ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت میں سینکڑوں کیس زیرالتواء

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت میں سینکڑوں کیس زیرالتواء

 لاہور(عامر بٹ سے)کام سے عدم دلچسپی،اضافی ڈیوٹیوں کا بہانہ، ایڈیشنل ڈسرکٹ کلکٹر لاہور کی عدالت میں زیر سماعت 400سے زائد کیسز التواء کا شکارہو گئے،سائلین انصاف کے انتظارمیں دربد ر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور،لمبی تاریخیں دے کرسائلین کو ٹرخایا جانے لگا،سینئر جونیئر رجسٹری،وراثت کی تقسیم ، ریکارڈ کی درستگی ،نشاندہی ،بوگس انتقالات،ریکارڈ میں ٹمپرنگ سمیت دیگر اہم نوعیت کے کیسز کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسرا ن سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ معلومات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کی عدالت میں زیر سماعت 400سے زائد کیسز اضافی ڈیوٹیوں کا بہانہ بنا کر التواء میں ڈال دیئے گئے ہیں جس کے باعث جہاں کیسز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے وہاں سائلین کو بھی مستقل طور پر دھکے کھانے اور ذہنی اذیت سے دوچار کر دیا گیا ہے جو انصاف کے حصول کیلئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور عرفان نوازمیمن کی عدالت کے چکر کاٹ کر مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں ،ان میں بعض درجنوں اہم نوعیت کے وہ کیسز بھی شامل ہیں جن میں اسسٹنٹ کمشنرز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں کی گئیں ہیں ، اس کے علاوہ سینئر جونیئر رجسٹری،بوگس انتقالات ، ریکارڈ میں ردوبدل،نشاندہی اور ریکارڈ میں درستگی سمیت سینکڑوں اہم نوعیت کے کیسز بھی سماعت اور انصاف کے منتظر ہیں جن سے مسلسل بے اعتنائی برتی جارہی ہے۔سائل محمد عاطف ،محمد ایوب اور قاسم کا کہنا تھا کہ ہماری وراثت کی تقسیم کے کیس گزشتہ چھ ماہ سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کی عدالت میں زیر سماعت ہیں لیکن آج تک ہمیں صرف تاریخیں دے کر ٹرخایا جارہا ہے ،پی اے صاحب ہر دفعہ ،صاحب آفس نہیں ہیں ،صاحب ایمرجنسی میں گئے ہیں کہہ کر نئی تاریخ دے کر بھیج دیتے ہیں ،کاشف اور محمد صدیق کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار ماہ سے انصاف کے حصول کے لئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کے دفتر کے چکر کاٹ کررہے ہیں لیکن آج تک ہم نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر صاحب کی شکل تک نہیں دیکھی ،ہم غریب لوگ ہیں اتنی دور سے کرایہ خرچ کر آتے ہیں لیکن ادھر آنے پر پتہ چلتا ہے کہ صاحب ابھی آئے ہی نہیں ہیں سارا دن انتظار کرنے کے بعد ہمیں یہ کہہ کر نئی تاریخ دے دی جاتی ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں آج نہیں آسکتے ،ہماری بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران سے دردمندانہ اپیل ہے کہ ہمارے کیسز کی سماعت ہنگامی بنیادو ں پر کی جائے تاکہ ہمیں بھی سکون حاصل ہو اور انصاف کا بول بالا ہو۔

مزید : میٹروپولیٹن 1