معطل ضلعی حکومتیں.... ایک جائزہ

معطل ضلعی حکومتیں.... ایک جائزہ

  

13اپریل2013ءکو ایک تحقیقاتی ادارے.... Center for Peace and Development Initiatives.... کے زیر اہتمام ایک سروے ہوا، جس میں ضلعی حکومتوں کی طرف سے پیش کئے جانے والے بجٹ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ سٹڈی میں انکشاف ہوا کہ ضلعی حکومتوں کی طرف سے پیش کئے جانے والے مالی میزانیوں میں قوانین اور قواعد و ضوابط کو بلڈوز کیا جا رہا ہے اور بجٹ جیسے اہم، حساس اور قانونی پراسیس میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ بجٹ رولز 2003ءکی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ خلاف ورزیوں کا یہ سلسلہ2010ءسے شروع ہوا اور تاحال جاری ہے۔

بجٹ رولز کے مطابق بجٹ پراسیس سے قبل عوامی شمولیت یقینی بنانے کے لئے بجٹ کال لیٹر جاری کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہPublic Participation کا قانونی تقاضا پورا ہو سکے۔ سٹڈی کے مطابق بجٹ تیاری میں یہ تقاضا پورا نہیں کیا گیا.... دوسرا2010ءسے منتخب ضلعی حکومتوں کو عضو معطل بنا دینے کے باعث عوام کے منتخب نمائندے کسی قسم کی آﺅٹ پٹ نہیں دے سکے، عملاً اربوں روپے کی رقوم گریڈ18،19اور20کے بابوﺅں کی صوابدیدی گرانٹ بن کر رہ گئیں اور سرکاری بابوﺅں کا احتساب کرنے کا کوئی میکانزم پروان چڑھنے ہی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ ان بابوﺅں نے پنجاب حکومت کی مدد سے آڈیٹر جنرل پاکستان کے آڈٹ کروائے جانے سے متعلق خطوط کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کے خط کے مطابق 150ارب روپے کے فنڈز کے استعمال کا تاحال آڈٹ نہیں ہوا۔

سی پی ڈی آئی کی تحقیق کے مطابق اضلاع نے 2010ءکے بعد بجٹ کی تیاری سے قبل قانونی تقاضوں کے عین مطابق بجٹ کال لیٹر جاری نہیں کئے اور نہ ہی ضلعی دفاتر میں2010ءکے بعد پیش کئے جانے والے بجٹ کا متعلقہ ریکارڈ دستیاب ہے۔ سی پی ڈی آئی کے نمائندوں کو دوران سروے مانگے جانے کے باوجود ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا جو پنجاب کے موجودہ حکمرانوں کی گڈ گورننس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ سروے کے مطابق 36میں سے صرف 6اضلاع نے اپنی ویب سائٹ کو اَپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی،30اضلاع نے سرے سے اس قانونی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔اضلاع کے اندر شروع کئے جانے والے پراجیکٹس کے اخراجات کی تفصیل بھی آج تک ایک راز ہے، کیونکہ اس حوالے سے ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ سٹڈی میںبتایا گیا ہے کہ ای ڈی او فنانس کے دفاتر میں بجٹ سازی کے اہم کام کو مکمل کرنے کے لئے پنجاب بھر میں489پوسٹیں ہیں، جن میں سے 270 خالی ہیں۔

عوام کے منتخب ناظمین کو معطل رکھ کر پنجاب حکومت نے بہت بڑا ظلم کیا۔ ان اداروں کے غیر فعال ہونے سے جہاں اور بہت سارے سیاسی و سماجی مسائل نے جنم لیا ،وہاں بدترین کرپشن اور قومی رقوم کے خورد بُرد ہونے کے واقعات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔ ناظم اور ڈی سی او ایک دوسرے پر چیک تھے، یہ توازن ختم ہونے کے باعث ہر ضلع میں ون مین راج قائم ہو گیا، جس کا نتیجہ قومی رقوم کے ضیاع ، ہر شعبے میں عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اور استحصال کی صورت میں سامنے آیا۔ بلدیاتی اداروں کے نہ ہونے کے باعث کن کن مسائل نے جنم لیا، یہ جاننے کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق زیر سماعت کیس میں معزز جج صاحبان کے ریمارکس میں دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ چار سال میں ضلعی حکومتوںکے نام پر قومی خزانہ کس حد تک برباد ہوا، اس کا حقیقی اندازہ تو اسی وقت ہو گا جب آڈٹ ہو گا، کیونکہ جب سے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے، بلدیاتی اداروں کو ملنے والی رقوم کا آڈٹ نہیں ہوا۔

2009ءکے بعد شہباز حکومت نے ناظمین کی کرپشن پر مبنی بڑے بڑے اشتہار چھپوائے، مگر آج پتہ چلا کہ کرپشن کے وہ اشتہار فقط مضبوط سیاسی پس منظر رکھنے والے ناظمین کی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے تھے۔ جیسے ہی ناظمین کی ایک بڑی تعداد نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، یہ انکوائریاں اور اشتہار بازی بند ہو گئی۔ شہباز حکومت نے 36 اضلاع کی 4500 یونین کونسلوں میں کام کرنے والے 58500 منتخب عوامی نمائندے برطرف کر کے یہ ادارے 36 سرکاری ملازم ایڈمنسٹریٹرز کے حوالے کر دیئے، جس کی وجہ سے بلدیاتی ادارے کرپشن اور لوٹ مار کا گڑھ بن گئے۔ بلدیاتی الیکشن کروائے جانے سے متعلق عدالت عالیہ کا آئینی کردار لائق تحسین ہے، تاہم عدالت عالیہ بلدیاتی اداروں کو2008ءکے بعد ملنے والے فنڈز کا آڈٹ کرانے کا بھی حکم دے، بڑے بڑے انکشاف سامنے آئیں گے اور اس ضمن میں سابق ناظمین کے بیانات بھی لئے جا ئیں۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شہباز حکومت نے2010ءمیں کرپشن کے الزامات لگا کر تمام ناظمین کو فارغ کر دیا، حالانکہ چیک سائن کرنے والی اتھارٹی ڈی سی او کی تھی۔ اگر کسی ناظم نے کرپشن کی بھی تو کوئی ناظم ڈی سی او کے بغیر کرپشن کر ہی نہیں سکتا تھا، مگر آج تک نہ صرف کسی ڈی سی او کو کرپشن چارج پر ٹرائل نہیں کیا گیا، بلکہ دوبارہ ضلعی حکومتوں کا کنٹرول انہی ڈی سی اوز کے حوالے کر دیا گیا۔   ٭

مزید :

کالم -