جہیز کی لعنت نے اس گاؤں کے بیشتر خاندانوں کو دیوالیہ کردیا، لیکن پھر گاؤں والوں نے ایسا حل نکالا کہ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

جہیز کی لعنت نے اس گاؤں کے بیشتر خاندانوں کو دیوالیہ کردیا، لیکن پھر گاؤں ...
جہیز کی لعنت نے اس گاؤں کے بیشتر خاندانوں کو دیوالیہ کردیا، لیکن پھر گاؤں والوں نے ایسا حل نکالا کہ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی (نیوز ڈیسک) جہیز کی لعنت نے بے شمار لڑکیوں کا گھر بسنے نہیں دیا اور بے شمار ے گھر بسنے کے بعد اجاڑ دئیے مگر پھر بھی یوں لگتا ہے کہ اس لعنت سے نجات پانا ممکن نہیں۔ بھارت کی ریاست کیرالہ کے قصبے نیلامبور کے باسی بھی کبھی یہی سمجھتے تھے کہ وہ اس لعنت سے نجات نہیں پاسکتے لیکن چھ سال قبل ان لوگوں نے جہیز کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا اور اب یہاں اس قبیح رسم کا نام و نشان نہیں۔

مزید پڑھیں:جہیز کی رقم پوری کرنے کےلئے دولہا کی سسرال میں چوری

اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ سے بات کرتے ہوئے قصبے کے سربراہ شوکت نے بتایا کہ ان کے قصبے میں ہر ماہ درجنوں شادیاں ہوتی تھیں جن پر لاکھوں خرچ کئے جاتے تھے۔ مہنگے جہیز کے باعث بالآخر حالت یہ ہوگئی کہ قصبے کے ایک تہائی سے زائد گھرانے دیوالیہ ہوگئے۔ یہ حالات دیکھ کر گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کوئی جہیز دے گا نہ لے گا۔ قصبے کی پنچایت کے فیصلے کے بعدہر کوئی اس پر عمل کیلئے سرگرم ہوگیا اور ’Dump Dowry‘ کے نام سے ایک خصوصی تنظیم بھی بنادی گئی جس کے جاسوس چوری چھپے جہیز دینے اور لینے والوں کا سراغ لگاتے تھے۔ محض ایک سال کی مہم کے بعد لوگوں میں اس قدر آگاہی پیدا ہوگئی کہ سب نے جہیز سے توبہ کرلی اور اسے سب سے بڑا جرم قرار دے دیا گیا۔

مزید پڑھیں:جہیز کی نئی صورت، یمنی باپ نے دولہا سے’ فیس بک‘ پر دس لاکھ لائیکس کا مطالبہ کردیا

قصبے والوں کا کہنا ہے کہ اب پانچ سال گزرگئے ہیں اور کسی ایک بھی شادی میں جہیز نہیں دیا گیا۔ اس خوشگوار تبدیلی کے بعد قصبے کی سماجی زندگی میں بھی خوشگوار تبدیلی آئی ہے اور لوگوں کے معاشی حالات بھی بہتر ہوگئے ہیں۔ جہیز کی لعنت سے نجات پانے کے بعد اب قصبے والوں نے گھریلو تشدد اور ناخواندگی کے خلاف بھی مہم شروع کردی ہے۔ اس قصبے کی شاندار مثال کو عام کرنے کیلئے ایک خصوصی ویب سائٹ dowryfreemarriage.com بھی قائم کردی گئی ہے جہاں جہیز کے بغیر رشتے ڈھونڈنے والوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس