بحرین کی باڈی بلڈر حائفہ موسوی اپنی شناخت کی متلاشی

بحرین کی باڈی بلڈر حائفہ موسوی اپنی شناخت کی متلاشی
بحرین کی باڈی بلڈر حائفہ موسوی اپنی شناخت کی متلاشی

  

لاہور(آن لائن)بحرین سے تعلق رکھنے والی حائفہ موسوی باڈی بلڈنگ کے پیشے میں شوقیہ آئیں تھیں تاہم اب جبکہ وہ اس پیشے میں اپنا نام بنانا چاہتی ہیں تو انہیں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ ان کی عرب شہریت ہے۔ حائفہ بحرین سے تعلق رکھتی ہیں اورعرب دنیا کے کسی بھی ملک میں خواتین باڈی بلڈنگ کی کوئی آفیشل ٹیم موجود نہیں ہے۔ 32سالہ حائفہ عرب خواتین کے عام مسئلے یعنی کہ شدید موٹاپے سے دوچار تھیں۔ اسی مقصد کیلئے انہوں نے جم جانا شروع کیا۔ یہاں فٹنس ٹرینرز اور باڈی بلڈرز کی تصاویر دیکھ کے حائفہ کے اندر باڈی بلڈنگ کا شوق جاگ اٹھا۔گھر والے یہ سمجھ رہے تھے کہ حائفہ وزن کم کرنے میں سنجیدہ ہیں تاہم انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اب وہ کسی اور میں بھی سنجیدہ ہوچکی ہیں۔ جلد ہی انہیں اپنی بیٹی کے عزائم سے آگہی ہوگئی تاہم حائفہ انہیں تو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئیں مگر عرب دنیا کے قوانین کو بدلنا ان کیلئے ممکن نہیں ہے۔حائفہ نے دس برس میں درجنوں فٹنس اور باڈی بلڈنگ کے سرٹیفکٹس حاصل کئے اور اب وہ دبئی میں فٹنس اینڈ ویٹ سپیشلسٹ کے طور پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے رواں برس ہی دبئی میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل نیچرل باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن لی ہے تاہم اصل صورتحال کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں حائفہ سمیت کل دو خواتین عرب دنیا کی نمائندہ تھیں۔ حائفہ کہتی ہیں کہ خواتین کا باڈی بلڈنگ کرنا عرب ممالک میں تو شجر ممنوعہ سے کم نہیں تاہم باقی دنیا میں بھی حالات زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ لوگ ہمیں مسلز ٹریننگ کرتے ہوئے دیکھ کے حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہم یہ مسلز کیوں بنانا چاہتے ہیں۔حائفہ اب پروفیشنل میدان میں قدم رکھنے کیلئے رواں برس اکتوبر میں پرتگال جائیں گی۔ انہیں امید ہے کہ اس ملک کے آسان قوانین کی وجہ سے وہ شہریت حاصل کرلیں گی۔

اگر وہ اس ملک کی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں تو وہ امید کرتی ہیں کہ ایک نہ ایک دن بحرین بھی ان پر فخر کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی