وزیراعلی پنجاب کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ہسپتال میں عملہ نہ ہونے پر ایم ایس، ڈی ایم ایس معطل

وزیراعلی پنجاب کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ہسپتال میں عملہ نہ ...
وزیراعلی پنجاب کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ہسپتال میں عملہ نہ ہونے پر ایم ایس، ڈی ایم ایس معطل

  

لاہور (جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا طوفانی دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے حفاظتی انتظامات اورامدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور ریلیف کیمپوں کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے بھکری احمد خان کے دورہ کے دوران دریائے سندھ سے ملحقہ نشیبی علاقو ں میں سیلابی پانی کے بہائو کا جائزہ لیااورمحکمہ آبپاشی و ضلعی انتظامیہ کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ محکمہ آبپاشی 2010ء کے سیلاب کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ حفاظتی پشتوں کو فی الفور مضبوط کیا جائے اور بندوں کی بلندی میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کیلئے وسائل کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ دوسرا ریلہ آنے سے پہلے کام مکمل کیا جائے گا اور لیہ کی بستیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ہرممکنہ کوشش کی جائے گی جبکہ انسانی جانو ں کا انخلاءاولین ترجیح ہونی چاہیئے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مال مویشیوں کو ونڈا کی فراہمی اور ویکسینیشن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بھکری احمد خان میں سیلاب متاثرہ افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے مکانات، فصلوں اور مال مویشیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گااورجب تک آپ اپنے پاﺅں پر کھڑے نہیں ہو جاتے، میں آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔میں2010 کے بدترین سیلاب میں بھی میانوالی سے لے کر کوٹ سبزل تک آپ کے درمیان تھا، اب بھی ساتھ رہوں گا،عوام کی خدمت ہی میں میری خوشی ہے۔وزیراعلیٰ نے دریائے سندھ میں بھل جمع ہونے اوروقت پر اس کی صفائی نہ کروانے کے منصوبے کو موخر کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ذمہ دار ہوگا اسے قانون کے تحت کڑی سزا ملے گی۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ انہارکے افسران سے استفسار کیا کہ2010 میں آنے والے بڑے سیلاب کے بعد دریائے سندھ اور نالہ کریک میں پانی کے بہاﺅ کی تبدیلی کے حوالے سے سٹڈی کیوں نہیں کرائی گئی؟ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کی سرزنش کی اورکہا کہ حفاظتی پشتوں میں پڑنے والے شگاف پر غفلت سامنے آئی تو سخت ترین کارروائی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ متاثرین ہمارے بھائی بہن ہے اورانتظامیہ ان کا اپنے بہن بھائیوں کی طرح خیال رکھے،وزیراعلیٰ کے خطاب کے دوران متاثرین کے ” وزیراعلیٰ شہباز شریف زندہ باد، شیر آیا“ کے نعرے لگائے۔وزیراعلیٰ نے شاہ والابند کا فضائی جائزہ لیا۔بعدازاں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے گورنمنٹ اسلامیہ گرلز ہائی سکول لیہ میں سیلاب متاثرین کےلئے لگائے گئے ریلیف کیمپ کامعائنہ کیااور کیمپ میں بچوں کےلئے لگائے گئے کڈز کیمپ کا بھی دورہ کیا۔

وزیراعلیٰ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے ساتھ گھل مل گئے اوران کے ساتھ گفتگو بھی کی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ گھروں میں واپسی تک متاثرین کے میں ساتھ رہوں گااورمتاثرہ علاقوں میں آتا جاتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ امدادی کیمپوں میں سیلاب متاثرین کےلئے کھانے پینے کی اشیاء،منرل واٹر،ادویات کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ڈی سی او لیہ نے امدادی سرگرمیوں کے بارے میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت دریائے سندھ میں لیہ کے مقام پر 4 لاکھ کیوسک پانی بہہ رہا ہے اور دریا کی قریبی آبادیوں سے سو فیصد انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ دریائے سندھ کی قریبی آبادیوں سے 2700 لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے اور لیہ میں کسی بھی جگہ پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ نے حفاظتی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے لیہ میں نوازشریف ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اورہسپتال کو مکمل طور پر فنکشنل نہ کرنے اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شدیدناراضگی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ متعلقہ حکام پر شدید برہم ہوئے اورانہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لیہ کے ایم ایس، ڈی ایم ایس، اے ایم ایس اور ای ڈی او ہیلتھ کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا اوروزیراعلیٰ نے اس ضمن میں چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں طبی عملے کی تعیناتی نہ ہونے اور مشینری کے نصب نہ کئے جانے پر انکوائری کا بھی حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہسپتال کی عمارت کے مختلف حصوں میں گئے اورحکام سے مختلف سوال پوچھے جن کے جواب نہ ملنے پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کی سخت سرزنش کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 10 کروڑ روپے کی لاگت سے ہسپتال کی عمارت بناکر طبی عملے کو تعینات نہ کرنا اورمشینری کا نہ ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اورمجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ جعلی او رغیر معیاری ادویات تیار او ر فروخت کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے موت کے سوداگروں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ جعلی ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کے نا پاک گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جائے گا۔ جعلی ادویات تیار وفروخت کرنے والے کڑی سے کڑی سزا کے حقدار ہیں اوراس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کی جگہ جیل ہے اور عوام کو کسی بھی صورت جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث مافیا کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار ویڈیو لنک کے ذریعے سول سیکرٹریٹ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جعلی ادویات کی تیاری و فروخت کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے اور اس مکروہ دھندے کے سدباب کیلئے سزائیں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ڈرگ ایکٹ 1976 میں ترامیم کے لئے مسودے کو جلد حتمی شکل دی جائے اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاﺅن جاری رکھا جائے۔ اجلاس میں صوبے میں جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاﺅن کیلئے ٹاسک فورسز کی تعداد 3سے بڑھا کر 4کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ نئی ٹاسک فورس کے سربراہ ایم پی اے ذیشان گورمانی ہوں گے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں خود مختار ڈرگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لانے کےلئے تیز رفتاری سے اقدامات کئے جائیں اور اتھارٹی کے قیام کے لئے فریم ورک کے مسودے کو جلد حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن میں ملوث ڈرگ انسپکٹروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ادویات تیار کرنے والے مینوفیکچر ز کے یونٹس کی جیوٹیگنگ کی جائے جبکہ میڈیکل سٹورز اور ادویات سٹاک کرنے والوں کی بھی جیو ٹیگنگ کرائی جائے۔ ادویات تیار کرنے والے یونٹس کی با قاعدگی سے انسپکشن کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کے معاملات کو فی الفور درست کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کو آﺅٹ سورس کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کے آﺅٹ سورس ہونے تک ادویات کے نمونوں کی بیرون ملک سے چیکنگ کا میکنزم تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نئے فارماسسٹ اور ڈرگ انسپکٹرز کی بھرتی کا کام جلد مکمل کیا جائے۔ ڈیجیٹل انسپکشن مانیٹرنگ اینڈ ایوویلیشن سسٹم کا دائرہ کار پنجاب کے ہر ضلع تک بڑھایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے جعلی ادویات کے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر خواجہ عمران نذیر اور قاضی عدنان فرید کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ اسی جذبے اور محنت سے کریک ڈاﺅن جاری رکھا جائے اور اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد ہونا چاہٖئیے۔ وزیراعلیٰ نے بعض امور میں تاخیر پر متعلقہ حکام کی سرزنش کی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کو از خود فیصلے کرکے اقدامات اٹھا نے چاہئیں۔ سیکرٹری صحت نے جعلی اورغیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاﺅن اور مستقبل میں کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر ،رانا بابر حسین ، اراکین اسمبلی نعیم انصاری ، نوابزدہ حیدر مہدی، محمد وسیم بٹ، سید عبدالعلیم ،محمد علی کھوکھر، ڈاکٹر نادیہ عزیز،انسپکٹرجنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ حکام نے سول سیکرٹریٹ لاہو رسے ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے لیہ،چیئرمین ٹاسک فورس جنوبی پنجاب زون ایم پی اے قاضی عدنان فرید نے بہاولپور اور ایم پی اے ذیشان گورمانی نے مظفر گڑھ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ لیہ کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورہ کے بعدوزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیر صدارت لاہورایئر پورٹ پرنوازشریف ہسپتال لیہ کے حوالے سے اعلی سطح کاہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے نواز شریف ہسپتال لیہ میں عملے کی تعیناتی نہ ہونے اورمشینری نصب نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اس طرح معاملات نہیں چلیں گے،میں نے آج خودہسپتال کا دورہ کیا اورموقع پر جاکر صورتحال کا جائزہ لیا۔کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نواز شریف ہسپتال لیہ میں عملہ ہے نہ مشینری ہے صرف خالی عمارت موجود ہے۔ہسپتال میں عملے اور مشینری کا نہ ہوناانتہائی افسوسناک ہے،اس طرح حکومتی معاملات نہیں چلتے۔فائلوں کے پیٹ کاغذات سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ہسپتال خالی پڑا ہے ۔عملہ مفت تنخواہیں کھا رہا ہے اور مفت ادویات کا پیسہ بھی ہضم کیا جارہاہے۔

متعلقہ حکام کو اللہ کا خوف ہے نہ عوام کا ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ اگر آپ اپنے فرائض منصبی ذمہ داری سے ادا کرتے اورموثر چیک اینڈ بیلنس ہوتاتو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ جس نے پنجاب میں رہنا ہے، اسے کام کرنا ہوگا۔ میں 10کروڑ عوام اور اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں، کسی کوبھی ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنے دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کو ضائع کرنے والوں کو حساب دینا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایسے افسران جو کام نہیں کرتے یا فیلڈ میں نہیں جاتے انہیں فارغ کریں گے،بہت ہوچکا،اب یہ سلسلہ نہیں چلے گاجو سیکرٹریز فیلڈکے دورے کر کے خود صورتحال کا جائزہ نہیں لیں گے ان کا پنجاب میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ۔ سیکرٹریز کو ہرہفتے میں لازماً فیلڈ میں جانا ہوگا اور اپنے متعلقہ محکمے کی کارکردگی کے حوالے سے زمینی حقائق سے آگاہی حاصل کرنا ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ سیکرٹریزکے دوروں کے حوالے سے پلان مرتب کیا جائے ۔صوبائی و زیر خزانہ عائشہ غوث پاشا،حنیف عباسی،چیف سیکرٹری خضرحیات گوندل،چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات، سیکرٹری خزانہ ،سیکرٹری صحت اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے لاہور سمیت بڑے شہروں کی خوبصورتی میں اضافے کےلئے پبلک مقامات پر آرٹ کے شاہکار بنانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔اس ضمن میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں پبلک مقامات پر آرٹ کے شاہکار بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر لاہور ڈویژن نے لاہور سمیت دیگر شہروں کی خوبصورتی میں اضافے کیلئے پبلک مقامات پر آرٹ کے شاہکار بنانے کے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران لاہورمیں واہگہ ڈسٹری بیوٹری پرواکنگ اورسائیکلنگ ٹریک کے قیام کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی،جس کے تحت5کلو میٹر طویل واکنگ ٹریک اور 5کلو میٹر کا سائیکلنگ ٹریک بنے گا۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹ کے شاہکار شہروں کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنیں گے ۔آرٹ کے طلباءکی تخلیقی صلاحتیں بڑھانے او ر فنون لطیفہ کے فروغ کے حوالے سے بھی یہ منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس منصوبے کا لاہورسے آغازکر کے دائرہ کار پنجاب کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بڑھایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پبلک مقامات پر آرٹ ورک کے منصوبے کاجامع روڈ میپ مرتب کیا جائے اور واہگہ ڈسٹری بیوٹری کےساتھ واکنگ اورسائیکلنگ ٹریک کے علاوہ کھیل کے گرائونڈ بنانے کا جائزہ لیاجائے اورمنصوبے کو ہارٹیکلچر کے ذریعے خوبصورت بنایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے کمشنر لاہورڈویژن کو ہدایت کی کہ میٹرو سٹیشنوں اوربس سٹاپوں کو خوبصورت بنایا جائے اوراس حوالے سے پلان مرتب کر کے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں عالمی معیار کا تھیم پارک بھی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گریٹر اقبال پارک کا منصوبہ شہر لاہور کی خوبصورتی بڑھائے گااورعوام کوبہترین تفریحی سہولتیں فراہم کرے گا۔گریٹر اقبال پارک میں آرٹ گارڈن بھی بنایا جائے گا۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور نے واہگہ ڈسٹری بیوٹری کے ساتھ واکنگ اورسائیکلنگ ٹریک کے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہاں لوگوں کی سہولت کے لئے پارکنگ کی جگہ بنائی جائے گی ۔سائیکلنگ کے شوقین افراد کو سپورٹس سائیکلیں فراہم کی جائیںگی اوراس پورے عمل کو آئوٹ سورس کیا جائے گا۔  ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے،ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور،متعلقہ حکام، معروف آرکیٹیکٹ نیئرعلی دادااورلاہور بائینیل (Biennale) فائونڈیشن کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔

مزید : قومی /اہم خبریں