کیا برابری کے لئے خان قلات کا فارمولا صحیح تھا؟

کیا برابری کے لئے خان قلات کا فارمولا صحیح تھا؟

موجودہ بلوچستان ماضی میں موجودہ حالت میں نہ تھا بلکہ بلوچ ریاستیں تھیں جن میں قلات ‘ مکران ‘ خاران اور لسبیلہ تھیں اور یہ خودمختار تھیں اور پشتون علاقے اس کا حصہ نہ تھے یہ ریاستیں افغانستان کی باجگزار تھیں تاریخ ایسی ہی ہے آج ہم جب غور کرتے ہیں تو بہت سے فیصلے غلط نظر آتے ہیں وقتی مصلحت نے ان فیصلوں کی تاریخ پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور اب ایک طاقتور عوامی لہر ان کو درست کرسکتی ہے لیکن وہ لہر کون اٹھائے گا اور کب اٹھائے گا جہاں بھی ایک علاقے میں یا صوبہ میں دو قومیں آباد ہوں تو ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتی ہیں اور سیاسی دنیا میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے جعلی مردم شماری پر مجبور ہوجاتی ہیں اور اس سے انتشارپیدا ہوجاتا ہے اور یہ اضطراب مسلسل سیاسی طوفان اٹھاتا رہتا ہے۔

پشتونخوا میپ کے رہبر جناب محمودخان اچکزئی نے اپنے آبائی علاقے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اگر برابری کے اصول کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پھر علیحدہ صوبہ کامطالبہ کریں گے یا پھر صوبہ پشتونخوا میں شمولیت کاسوچیں گے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ کوئی نیا موقف ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہیے اب بلوچستان میں حکومتیں اقتدار میں آنے کے بعد نئے نئے ڈسٹرکٹ بناتی ہیں اس سے عدم توازن کا پیدا ہونا فطری بات ہے اور اس سے دو قوموں کے درمیان کچھاؤ پیدا ہوجاتا ہے کئی ضلعے بنائے گئے جبکہ ان کی کوئی ضرورت نہ تھی اس کے پس منظر میں اپنی برتری ثابت کرنا مطلوب تھی اور اس سے کچھاؤ کا پیدا ہونا لازمی امرتھا اور یہ اب موجود ہے۔ والی قلات جناب میراحمدیار خان مرحوم جب گورنر بنے تو ان کے ذہن میں ایک فارمولا آیا اور انہوں نے اس کو پیش کیا لیکن اس کو نافذ کرنے کی نوبت نہ آسکی۔ یہ بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے تھا اس فارمولے میں یہ طے کیا گیا تھا کہ بلوچ 50 فیصد‘ پشتون 45 فیصد اور دیگر پانچ فیصد ہونگے۔ پانچ فیصد میں ہزارہ پنجابی اور دیگر اقوام جو بلوچستان میں آباد ہیں لیکن اس فارمولے پر عملدرآمد کی نوبت نہ آسکی۔

یہ فارمولا آج بھی قابل عمل ہوسکتا ہے بعض سیاسی پارٹیاں اپنی ساکھ کو بحال رکھنے کے لئے دو قوموں کے درمیان نفرت اور دوری پیدا کرتی ہیں اور ایک پرامن صوبہ کو انتشار کی جانب لے جاتی ہیں اس سے بچنے کے لئے خان مرحوم کا فارمولا آج بھی بہتر نتائج دے سکتا ہے اس کو نافذ کردیاجائے تو پھر کوئی بھی جعلی مردم شماری کی طرف نہیں جائے گا اسے معلوم ہوگا کہ آبادی جتنی بھی بڑھائی جائے فارمولا اس کا تدارک کردے گا اس فارمولا کو زندگی کے تمام شعبوں میں لاگو کیاجائے اور بلوچستان کابجٹ بھی اسی فارمولے کے تحت تقسیم ہو خواہ وہ بیرونی اسکالر شپ کا پروگرام ہو یا کالجوں یونیورسٹیوں میں داخلہ کا مسئلہ ہو یہ فارمولا کافی حد تک نابرابری کو ختم کردے گا۔ اور کسی حد تک اطمینان کاسبب بنے گا قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی ہو یا سینٹ ہو ان سب پر فارمولا کارآمد ہوگا۔ اب بھی بعض پارٹیاں جو عوام میں اعتماد کھوبیٹھی ہیں افغان مہاجرین کے مسئلہ کے ذریعے اپنی سیاست کو آگے لے جانے کی کوشش کرتی ہیں اب ان کے پاس کوئی مثبت حل نہیں ہے ان کی ساری سیاست کا محور افغان مہاجر کارڈ ہی رہ گیاہے۔

یہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پشتون اور بلوچ قوم پرست پارٹیوں کا ملاپ صوبہ کو ایک بہتر پوزیشن پر لے آیا ہے اور ان دونوں کے ملاپ نے منفی سیاست کوبہت حد تک کمزور کردیا ہے اور یہ پیش رفت مستقبل میں بھی جاری رہے تو اس کے اثرات بڑے دور رس ہوں گے پشتون قوم پرست اور بلوچ قوم پرست پارٹیاں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب چلی گئی ہیں اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اور یہ قربت صوبہ اور عوام کے لئے سودمند ثابت ہوئی ہے اور اس کے اثرات اب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں یہ تاریخ کا حیرت انگیز باب ہے کہ فوج ان کی پشت پر کھڑی ہے۔ اورسدرن کمانڈکے کورکمانڈر جناب جنرل ناصر جنجوعہ تو اتنے گھل مل گئے ہیں کہ یہ مصرعہ ان پر صادق آتا ہے:

کہ تو تو نہ رہا اور میں میں نہ رہا

ہمیشہ برسراقتدار رہنے والی مذہبی پارٹی تواس حسدمیں جل گئی ہے اور اس کی بے قراری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار اقتدار سے ان کو قوم پرستوں نے ایسے نکالا ہے جیسے دودھ میں سے مکھی کو نکالا جاتا ہے اس مذہبی پارٹی کی تمام سیاست اقتدار کی گردش میں سے گزرتی رہی ،، اب پہلا موقع ہے کہ اقتدار کی پرکشش زندگی سے محروم کردی گئی ہے۔

مزید : کالم