وزیراعظم کا دورہ ناروے اور روس

وزیراعظم کا دورہ ناروے اور روس

وزیراعظم میاں نوازشریف نے حال ہی میں ناروے اور روس کے سرکاری دورے کئے۔ ناروے اور روس دونوں بہت اہم ممالک ہیں ، جس کے دوران انہوں نے اہم سربراہی اجلاسوں میں شرکت کرنے کے علاوہ کئی سربراہانِ مملکت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کے دونوں دورے ٹائمنگ کے اعتبار سے بہت اہم ہیں، کیونکہ یونان میں ہونے والے حالیہ ریفرنڈم میں آنے والا نتیجہ اور اس کے بعد یورپ میں ایک نیا سیاسی و معاشی آرڈر بہت دوررس اثرات کے حامل ہیں اور اس اہم موقع پر پاکستانی وزیراعظم کی اہم ترین ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایران کی مغربی ممالک سے ہونے والی نیو کلیئر ڈیل ، افغانستان اور مشرقی وسطی میں تیزی سے پسپا ہونے والی امریکی پوزیشن اور اس کا خطہ سے متوقع اخراج، یمن کی صورت حال ،چین کے اقتصادی کوریڈور بیلٹ کے لئے پیکیج اور یوکرائن کی وجہ سے پورے یوریشیا کی نئی صف بندی وغیرہ وغیرہ ،یہ اتنے سارے معاملات ہیں جو بہت تیزی سے دنیا اور خصوصاً ایشیا کا نقشہ بدلنے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم میاں نوازشریف کے دونوں ملکوں کے دورے انتہائی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

ناروے یورپ کا خوش حال ترین ملک ہے، بلکہ اس کی فی کس آمدنی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے لئے ناروے کئی وجوہات کی وجہ سے بہت اہم ہے، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یورپی ممالک میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں ناروے سرفہرست ہے، دوسری وجہ جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ ناروے میں مقامی آبادی کے بعد سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے،جس کی وجہ سے ناروے کے لئے پاکستان دنیا کا اہم ترین ملک ہے۔ اس وقت بھی ناروے کی پارلیمنٹ، سیاست، عدلیہ اور ہر شعبہ زندگی میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد مصروف عمل ہیں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے دورہ ناروے کے دوران وہاں کی وزیراعظم ایرناسولبرگ سے ملاقات کی،جس میں ناروے نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی،جس میں توانائی اور تعلیم کے شعبے سرفہرست ہیں۔ناروے پن بجلی اور شمسی توانائی سمیت بہت سے نئے منصوبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم میاں نوازشریف کی ناروے کے ولی عہد شہزادہ ہا کون سے بھی خصوصی ملاقات ہوئی، جس میں شہزادہ ہاکون نے تعلیمی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ناروے میں وزیراعظم میاں نوازشریف تعلیم کی عالمی سربراہی کانفرنس میں شریک ہوئے، جس میں پاکستان سمیت بہت سے ممالک کے سربراہان موجود تھے، اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ توجہ بھی انہی دونوں شعبہ جات یعنی توانائی اور تعلیم دینے کی ہے اور وزیراعظم میاں نوازشریف کی ان دونوں شعبوں میں جاری رہنے والی مصروفیات اور بہت سے ملکوں کے سربراہان سے ملاقاتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اس وقت درکار قومی تقاضوں سے نہ صرف مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، بلکہ ان کی ترقی اور ترویج کے لئے پوری طرح کوشاں بھی ہیں۔

اس وقت عالمی سیاست اور معیشت میں چین اور روس ویسی ہی مرکزی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جیسی امریکہ اور یورپی یونین مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ دنیا ایک بار پھر دوبلا کس میں تقسیم ہونے کی طرف جا رہی ہے۔ اگرچہ ایسا ہونے میں ابھی کچھ سال لگیں گے، لیکن دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی سمت یہی بتاتی ہے۔ پہلے جب دنیا امریکی اور روسی بلاکس میں منقسم تھی تو سرد جنگ کے باوجود ایک توازن قائم تھا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یک قطبی دنیا عدم توازن کا شکار ہو گئی اور پاکستان اور اردگرد کا خطہ بھی بُری طرح اس سے متاثر ہوا۔ اب سوویت یونین کی بجائے چین اور روس کی پارٹنر شپ میں ایک نیا بلاک بننے سے دنیا کا توازن بحال ہو جائے گا۔ اس نئے بلاک کا سیاسی لیڈر روس اور اقتصادی لیڈر چین ہوگا۔ پاکستان جیسے ممالک کے پاس ایک بار پھر یہ آپشن آ جائے گی کہ وہ امریکہ اور یورپ کے مغربی بلاک میں شامل ہوتے ہیں یا چینی روسی بلاک میں، جسے یوریشین بلاک بھی کہا جاتا ہے۔ اس نئے تناظر میں روس کا شہر اوفا 8تا10جولائی عالمی سرگرمیوں کا مرکز رہا، کیونکہ ان تین دنوں میں وہاں برکس (Brics) اور شنگھائی تنظیم برائے تعاون (SCO) دونوں کے سربراہی اجلاس منعقد ہوئے۔ اوفا ایک اہم صنعتی اور تجارتی شہر ہے۔یہ ایک مسلمان ریاست ہے اور دارالحکومت اوفا کی تین چوتھائی آبادی مسلمان ہے۔ برکس (Brics) ترقی پذیر ممالک کا ایک انتہائی اہم فورم ہے، جس میں پانچ ممالک چین، روس، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ اس تنظیم میں مستقبل قریب میں یونان کی شمولیت کا امکان ہے اور بعد کے کسی مرحلہ پر پاکستان، ایران اور ترکی بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس میں سب سے اہم بات مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلہ پر ایک نئے مالیاتی نظام کا قیام ہوگا، جس میں ابتدائی طورپر 100ارب ڈالر مختص کر دیئے گئے ہیں۔

برکس کے ساتھ ہی اوفا میں شنگھائی تنظیم برائے تعاون (SCO) کا اجلاس بھی ہوا۔ اس تنظیم میں چھ اراکین چین، روس، قازقستان، ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان تھے، اس سال 10جولائی کو پاکستان اور بھارت کو بھی شنگھائی تنظیم برائے تعاون (SCO) کارکن بنا لیا گیا ہے۔ اس سے یہ علاقہ اقتصادی طور پر بہت فعال ہو جائے گا، ویسے بھی یہ تنظیم دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کی نمائندہ ہے اور سات میں سے چار ایٹمی طاقتیں اس کی ممبر ہیں، جبکہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت چین اس کی روح رواں ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اوفا میں اپنے قیام کے دوران اہم سربراہان سے ملاقاتیں کیں، جن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ اور افغان صدر اشرف غنی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کی ان ملاقاتوں کی اہمیت کے پیش نظر انہیں علیحدہ سے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان کی ویژنری قیادت میں پاکستان اس خطے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں سے نہ صرف باخبر ہے، بلکہ بہت حد تک ان کی منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہے، اس ضمن میں چین اور پاکستان کا باہمی اعتماد کا رشتہ بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس خطہ میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا اور امریکہ کا کم ہوتا نظر آتا ہے جو پاکستان کے لئے انتہائی خوش آئند ہے۔ اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطابق حل کر لے تو اس خطہ کی ترقی اور خوش حالی کے دروازے کھل جائیں گے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف ان تمام حقائق سے نہ صرف باخبر ہیں، بلکہ تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک اچھے سٹیٹسمین کی طرح پاکستان کی قیادت کررہے ہیں، اس لئے مجھے قومی امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بن جائے گا۔

مزید : کالم