تعلیم اور معاشرے کا باہمی تعلق کیا ہے؟

تعلیم اور معاشرے کا باہمی تعلق کیا ہے؟

فرد کو معاشرتی اقدار کی تفہیم دے کر اسے معاشرتی تقاضوں کی تکمیل کے قابل بنانا تعلیم کی اہم ذمہ داری ہے۔ تعلیم اور معاشرہ ایک دوسرے سے جدا رہ کر اپناوجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ دونوں ہی ایکد وسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ تعلیم فرد کے لئے بے پناہ راہیں ہموار کرتی ہے جس پر چل کر وہ معاشرے میں ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ فرد تعلیم کے ذریعے معاشرتی فہم حاصل کرتا ہے ا ور معاشرے کی تنظیم و ترتیب کو سمجھتے ہوئے اپنا معاشرتی کردار ادا کرتا ہے ۔ تعلیم ہی فرد کو یہ شعور بخشتی ہے کہ اسے معاشرے کی ترقی کیلئے کون سی خدمات سر انجام دینی ہیں تعلیم ہی فرد کو اس قابل بناتی ہے کہ اپنی تہذیبی اقدار سے آگاہی حاصل کر کے معاشرے کا مفید رکن بن سکے۔ دنیا کے ہر معاشرے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔

معاشرتی مقاصد کا تعین فلسفہ حیات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی کوئی معاشرہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ تعلیم کے مقاصد درحقیقت معاشرے کی خواہشات اور ضروریات ہی ہوتی ہیں جن کے حصول کیلئے تعلیمی عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ تعلیم فرد اور معاشرے کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ تعلیم ہی وہ سماجی سرگرمی ہے جو فرد اور معاشرے کے باہمی رشتوں کو فروغ دیتی ہے۔ معاشرتی استحکام کی منزل کا حصول ہر معاشرے کی شعوری خواہش ہوتی ہے۔ تعلیم کے بغیر معاشرے کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ تعلیم ہی وہ واحد آلہ ہے جس کے ذریعے معاشرتی ورثہ کی حفاظت، تبلیغ اور منتقلی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

افراد کی ضروریات اور خواہشات اور رویوں کو یکجا کر دیا جائے تو معاشرتی اقدار وجو د میں آ جاتی ہیں جب افراد کی یہ ضروریات اور امنگیں بدلتی ہیں تو معاشرتی اقدار بدل جاتی ہیں تعلیم کے ذریعے ہی معاشرتی اقدار کی تشکیل نو ہوتی ہے۔ پرانے نظریات کی جگہ نئے نظریات آ جاتے ہیں ۔ ہر نظام تعلیم کا تعلق کسی نہ کسی معاشرے سے ہوتا ہے۔ معاشرے کی ضروریات اور خواہشات ہی کسی تعلیمی نظام کے ظہور کا باعث بنتی ہیں۔ یعنی تعلیمی عمل اپنے وجود کے سلسلے میں معاشرے کا محتاج ہے۔ اگر معاشرہ نہ ہو تو تعلیمی عمل کا وجود بے معنی ہے۔ دنیا کا ہر نظام تعلیم معاشرے کی خواہشات کے تابع ہوتا ہے جس طرح نظام تعلیم اپنے وجود کے لئے معاشرے کے وجود کا محتاج ہے اسی طرح دنیا کا ہر معاشرہ اپنی ترقی کیلئے تعلیم کا محتاج ہے۔ تعلیمی عمل کو فروغ دیئے بغیر کوئی معاشرہ خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ تعلیم ہی وہ موثر ذریعہ ہے جو افراد اور معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی بہبود کی ضمانت دیتا ہے۔

مزید : کالم