تندئباد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

تندئباد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
تندئباد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب سے میدان سیاست میں قدم رکھنے کا سوچ رہا ہوں تب سے کئی دوست احباب مخالف ہو گئے ہیں۔ جی ہاں بدنام تو ہم پہلے بھی ہیں لیکن سیاست میں قدم رکھنے کے بارے میں جب سے صلاح مشورہ شروع کیاہے مفت کی بدنامیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ بدنامیاں تو ایک طرف، بہت سے تلخ تجربات بھی ہو رہے ہیں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے شناسائی کوئی پل دو پل کی بات نہیں ، مجھے تو اس بات پہ ہنسی آتی ہے کہ ہمارے ہی حلقے کے دوستوں نے ایک مخصوص قسم کا پرو پیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ فیصل شامی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بنتا ، یقیناًہنسی آتی ہے ہمیں اپنے دوست نمامخالفین کی گھسی پٹی باتوں پر ۔۔۔بہت سے دوستوں کو شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ ہماری عمر کیا ہے ۔جب آنکھ کھولی تو ارباب اقتدار کو اپنے والد محترم جناب شامی صاحب کے ارد گرد ہی دیکھا، جب جناب ضیاء الحق شہید ہوئے تو اس وقت بھی جناب اعجاز الحق ، مشا ہد حسین ، ہمایوں اختر خان جناب احسان اللہ وقاص جناب لیاقت بلوچ ،فرید پراچہ اور احسن اقبال سمیت بہت سے سیاست دانوں کو سیاست دان بنتے دیکھا ، اور نہ صرف یہ بلکہ ہمارے نانا محترم میاں محمد شوکت صاحب مرحوم تو امیر جماعت اسلامی حیدرآباد بھی رہے اور پی این اے کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی بھی منتخب ہوئے اور تو اور جناب جاوید ہاشمی جو کہ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں کو بھی بہت قریب سے دیکھا۔

یہ بھی بتلاتے چلیں کہ جب آئی جے آئی یعنی اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں انتخابی اتحاد ہوا ، انتخابی نشان سائیکل تھا ہم ابھی بچے ہی تھے تاہم یہ یاد ہے کہ جناب لیاقت بلوچ کے لئے کمپین کی تھی ۔ ہوش سنبھالا تو ہم نے دو بڑی جماعتوں کے بارے ہی سنا تھا ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تاہم جماعت اسلامی کا تعارف بھی ابتدا ہی سے تھا ہم تو بچپن سے سیاست کی بساط پر سیاسی کھیل دیکھتے آ رہے ہیں اور پرکھتے بھی آرہے ہیں، ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ جناب میاں نواز شریف محترم کے لئے ہماری دادی محترمہ دن رات دعائیں کرتی تھیں ۔شریف فیملی سے ہمیں ذاتی وابستگی اور دلی پیار ہے ۔۔۔ بچپن میں مجھے ایک حادثہ پیش آگیا ، جس کے باعث میری ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور آپریشن کروانا پڑا ۔ علاج کے لئے اتفاق ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹر لون نے میرا آپریشن کیا۔ جن دنوں میں ہسپتال تھا شامی صاحب یعنی والد محترم ایک روز ہسپتال آئے تو اچانک ان کی ملاقات میاں شریف صاحب یعنی بڑے میاں صاحب سے ہو گئی،جب میاں شریف صاحب کو معلوم ہوا تو پھر میں جب تک ہسپتال میں زیر علاج رہا میاں شریف صاحب روزانہ میرے لئے پھل اور دودھ بھجواتے رہے یہاں تک کہ میرا علاج بھی جناب میاں شریف صاحب نے کروایا ۔ اس دن کے بعد سے آج تک مجھے میاں فیملی نہیں بھولتی ، تاہم یہ بھی یاد ہے کہ جب ہم نے نواز شریف کا نام پہلی بار سنا تو وہ وزیر خزانہ پنجاب بنے تھے پھر وزیر اعلیٰ پنجاب بھی بنے اور اور اس کے بعد اللہ تعالی نے مزید عزت بخشی کہ تیسری دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔

شریف فیملی میرے لئے انجانی نہیں ، بہر حال بہت سے دوستوں کو غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ ہم غیر سیاسی ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں ،، صرف اتنا کہ صرف بچے ہی غیر سیاسی ہوتے ہیں ،لیکن آج کے دور میں تو بچوں کو بھی کھیل سیاست میں خوب دلچسپی ہے۔ یہ بھی یاد ہے کہ جناب میاں نواز شریف جب پہلی بار وزیر اعظم بنے تب وہ ہمارے گھر آئے تھے ، جب ہمارے نانا کا انتقال ہوا تو جناب نواز شریف کو میں نے اپنے گھر دیکھا وہ تعزیت کی غرض سے آئے تھے ، پھر اسکے بعد دوسری ملاقات بھی ہمارے گھر ہوئی جب وہ ہماری پیاری وسیم پھوپھو کے انتقال پر افسوس کے لئے آئے اور تیسری ملاقات سی پی این ای کے فنکشن میں ہوئی، جہاں جناب وزیر اعظم نے ایڈیٹروں کی تنظیم کو پانچ کروڑ سے نوازا ۔

کہنے کا مطلب یہ کہ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا سیاسی ماحول اور اس میں پروان چڑھتے سیاست دان ہی دیکھے ،، تاہم کسی زمانے میں ہم بھی بزم پیغام جماعت اسلامی شعبہء اطفال کے صدر رہے ، کالج لائف میں بھی سٹوڈنٹس یونین میں رہے اور سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے پڑھائی پر توجہ نہ دے پاتے تھے،۔

سیاست تو ہم نے ساری زندگی کی بھی اور دیکھی بھی ، لیکن اس قسم کی سیاست کبھی نہیں دیکھی جو موجودہ دور میں ہے ، بہر حال اب اور کیا کہیں اس بارے کہ ہمارے بہت سے دوست اس بات سے خائف ہیں کہ سیاست میں کیوں قدم رکھ رہے ہیں ،، اور اسی وجہ سے بے بنیاد پر و پیگنڈا بھی ہمارے خلاف جاری ہے ، تاہم میں نے تو معاملہ اپنے پاک پرور دگار پر چھوڑ دیا ہے ، ارادہ تو ہمارا بھی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا ہے ، لیکن بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ آپ ایم پی اے ،ایم این اے کا الیکشن لڑیں یہ آپ کا لیول نہیں ۔

یہ بات وقت ہی بتا سکتا ہے کہ ہم واقعی بلدیاتی انتخابی عمل میں شامل ہوں یا نہیں ، بہر حال الیکشن لڑیں نہ لڑیں رسوائیاں تو حصے میں آہی چکی ہیں ،اور اسی لئے کئی بار یہ خیال بھی آتا ہے کہ لعنت بھیجو سیاست پر اور سکون سے اپنا کاروبا ر کرو ، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے اور ہمیں بھی یقین ہے کہ بہت سے دوست ہم سے بے حد پیار کرتے ہیں وہ ضرور اعتماد کریں گے ۔ بہرحال دوستو! اجازت چاہتے ہیں ، لیکن اس شعر کے ساتھ!

تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

مزید : کالم