دو۔ یہ کہہ کر آپ وہیں دفتر میں دوسرے ’گاہکوں‘ کے ہمراہ کسی بنچ پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ معاً کاؤنٹر سے آپ کا نام پکارا جاتا اور کہا جاتا کہ آپ کا دیا ہوا نمبر فون پر ہے، اس سے بات کرلیں۔

لکڑی اور شیشے کا ایک کارٹن نما چھوٹا سا کمرہ بنا ہوتا تھا۔ آپ وہاں جاتے تھے تو فون کی گھنٹی بجتی  تھی اور آپ مطلوبہ نمبر پر بات کرکے باہر آجاتے تھے۔ دفتر والوں کو منٹوں سیکنڈوں کے حساب سے Paymentکرتے تھے اور اپنی راہ لیتے تھے……

لیکن آج وہ دفاتر، وہ کارٹن نما کھوکھے اور وہ انتظار کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ ان کی بجائے آپ کی جیب میں یہ سب کچھ موجود ہے۔ ایک چھوٹا سا موبائل نکال کر آپ بات کرتے اور اسے ایک معمول سمجھ کر دوسرے کام کاج میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس 5انچ x  ساڑھے 3انچ آلے میں دنیا جہان کا علم و فضل اور معلومات کا خزینہ موجود ہے۔ یہ آلہ آپ کو سنیما گھروں، گراموفونوں، ریڈیو، وی سی آرز، ٹیلی ویژن اور لائبریوں وغیرہ سے بے نیاز کر دیتا ہے۔یہ سب کچھ آج آپ کی جیب میں ہے۔ آپ کی محبوب تصویرِ یار تک اس میں موجود ہے…… جب ذرا گردن جھکائی، دیکھ لی!

یہی انقلاب اب جنگ و جدل کی دنیا میں آ چکا ہے۔ موبائل فون کی طرح اس ”کاروبارِ حرب و ضرب“ میں جس ہتھیار نے دھوم مچا رکھی ہے، اس کا نام ڈرون ہے۔آج ہم ڈرون کی ہمہ صفت موصوفی سے کم کم آشنا ہیں لیکن ایک جہانِ نو منتظر ہے جو ماضی کے تمام چھوٹے بڑے ہتھیاروں کو اس ڈرون میں سمو اور سمیٹ لے گا!

ذرا یاد کیجئے 1903ء میں دو امریکی بھائیوں (ولبررائٹ اور آر ویل رائٹ) نے کیلی فورنیا میں پہلا جہاز اڑایا تھا۔ اس کے گیارہ برس بعد یورپ میں پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی جس میں پہلی بار اس ایجاد کو استعمال کیا گیا۔ اول اول اسے بطور پوسٹ مین  (ڈاکیا) ایک مقام سے دوسرے مقام تک خطوط وغیرہ لیجانے کا مشن سونپا گیا۔ پھر جلد ہی اس کے ذریعے ملٹری کمانڈروں کو ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر منتقل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا اور اس کے بعد زخمیوں کو میدانِ جنگ سے اٹھا کر ہسپتالوں تک منتقل کرنا بھی اسی ہوائی جہاز نے ممکن بنایا…… یہ اس کا زمانہء امن کا استعمال تھا…… لیکن اس پہلی جنگ عظیم کے خاتمے تک اس ایجاد کو لڑاکا طیاروں، بمباروں اور ریکی مشنوں میں استعمال کیا گیا۔ 1918ء میں یہ جنگ ختم ہوئی اور 1939ء میں وہ جنگ شروع ہوئی جسے ہم دوسری جنگِ عظیم کہتے ہیں۔اس جنگ میں کروڑوں فوجی اور سویلین مارے گئے اور پھر اسی جنگ کا خاتمہ بی۔29بمبار نے یوں کیا کہ اپنی گود میں ایٹم بم رکھ کر ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری حملے کر دیئے جس میں تین لاکھ انسان آنِ واحد میں لقمہء اجل بن گئے۔ بایں ہمہ دنیا کے بہت سے جنگی مبصر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ بم استعمال نہ کئے جاتے تو اس جنگ کے ختم ہوتے ہوتے 2،3 سال مزید لگ جاتے اور دو تین لاکھ نہیں بلکہ دو تین کروڑ فوجی اور سویلین ہلاک ہو جاتے…… گویا یہ ہوائی جہاز (B-29) جہاں لاکھوں انسانی جانوں کا قاتل تھا وہاں کروڑوں انسانوں کو بچانے والا بھی تھا…… بالکل یہی حال اس ڈرون کا بھی ہے جس کی اولین پرچھائیاں پہلے پاکستان نے بھی دیکھیں اور اپنے 80ہزار افراد اس ایجاد کی نذر کردیئے اور پھر آج کی یوکرین۔ رشیاوار میں بھی یہی ڈرون ہے جو انسانی اور مادی (Material) بربادی کا باعث بنا ہوا ہے۔ 

مغربی میڈیا پر یہ خبریں آج ایک معمول بن کر ہماری نگاہوں کے سامنے سے گزر رہی ہیں کہ یہ ڈرون حملے یوکرین اور روس کے سٹرٹیجک اہداف (پُل، کارخانے، تیل کے ذخائر، بندرگاہیں اور بارودی گودام وغیرہ) کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

جب یہ ڈرون ہنوز ایجاد و اختراع کی اولین منازل میں تھا تو کہا جا رہا تھا کہ اس کے ذریعے ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک اشیائے ضروریہ لائی اور پہنچائی جا سکتی ہیں۔اس کے تجربات بھی کئے گئے۔زیورات، قلم (Pens)، کتابیں، شیونگ برش، ادویات، انجکشن اور اس طرح کی الابلا امریکہ سے یورپ اور یورپ سے ایشیاء کے ممالک تک پہنچانے کی خبریں وڈیوز پر عام کی گئیں۔ لیکن جس طرح ہوائی جہاز کو پہلے پُرامن مقاصد کے استعمال اور پھر جوہری بم کی ترسیل تک استعمال کیا گیا تھا اسی طرح اب ڈرون کو کرٹیکل اہداف کی بربادی کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مغرب کی ابلاغی دنیا میں یہ تذکرے اب اتنے عام ہو چکے ہیں کہ ہم ان کے مستقبل کے امکاناتِ استعمال کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

وہ دن دور نہیں جب یہ ڈرون جو آج میگا سٹرٹیجک اہداف کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے وہ آنے والے کل میں مائیکرو ٹیکٹیکل اہداف کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر اڑائے جانے والے ننھے ڈرون اور بچوں کے کھلونوں کی طرح گھروں کے لانوں میں اڑائے جانے والے ٹوائے ڈرون (Toy Drone) اب ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں۔ اب یہ ڈرون آپ کی جیب میں اسی طرح رکھے جا سکیں گے جس طرح آ پ کا موبائل رکھا ہوا ہے۔ آپ اس کو باہر نکالیں گے، اس کی سکرین پر ایک نمبر ڈائل کریں گے اور اس میں سے ایک ڈرون اڑ کر اُس بلڈنگ / انسان تک جا پہنچے گا جس کو برباد کرنا یا قتل کرنا آپ کا مقصود ہوگا۔لیکن دوسری طرف اس کا ہدف بھی اس کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا۔ وہ اسے راستے ہی میں انٹرسیپٹ کرے گا اور ناکارہ کر دے گا۔

یہ تجربات آج کل مغرب کی لیبارٹریوں میں ہو رہے ہیں لیکن ان کو ہنوز افشاء نہیں کیا جا رہا۔ جس طرح چند عشرے پہلے لائن ٹیلی فون کا استعمال ہم پاکستانیوں کے لئے ایک عجوبہ تھا اسی طرح آنے والے چند عشروں میں یہ مائیکرو ڈرون بھی عجوبے کے خول سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔ اس انقلاب کو اگر ہم نہیں دیکھ سکیں گے تو ہماری اگلی نسل یقینا اس سے ”بالواسطہ“ بہرہ یاب ہوگی…… یہ بلواسطہ کا ٹکڑا اس لئے لگا رہا ہوں کہ ہم پاکستانی ”براہِ راست“ کے ٹکڑے سے کوسوں دور رہنے کے عادی ہیں۔یورپ اور امریکہ کے حکماء (سائنس دانوں) کے عزائم کچھ اور ہیں لیکن ہمیں ان سے کیا غرض؟…… وہ بے شک کہتے پھریں۔ ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے؟ ہمارے ایک حقیقت پسند شاعر نے یہ اشعار بھی کہے تھے۔ خواجہ دل محمد دل ایک شاعر ہی نہیں ایک ریاضی دان بھی تھے اور عالمگیر شہرت کے ریاضی دان …… (سن پیدائش 1887ء اور سن وفات 1961ء) …… ان کے چند اشعار:

کاش سیکھیں اہلِ مشرق، غربیوں کے رنگ ڈھنگ

ان کی ہمت، ان کی جودت، ان کا جوش، ان کی امنگ

دل میں جرأت ہاتھ میں تہذیب کی تلوار ہے

مشرقی سوتا ہے لیکن مغربی بیدار ہے

فکرِ ایجادات میں وہ منہمک ہیں صبح و شام

ہیں عناصر ان کے تابع، برق ہے ان کی غلام

مزید :

رائے -کالم -