جنرل راحیل شریف بھی اب اپنا کردار ادا کریں

جنرل راحیل شریف بھی اب اپنا کردار ادا کریں
جنرل راحیل شریف بھی اب اپنا کردار ادا کریں

  

الیکشن 2013ء کے بارے میں جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ بالعموم سراہا گیا اور بالخصوص اس بات پر سکھ کا سانس لیا گیا کہ جمہوری تسلسل میں رخنہ پڑنے کا اندیشہ نہیں رہا۔ 2000ء میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں فلوریڈا میں ووٹوں کے بارے میں کچھ شکوک اُبھرے تو قواعد کے تحت ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ہوگئی، لیکن اس دوران امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ گنتی بند کی جائے اور اس طرح کامیابی جارج ڈبلیو بش کی جھولی میں آ گری۔ ڈیمو کریٹک پارٹی اس فیصلے پر مطمئن نہیں تھی۔ صدارتی امیدوار ایل گور اور پارٹی کے زعما سوچ میں پڑ گئے۔ صدر بش کی جیت کو تسلیم کئے جانے میں خاصی تاخیرہو گئی، لیکن پھر ایل گور اور دوسرے ڈیموکریٹس نے یہی سوچ کر کہ جمہوریت کے تسلسل میں رخنہ نہیں پڑنا چاہیے، پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور صدر بش کو روایتی انداز میں کال کرکے ان کی صدارت کو تسلیم کر لیا۔

امریکہ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا ، اس سے قبل 1824،1876 اور 1888ء میں بھی ایسا ہوا تھا کہ جیتنے والے امیدوار نے جمہوریت کے تسلسل کی خاطر اپنی ہار تسلیم کر لی تھی۔ ہمارے ہاں ایسے بزرجمہروں کی کمی نہیں جو جمہوری تسلسل کو ضروری نہیں سمجھتے ، بلکہ اس کا مضحکہ اڑاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ جمہوریت اور جمہوری تسلسل سے کون سا کسی غریب کا پیٹ بھر جائے گا، لیکن ان میں اکثریت انہی کی ہے جو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے سے کون سا انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک دور میں ہلکے پھلکے مزاحیہ کالموں کا چرچہ تھا۔ مولوی گل باز خان، شوکت تھانوی، حاجی لق لق،مجید لاہوری وغیرہ نے اس روایت کو خوب پروان چڑھایا۔ ابراہیم جلیس نے اسی روایت کو نبھایا، اب اس طرح کے کالم نگار عطاء الحق قاسمی رہ گئے ہیں۔ اخبارات میں کالموں کی بھرمار ہے، لیکن خبروں پر تبصرہ اپنی ناآسودہ خواہشات کا رونا، اپنے ممدوحین کے قصائد کے ساتھ ساتھ مسائل پر نہایت سرسری بے محل تبصرے قارئین کو کچھ معلومات دینے کی بجائے انہیں گمراہ کرنے کا فریضہ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے مجھے اخبارات میں کوئی جامع کالم نظر نہیں آیا۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان لاہور جناب مجیب الرحمن شامی نے ’’زخمی تحریک انصاف‘‘ کے عنوان سے ایک جامع و مانع کالم تحریر کیا ہے، جس میں واقعات کو سیاق و سباق کے ساتھ بیان کرکے کئی گُتھیوں کو بھی سلجھا دیا گیا ہے۔ وگرنہ ایک ’’بڑے‘‘ اخبار کے کالم نگار نے فرمایا ہے کہ کمیشن انتخابات کو کیسے شفاف قرار دے سکتا ہے، وہ زائد چھپنے والے بیلٹ پیپر اور بیلٹ بکس کہاں گئے؟ اگر ’’کالم والا‘‘ کو اس سلسلے میں کچھ معلومات تھیں تو انہیں لے کر انہیں جوڈیشل کمیشن میں پہنچنا چاہیے تھا یا کم از کم یہ معلومات عمران خان ہی کی نذر کر دیتے تو فیصلہ عمران خان کو مطمئن اور ’’کالم والا‘‘ کو خوش کر دیتا، لیکن

مشتے کہ بعد از جنگ یاد آیدبرکلہ خود باید رسید

جناب سراج الحق نے بھی حاضری لگوانے کے لئے بیان داغنا ضروری سمجھا۔ فرماتے ہیں ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا۔ اصلاحات تجویز نہیں کی گئیں اور سزاؤں کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ جناب جب کمیشن نے انتخابات کو شفاف قرار دے دیا تو کیا شفاف انتخابات کرانے پر سزائیں بھی دی جاتیں؟ فیصلے میں لکھا تو ہے کہ جو کوتاہیاں ہوئیں وہ عملے کی ناتجربہ کاری اور عدم تربیت کا نتیجہ ہیں۔ تربیت اور تجربہ کہاں سے آئے گا، جب الیکشن کمیشن کو دو تین سے زائد الیکشن کرانے سے پہلے پہلے اس کا بسترہ گول کرنے کی کوششیں شروع ہو جائیں۔یہی تو رونا ہے کہ جمہوریت اور جمہوری رویوں کے تجربے کو پنپنے ہی نہیں دیاجا رہا ہے۔

خود عمران خان کا تبصرہ تضاد بیانی کا شاہکار ہے۔ فیصلہ تسلیم ہے کہ وہ لکھ کر ’’اقرارنامہ‘‘ دے چکے تھے۔ اقرارنامہ لکھوانے والے ہوشیار تھے، انہیں معلوم تھا۔ خان صاحب سے تحریر نہ لی تو وہ مکرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کریں گے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔ عمران خان مجھے دنیا بھر سے کوئی ایک ایسی مثال لادیں، جہاں اپنے حق میں فیصلہ نہ آنے والے فریق نے عدالت سے باہر نکل کر کہا ہو۔ مَیں مقدمہ ہار گیا ہوں اور اس پر بہت مطمئن ہوں۔ ایسی مثال تلاش کرنے میں وہ ریحام خان کی مدد بھی لے سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ دھرنوں کے معاملات کی چھان بین کے لئے ایک پارلیمانی کمشن قائم کیا جائے۔ کیا اُمید کی جائے کہ سراج الحق بھی اس مطالبے کی حمایت کریں گے تاکہ ذمہ داروں کو سزائیں دلائی جا سکیں۔ پارلیمانی کمشن ہی نہیں ایک فوجی کمشن بھی تشکیل دیا جائے جو اس بات کا تعین کرے کہ اس سازش کے پیچھے کون سے ریٹائرڈ فوجیوں اور کون سے حاضر فوجیوں کی شہ شامل تھی۔ فوج کا اصرار رہا ہے کہ فوج کا اپنا آڈٹ اپنا احتساب اور اپنا نظام انصاف بھی ہے۔ اب اس نظام انصاف کو بروئے کار بھی آنا چاہئے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے سٹاف کالج کوئٹہ میں فوجیوں کو آئین کی اہمیت اور بالا دستی پر توجہ دلائی تھی لیکن آج تک کسی فوجی سربراہ نے بابائے قوم کے اندیشوں کو دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا بلکہ بابائے قوم کے بعد فوج کے ہاتھوں آئین کی پامالی کے چار سنگین واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

مشرف کی آمریت پاکستانی تاریخ میں بدترین تھی اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ عمومی طور پر عوام، عدلیہ، صحافت اور سیاست میں فوجی آمریت کے خلاف ایک یکسوئی پیدا ہوئی ہے۔ اسی یک سوئی کے تحت عدلیہ نے محسوس کیا کہ اُن کے پیش روؤں اور خود انہوں نے نظریہ ضرورت کے نام پر آئین کی پامالی میں تعاون کیا ہے۔ اسے محسوس کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدلیہ نے ایسے کئی اقدامات کئے جن سے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوئی پھر عدلیہ کے ’’کوڈ آف کنڈکٹ‘‘ میں ایک انقلابی تبدیلی کی گئی اور قرار دیا گیا کہ آئندہ جو جج آئین شکنی کو نظریۂ ضرورت کے تحت ’’حلال‘‘ قرار دے گا وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہے گا۔ اس طرح عدلیہ نے اپنی اگلی پچھلی حالیہ اور آئندہ کی کوتاہیوں کی تلافی کر دی اور اس بات کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا۔

مشرف کی رُخصتی کے بعد آنے والی حکومت اگرچہ کوئی زیادہ مثالی نہیں تھی لیکن اس کا قیام جمہوری تسلسل کے لئے ضروری تھا۔ اس حکومت کو گرانے کے لئے کئی بار عالم بالا سے واضح اشارے دیئے گئے لیکن اس وقت کے قائد حزب اختلاف میاں محمد نوازشریف نے کبھی خاموشی سے اور کبھی ببانگ دہل ان اشاروں پر چلنے سے انکار کر دیا۔ دھرنے کتنے ہی بلا جواز اور غیر قانونی رہے ہوں لیکن اگر سیاستدان جمہوریت کے ساتھ کھڑے نہ ہو جاتے تو یہ سازش کامیاب ہو سکتی تھی۔ ایم کیو ایم اس کے لئے بے تاب نظر آتی تھی، لیکن پیپلزپارٹی تحریک انصاف کو دھکا دے کر خود منہ پھیر کر چل دیتی رہی اور جمہوریت کو ’’ڈی ریل‘‘ کرنے کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اس دوران اگرچہ بعض میڈیا والے جمہوریت کے خاتمے کی دعائیں مانگتے رہے اور حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دیتے رہے لیکن ایک بڑی اکثریت نے جمہوریت کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت نہیں کی۔ گویا جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کے لئے عدلیہ، صحافت اور سیاست دان اپنے عمل سے مثبت نمونہ پیش کر چکے ہیں۔ البتہ دھرنوں کے دوران فوج کا رویہ پراسرار طور پر لاتعلقی کا رہا اور اسے بعض حلقوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

اب فوج کے رویئے اور نظریات میں تبدیلی کی کچھ علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام شائع ہونے والے فوج کے ترجمان جریدے ’’ہلال‘‘ کے جولائی 2015ء کے شمارے میں معروف دانشور خورشید احمد ندیم کا ایک پر مغز مضمون آئین کے حوالے سے شائع ہوا ہے جس میں ملک کے تمام اداروں کو آئین کی پابندی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے میرے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ فوج اب فوجی آمروں خاص طور پر جنرل (ر) مشرف کے آئین شکنی کے طرز عمل سے دور ہونا چاہتی ہے۔ اگر جنرل راحیل شریف اب وہ کام کر گزریں جو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اورلیفٹیننٹ جنرل (ر) احمد شجاع نہ کرنا چاہتے تھے نہ کر سکتے تھے تو فوج کی توقیر میں اضافے کا باعث ہوگا۔

مزید : کالم