بجرنگی کا خواب!

بجرنگی کا خواب!
بجرنگی کا خواب!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بجرنگی جو خواب دیکھتا ہے، اس کا حقیقت سے بھی تعلق ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ناں میں دینے کے لئے کوئی سوچ بچار کی ضرورت نہیں ہے، لیکن مَیں سمجھتا ہوں ، خواب دیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہئے۔ مَیں ذاتی طور پر خوابوں کی دنیا میں مگن رہنے والوں کو دھتکارتا نہیں ہوں بلکہ اچھے خواب والوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ خواب نہیں ہوں گے تو حقیقت کہاں سے آئے گی۔ آپ دُنیا بھر میں برپا ہونے والے کسی بھی بڑے عمل کو دیکھ لیں، اس کے پیچھے کسی بڑے خواب کا ہاتھ ہوگا۔

آپ کو میرے ساتھ تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا، میرے لئے سالوں کا حساب کرنا مشکل ہے۔ لاہور کے آواری ہوٹل میں عمران خان کی شمالی علاقوں کے بارے میں ایک کتاب کی افتتاحی تقریب تھی۔ پاکستان رائٹرز کلب اس تقریب کا میزبان تھا۔ مظفر محمد علی مرحوم تقریب کے اصل منتظم تھے، جو خود تو ہال کی سب سے آخری قطار میں جا بیٹھے اور سٹیج پر عمران خان کے ساتھ منو بھائی، امجد اسلام امجد اور مجھے بٹھا دیا۔ امجد صاحب نے کنڈکٹ کیا اور کلب کے تعارف کے لئے مجھے پکارا۔ یہ تعارف کیا تھا اصل میں ایک خواب کا بیانیہ تھا، جس کے ابتدائی چند مناظر حقیقت میں ضرور بدلے، لیکن کائنات کے عظیم مصنف نے اس کے کلائمیکس کو سکرپٹ سے خارج کر دیا۔ میں نے اس موقع پر اس صورت حال کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں کی تھی کہ :

کیا خبر کس گھڑی کوئی معجزہ ہو جائے

سب کے سب خواب آنکھوں میں پالے رکھنا

اپنا اپنا مقدر ہے۔ مَیں تو منو بھائی! امجد اور مظفر مرحوم کے ساتھ مل کر کسی معجزے کا انتظار کرتا رہا۔ امتیاز عالم اور عثمان پیرزادہ نے جو الگ الگ خواب دیکھے وہ پورے ہوگئے۔ وہ بالترتیب ’’سیفما‘‘ اور ’’تھیٹر فیسٹیول‘‘ کا خواب نہ دیکھتے تو یہ حقیقت کیسے بنتے۔ پاکستان رائٹرز کلب نے ’’ناول میلہ‘‘ بھی منعقد کیا، لیکن اس نے جو ’’کہانی میلہ‘‘ کیا اس نے پاکستان کی ادبی تاریخ میں غیر سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی سب سے بڑی تقریب کا ریکارڈ قائم کیا جو آج تک برقرار ہے۔ پاکستان رائٹرز کلب ’’ناول میلہ‘‘ اور ’’کہانی میلہ‘‘ کے بعد ’’تھیٹر فیسٹیول‘‘ بھی کرانا چاہتا تھا، لیکن اس کے پاس اتنے وسائل تھے نہ اتنے وسائل جمع کرنے کی ہمت۔ عثمان پیرزادہ کے پاس یہ سب کچھ تھا وہ آگے بڑھا اور اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا۔

مجھے پتہ تھا مَیں بھٹک جاؤں گا اور جب خوابوں کی بات آئے گی تو درمیان میں ’’پاکستان رائٹرز کلب‘‘ کو گھسیڑ دوں گا، لیکن مجھے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ میں دکھائے جانے والے کچھ خوابوں کی بات کرنی تھی، جو درمیان میں ہی رہ گئی، بلکہ شروع ہی نہیں ہو سکی۔ ہندو دھرم کی سری لنکا کے پس منظر میں لکھی جانے والی کلاسیکی داستان کا مرکزی کردار ہنو مان یا بجرنگی بلی نامی بندر ہے جو سچ بولنے اور چوری نہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اِس فلم میں سلمان خان نے بجرنگی بلی کے پیرو کار کے طور پر’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کے کردار میں اس کا جو درس دیا ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ مجھے تو صرف ان چند ایک خوابوں کی بات کرنی ہے، جن کا اس فلم میں بالواسطہ اظہار ہوا ہے۔ خواب حقیقت میں ڈھلتے ہیں یا تشنہ تکمیل رہ جاتے ہیں، یہ بعد کی بات ہے، لیکن فلم، ٹیلی ویژن، ریڈیو، ناول، افسانہ اور کالم ایک ایسی جگہ ہے، جہاں اس کا ذکر ہو سکتا ہے۔

مجھے سیاست پر تبصرہ کرنا پسند نہیں ہے، لیکن رائے عامہ اور تعلقات عامہ کے ایک دیرینہ طالب علم کی حیثیت سے پبلک کی سوچ میں اُتار چڑھاؤ ہمیشہ میری دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔مجھے ایک بار پھر پیچھے جانا پڑے گا۔ پورے بیس سال، ایک سرکاری بندھن کی و جہ سے اپنی لکھنے کی خواہش کو دبائے رکھنے کے بعد جب 1998ء میں ’’تشنہ اظہار‘‘ کے عنوان کے تحت مَیں نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں پہلا کالم لکھا تو اس کا موضوع بھی ایک خوب تھا، جو اگرچہ بہت ڈراؤنا اور ہولناک تھا۔ ایک راستہ امن، شانتی اور بھائی چارے کی طرف جاتا ہے اور دوسرا تباہی اور بربادی کے گڑھے میں گرا سکتا ہے۔ مَیں نے اس کالم میں پاکستان اور بھارت کی پبلک کو وہ ڈراؤنا خواب دکھایا تھا جو دوسرا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں حقیقت میں ڈھل سکتا ہے۔ مَیں تباہی کا پرچار کرنے والا آخری شخص ہوں گا لیکن اگر صاف نظر آرہا ہو کہ ایک راستہ ایک ہولناک گڑھے کی طرف لے جا رہا ہے، تو کیا مَیں چیخ و پکار کرکے اس پر چلنے والے کو روکنے کی کوشش نہیں کروں گا؟

پہلے اس کالم کا وہ حصہ پڑھ لیں، جس میں پبلک کو ایٹمی جنگ سے ڈرانے کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان خدانخواستہ ایک فرضی ایٹمی جنگ ہونے کے بعد کا ڈراؤنا خواب اس طرح بیان کیا گیا تھا’’کچھ بحری جہاز ممبئی اور کراچی کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے ہیں جن کے اجنبی مسافر گرد، راکھ اور تعفن سے گزرتے اور بے زندگی صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے شمال کے پہاڑوں پر جا چڑھتے ہیں اور وہاں کھڑے ہو کر ان پہاڑوں سے پار کے ممالک کے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ چاہیں تو اپنی آبادی کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لئے پہاڑوں سے نیچے اُتر کر اُن کھنڈرات کو آباد کر لیں۔ مَیں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ میرا یہ ڈراؤنا خواب، خواب ہی رہے۔ کبھی پورا نہ ہو‘‘۔

’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کی فلم کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک حادثے میں قوت گویائی سے محروم ہو جانے والی آزاد کشمیر کی ایک چھ سالہ بچی کو اس کی ماں ٹرین کے راستے بھارت میں ایک درگاہ پر دعا کے لئے لے جانا چاہتی ہے کہ بچی راستے میں گم ہو جاتی ہے۔ یہ گونگی بچی بجرنگی بلی یاہنو مان کے ایک پیروکار کو مل جاتی ہے جو ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ بچی کو پاکستان میں اس کے گھر پہنچانے کے لئے ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس میں ناکامی کے بعد غیر قانونی طریقے سے ایک سرنگ کے ذریعے تھرپارکر کی سرحد عبور کرتا ہے۔ پاکستانی پولیس اسے جاسوس قرار دے کر اسے پکڑنے کے لئے حرکت میں آجاتی ہے۔ ایک پاکستانی ٹی وی رپورٹر اس کا ساتھ دیتا ہے اور ایک امام مسجد پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسے علاقے سے نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ آزاد کشمیر پہنچ کر وہ پولیس کے قابو آجاتا ہے جو اسے تشدد کے ذریعے جاسوس ہونے کا اعترف کرانے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔ اس دوران رپورٹر بچی کو ماں سے ملوا دیتا ہے۔ بجرنگی پولیس کی حراست سے فرار ہو کر بھارت جانے کے لئے واہگہ بارڈر پہنچتا ہے، جہاں فلم کا آخری ڈرامائی سین ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام کا ایک جم غفیر جسے بجرنگی کے نیکی کے کارنامے کا ٹی وی رپورٹ کے ذریعے پتہ چل جاتا ہے اس کی ہمدردی میں واہگہ بارڈر پہنچ جاتا ہے۔ سیکیورٹی گارڈ عوام کے دباؤ پر گیٹ کھول دیتے ہیں۔ بچی اپنی ماں کے ساتھ اس ہجوم میں جنگلے کے ادھر کھڑی ہوتی ہے۔ سرحد کے دوسری طرف بھارتی عوام بجرنگی کا استقبال کرنے جمع ہیں، جن میں بجرنگی کا خاندان بھی شامل ہے۔ بچی جنگلے کو پکڑ کر اپنے محسن ماموں کو شدتِ جذبات سے بلانا چاہتی ہے، پھر اس کی آواز کھل جاتی ہے اور وہ پوری قوت سے بار بار’’ماما، ماما‘‘ بولتی ہے۔ بجرنگی رُک کر مڑتا ہے اور اس کی طرف بھاگتا ہے۔ بچی بھی جنگلے سے نکل کر اس کی طرف بھاگتی ہے اور پھر پانی میں سے گزرتے ہوئے مُنہ بولے ماموں اور بھانجی مل جاتے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیاسی لحاظ سے ایک بولڈ فلم ہے، جس میں کچھ حساس معاملات بھی شامل ہیں۔ میرا مقصد اس فلم کا ریویو کرنا نہیں ہے، بلکہ ان خوابوں کا جائزہ لینا ہے،جو اس فلم میں دکھائے گئے ہیں، جو اللہ کرے کل حقیقت میں بدل جائیں، لیکن فی الحال حقیقت سے بہت دور ہیں، تاہم بہت سی باتیں ایسی بھی بتائی گئی ہیں،جو واقعی سچ ہیں۔پہلے حقیقتیں اور پھر خواب۔ بھارت میں یقیناًایسے ہندو موجود ہیں جو پاکستان کو اپنا دشمن مُلک سمجھ کر اس کے باشندوں سے ہمدردی کا برتاؤ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ بجرنگی کا ہونے والا سسر پاکستان سے جس طرح نفرت کا اظہار کرتا ہے، حتیٰ کہ چھ سالہ بچی کو بھی نہیں بخشتا وہ اس طبقے کی صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ فلم کے اختتام پر وہ بجرنگی کو اس کے نیک کام پر سلام پیش کرتا ہے۔ سفارت خانوں کے عملے کا انسانی ہمدردی سے عاری مکھی پر مکھی مارنے کا بیورو کریٹک رویہ بھی درست طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پولیس کا تشدد کے ذریعے زبردستی اعتراف کرانے والا معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا فلم میں دکھایا گیا ہے۔ ٹی وی رپورٹروں کو سنسنی پھیلانے کے لئے بھارتی جاسوس پکڑے جانے کی خبر چاہئے۔ وہ حقیقت کی طرف جانے کو تیار نہیں ہیں کہ پھر ان کی خبر کو دیکھے گا کون، اور ان کے چینل کی ریٹنگ کیسے بڑھے گی؟

جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا ہے کہ فلم بھی ایک ایسا میڈیم ہے، جہاں حقیقت میں ڈھالنے کی امید پر خواب بُنے جا سکتے ہیں۔ فی الحال تو پاکستان میں ایسا ٹی وی رپورٹر نہیں ہے،جو ایک نیک مقصد کے لئے پاکستان کی حدود میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے باشندے کو پولیس کے اصرار کے باوجود حقیقت سمجھنے کے بعد نہ صرف جاسوس تسلیم کرنے سے انکار کردے، بلکہ اس کی عملی مدد کے لئے بھی تیار ہو جائے۔

ایک پاکستانی بچی کو اس کے گھر پہنچانے کے مشن پر آنے والے بھارتی باشندے کی کہانی پر یقین کرنے والے امام مسجد کا کردار بھی ایک خواب ہے، جس کا حقیقت سے دور دور کا تعلق نہیں ہے، یہاں تو ایسے نام نہاد مذہبی رہنما موجود ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر جب تک بھارت کو ایک آدھ گالی نہ دیں ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ وہ ایک بھارتی باشندے کو جاسوس قرار دینے کا موقع کیسے گنوا سکتے ہیں؟ اور آخری خواب آخری منظر میں دکھایا گیا ہے۔ بجرنگی کے نیک کام کی سوشل میڈیا پر جب تشہیر ہوتی ہے، تو بہت سے پاکستانی اس سے متاثر ہو کر اس کی حمایت میں واہگہ بارڈر پر جا کر مظاہرہ کرتے ہیں اور زبردستی بارڈر کا گیٹ بجرنگی کے لئے کھلوا دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی سوچ میں ایسی تبدیلی کا فی الحال سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

مجھے یقین ہے کہ اس فلم کو ریورس کر کے بنایا جاتا، جس میں کوئی پاکستانی جنونی بھارتی بچی کو اس کے مُلک چھوڑنے کے لئے ایسی حرکتیں کرتا، تو بھارت میں بھی بالکل ایسی ہی کہانی اس کے ساتھ دہرائی جاتی۔مَیں قنوطی ہر گز نہیں ہوں۔نفرت کے ان اندھیروں کی تہہ سے محبت کی روشنی کی لہریں کہیں نہ کہیں مدھم صورت میں سہی، لیکن ابھرتی ضرور ہیں۔ دو ہمسائے نفرت کی بنیاد پر ساری زندگی نہیں گزار سکتے۔ سرحد کے دونوں طرف جب بھی محبت کا جذبہ ابھرتا ہے، تو دونوں طرف کے لیڈر حضرات اور میڈیا اسے دبانے کے لئے سرگرم ہو جاتے ہیں کہ پھر ریٹنگ کیسے بڑھے گی اور سیاست کا کاروبار کیسے چمکے گا؟

مزید : کالم