صبح سویرے سڑکوں پر مانگنے والا یہ بھکاری شام کو کیا کرتا ہے؟ جواب ایسا کہ جو جانے اسے یقین نہ آئے

صبح سویرے سڑکوں پر مانگنے والا یہ بھکاری شام کو کیا کرتا ہے؟ جواب ایسا کہ جو ...
صبح سویرے سڑکوں پر مانگنے والا یہ بھکاری شام کو کیا کرتا ہے؟ جواب ایسا کہ جو جانے اسے یقین نہ آئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی (نیوز ڈیسک) اکثر اوقات بھکاریوں کے متعلق حیران کردینے والے انکشافات سامنے آتے ہیں، جو عموماً ان کی بظاہر غربت کے پیچھے چھپی دولت اور جائیداد کے متعلق ہوتے ہیں لیکن ایک بھارتی بھکاری کی اصلیت سامنے آئی تو سب یہ جان کر حیران رہ گئے کہ دن بھر بھیک مانگنے والا یہ شخص دراصل ایک ممتاز یونیورسٹی میں قانون کا طالب علم بھی ہے۔

مزید پڑھیں:ایسا کیا ہو گیا کہ خوبرو چینی ماڈلز کو بھکاری بن کر سڑک پر بیٹھنا پڑ گیا

اڑتالیس سال بھکاری شیو سنگھ کے متعلق اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ روزانہ تین بجے تک بھیک مانگتا ہے لیکن جیسے ہی تین بجتے ہیں وہ ایک پرانے تھیلے میں کتابیں ڈال کر راجھستان یونیورسٹی کالج کیمپس پہنچ جاتا ہے اور اپنے ساتھی طالبعلموں کے ساتھ بیٹھ کر لیکچر سننے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ شیو سنگھ کے بارے میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اس نے جب سے قانون کی تعلیم شروع کی ہے وہ کبھی غیر حاضر نہیں ہوا اور جس دن کوئی کلاس نہ ہو وہ اس دن یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھ کر مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھی طالب علموں اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر یقین نہیں آتا کہ شیو سنگھ بھیک بھی مانگتا ہے کیونکہ وہ بہت ہی محنتی اور قابل طالبعلم ہے اور اکثر ساتھی طلباء کو مشکل باتیں سمجھنے میں مدد بھی دیتا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ شیو سنگھ نے بتایا کہ کبھی اس کا بھی خاندان اور خوشحال زندگی تھی لیکن والدین کی وفات کے بعد اسے دیگر رشتہ دار بھی چھوڑ گئے اور ہاتھوں کی معذوری کے باعث وہ کام کاج نہ کرسکتا تھا۔ اس نے بھیک مانگ کر زندگی گزارنا شروع کردی اور مناسب رقم جمع ہونے کے بعد اسے کہیں اور استعمال کرنے کی بجائے تعلیم پر صرف کرنا شروع کردیا اور بالآخر یونیورسٹی تک پہنچ گیا۔ اگرچہ اب اس کی عمر خاصی ہوچکی ہے لیکن وہ قانون کی تعلیم مکمل کرکے باعزت زندگی گزارنے اور دوسروں کے کام آنے کیلئے پرعزم ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس