گورداسپور میں دہشت گردی،بھارت کی روایتی الزام تراشی

گورداسپور میں دہشت گردی،بھارت کی روایتی الزام تراشی

پاکستان کی سرحد سے متصل بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں دینا نگر پولیس سٹیشن پردہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 11افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ مسلح حملہ آوروں نے پہلے ایک بس اور پھر پولیس سٹیشن پر حملہ کرکے اس کا گھیراؤ کیا۔ ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی فورسز نے 12گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد پولیس سٹیشن پر قبضہ حاصل کر لیا۔ حملہ آور فوج کے یونیفارم میں ملبوس تھے۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے کہا ہے کہ کئی سال بعد اس طرح کا یہ پہلا واقعہ ہوا ہے۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اسے قومی پالیسی سے ہی نمٹانے کی ضرورت ہے۔ یہ حملہ اچانک ہوا ہے۔ خطرے کے بارے میں خفیہ معلومات کے سوال پر انہوں نے کہا: اِن پٹ کہاں دیا تھا؟ اگر اِن پٹ دیا تھا تو سرحد کو سیل کر دیا جانا چاہئے تھا۔بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے الزام لگایا ہے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے ہیں۔پولیس اہلکار دیناکر گپتا نے بتایا کہ حملہ آور مبینہ طور پر مقبوضہ کشمیر کے ہیں۔پولیس حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آور دو روز قبل پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں داخل ہوئے تھے ،جبکہ مودی سرکار کے جونیئر وزیر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ اس میں پاکستان کی مداخلت خارج ازامکان نہیں۔

گورداسپور پنجاب کا ایک دیہی ضلع ہے۔ یہ پنجاب کے دوسرے اضلاع کی طرح خوشحال بھی نہیں اس طرح کے حملے کے لئے یہ پہلا ہدف نہیں ہو سکتا، تاہم یہاں پہلی بار ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ پانچ سال قبل یہاں جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان شدید خونریز لڑائی دیکھی گئی۔ کشمیری رہنما سید صلاح الدین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے لوگ اس حملے میں ملوث ہیں۔یہ لوگ کشمیری نہیں۔ یہ داخلی عناصر کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ گورداسپور حملے میں پاکستان ملوث ہے ، ہم پاکستان کیساتھ امن چاہتے ہیں، لیکن قومی غیرت کا سودا نہیں کرسکتے، ہم پہلے حملہ نہیں کریں گے ،لیکن اگر ہم پر حملہ کیاگیا تو مناسب جواب دیں گے۔

بھارت میں کسی بھی قسم کا دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو ہمیشہ آنکھ بند کر کے الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔ اب بھی ابتدائی چند سیکنڈز میں ہی بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردی کا بغیر تحقیقات الزام لگا دیا، جبکہ پاکستان میں پکڑے جانیوالے کئی دہشت گردوں کے بھارت سے تعلقات ثابت ہوچکے ہیں ،لیکن پاکستان نے کبھی فوری طور پر باضابطہ طورپر بھارت پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا۔ گورداسپور حملے کا کوئی ملزم پکڑاگیا نہ تفتیش ہوئی، لیکن بھارت نے پاکستان پر الزام دھر دیا۔ ڈی جی پولیس سمیدھ سنگھ سینی نے کہا کہ حملہ آوروں نے پی آر ایس سسٹم اور دستی بم اٹھا رکھے تھے۔ پاکستان نے بھارت کے شہر گورداسپور میں دہشت گردی کی اس واردات کی شدید مذمت کی ہے جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت کرتا ہے ہمارے دل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ہم بھارت کے عوام اور حکومت کے ساتھ دلی تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر نے ضلع گورداسپور میں شدت پسندوں کے حملے کو جواز بنا کر کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات استوار کرناممکن نہیں ہے۔ آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ سیریز اس سال دسمبر میں ہونی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر بی سی سی آئی نے اس سیریز کے لئے رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم اب انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ’دہشت گردی اور کرکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا براہ راست اثر کرکٹ پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان آئی سی سی کے ’فیوچر ٹور پروگرام‘ میں شامل ہوتے ہوئے بھی سیریز باقاعدگی سے نہیں کھیلی جا سکی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2007ء میں بھارت میں کھیلی گئی تھی۔ جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نومبر 2008ء میں ممبئی دہشت گردی کے بعد سخت کشیدہ ہو گئے تھے، تاہم دسمبر 2012ء میں پاکستانی ٹیم نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لئے بھارت کا مختصر دورہ کیا تھا۔یہ تو ہے بھارت کا حال کہ وہ اپنے ہاں اپنوں کی دہشت گردی کو پاکستان کے سر تھوپنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حملہ آوروں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے بھگوڑے فوجی ہوں جنہیں جبری طور پر کشمیر میں تعینات کیا گیا ہے اور انہیں چھٹی کی سہولت بھی میسر نہیں۔ اس کے علاوہ خود پنجاب میں خالصتان تحریک کا بڑا زور ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی تیرہ ریاستوں میں علیحدگی پسند تنظیمیں بھارتی پولیس اور فوج کو ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں، لیکن بھارت کو ایک ہی بات یاد رہتی ہے کہ فوراً الزام پاکستان کے سر تھوپ دو۔

مزید : کالم